ایک معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) صوبہ بلوچستان کے شہر گوادر کے ساحل پدی زر سے ذرا آگے بڑھیں تو یہاں کے طویل قامت پہاڑ کوہ باتیل کے ساتھ ساتھ ماہی گیروں اور کشتی سازوں کی بستیاں دکھائی دیتی ہیں، یہ میرین روڈ ہے جس کے ختم ہوتے ہی پورٹ روڈ شروع ہو جاتی ہے جو آپ کو گوادر کی

بندرگاہ کی جانب لے جاتی ہے جسے پاکستان نے چین کے تعاون سے بنایا ہے۔لیکن بندرگاہ کے حفاظتی چیک پوائنٹ سے ذرا پہلے دائیں جانب گوادر کا کرکٹ سٹیڈیم ہے۔ کوہ باتیل کے دامن میں بنا گوادر کا یہ کرکٹ سٹیڈیم آپ کو رکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہ آرٹ کا ایک غیر معمولی نمونہ دکھائی دیتا ہے اور یہی انفرادیت اسے دنیا کے خوبصورت کرکٹ سٹیڈیمز کی فہرست میں شامل کرتی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ’سنہ 2017 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہمیں سٹیڈیم میں ہارڈ پچ بنانے کے لیے گوجرانوالہ سے 90 ٹن مٹی منگوا کر دی تھی جس سے سٹیڈیم کی تین پچز بنائی گئیں۔ یہ مٹی تین ٹرکوں میں منگوائی گئی اور ایک ٹرک کا کرایہ ڈیڑھ لاکھ روپے تھا۔ اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف کیوریٹر زاہد نے تین پچز، باؤنڈری روف اور دیگر لوازمات پاکستان کرکٹ بورڈ کی معاونت فراہم کرتے ہوئے بنوائے۔‘’اس وقت تک گوادر کے اس سٹیڈیم کے پاس کھیلنے کے حقوق یعنی پلئینگ رائٹس نہیں تھے کیونکہ سٹیڈیم کی رجسٹریشن نہیں ہوئی تھی۔ جس کے لیے یہ تمام انتظامات ضروری تھے پھر ایک سال کے کام کے بعد گوادر سٹیڈیم کو 2018 میں پلیئنگ رائٹس مل گئے۔‘سنہ 2017 میں نواز شریف نے گوادر کا دورہ کیا اور ایک ارب کا ترقیاتی فنڈ دینے کا اعلان کیا۔ اس وقت تو سٹیڈیم کے بارے میں کوئی پلان تیار نہیں تھا تو کچھ ہو نہیں سکا۔ بعدازاں گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اس سٹیڈیم کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے گرانٹ کا اعلان کیا۔ڈی جی جی ڈی اے شاہ زیب کاکڑ اور

چیف انجینیئر حاجی سید محمد نے گھاس لگوانے اور دیگر تزئین و آرائش کا کام کیا۔2017 میں حمید رشید ہنڈا گوادر، حاجی غنی، عبدالروف، در محمد، فیض کدواہی اور شیر جان کے تعاون سے ڈسٹرکٹ ایسوسی ایشن کے دفتر کو باقاعدہ رینویٹ اور اس کی ابتدا ڈی سی گوادر نعیم بازہی، برگیڈیئر اظفر کمال، سابق ناظم بابو گلاب، کریم نواز اور برکت کوسہ نے کی۔گوادر کرکٹ سٹیڈیم کے بالکل ساتھ پانی کی فلٹریشن کا پلانٹ ہے جسے ممبر چیمبر اینڈ کامرس نوید کلمتی کی درخواست پر صوبے کے وزیراعلیٰ جام کمال نے ٹھیک کروانے کا حکم دیا جس سے گوادر ڈویلمپنٹ اتھارٹی کو اسی پلانٹ سے ملنے والے پانی سے گراؤنڈ کو سر سبز کرنے میں مدد ملی۔

Comments are closed.