ایک معلوماتی رپورٹ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی کے قواعد کے مطابق کسی رکن اسمبلی کے استعفے سے پہلے یا بعد میں متعدد شرائط ہوتی ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہی استعفیٰ منظور ہوتا ہے اور نشست خالی قرار دی جاتی ہے ۔ استعفوں کی منظوری کے لئے کسی بھی وقت کی حد طے نہیں ، اسپیکر

اسمبلی اس عمل کو ایک وضاحتی مدت تک بڑھا سکتا ہے۔استعفوں کی منظوری کو روکنے کی ایک عمدہ مثال 2014-2015 میں سامنے آئی تھی جب اسپیکر نے کئی مہینوں تک اس طرح کی کارروائی کو طول دیا کہ بالآخر قومی اسمبلی کے تیس سے کم ارکان، جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف تھا، کی جانب سے اس طرح کے فیصلوں کی واپسی کا نتیجہ سامنے آیا۔ان شرائط اور اقدامات میں سب سے اہم بات اسپیکر کے استعفوں کی تصدیق اور اس کا اطمینان ہے کہ اس طرح کے خطوط حقیقی اور رضاکارانہ ہیں۔ (1) یہ کہ استعفے متعلقہ قانون ساز کی اپنی تحریر میں ہونا چاہئے۔ان کے دستخط شدہ ایک ٹائپ شدہ استعفے کا مطلب بھی ان کے ہاتھ سے لکھنا ہے۔(2) یہ کہ رکن اسمبلی کو استعفے ذاتی طور پر اسپیکر کے سپرد کرنا چاہئے۔ (3) یہ کہ وہ اسپیکر کو آگاہ کریں گے کہ استعفیٰ رضاکارانہ اور حقیقی ہے۔ (4) یہ کہ اسپیکر کے پاس قانون ساز کے ایسے دعووں کے برخلاف کوئی معلومات نہیں ہے۔(5) یہ کہ اگر اسپیکر کو کسی اور ذریعہ سے استعفیٰ موصول ہوتا ہے تو وہ خود کو مطمئن کرنے کے لئے ذاتی طور پر انکوائری کرے گا کہ استعفیٰ رضاکارانہ اور حقیقی ہے۔ (6) یہ کہ اپنے اطمینان کے لئے وہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ یا کسی اور ایجنسی کے ذریعہ ایسی تفتیش کروا سکتا ہے جس کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔نمبر سات یہ کہ اس کے بعد اسپیکر کے لئے لازم ہے کہ وہ استعفے کے بارے میں اسمبلی کو آگاہ کریں۔ (8) یہ کہ اگر اس وقت مقننہ کا اجلاس نہیں ہو رہا ہو تو ہر رکن کو فوری طور پر اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔(9) یہ کہ مستعفی ہونے کی تاریخ تحریری طور پر متعلقہ قانون ساز نے بتائی ہوگی۔ اگر اسے خط میں بیان نہیں کیا گیا ہے تو اسپیکر کے ذریعہ اس کی رسید کی تاریخ ہوگی۔(10) یہ کہ اسپیکر کے مطمئن ہوجانے کے بعد کہ استعفیٰ رضاکارانہ اور حقیقی ہے تو اسمبلی سیکریٹریٹ باضابطہ طور پر اس کا نوٹیفکیشن جاری کروائے گا کہ رکن نے چھوڑ گیا ہے۔(11) یہ کہ تب ہی وہ ایک کاپی چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کو ارسال کریں گے۔(12) یہ کہ اس سارے عمل کے بعد CEC اس خالی جگہ کو پر کرنے کے لئے اقدامات کرے گا۔پی ٹی آئی کے اب حکومت میں ہونے کے بعد کابینہ کے کے مختلف وزراء اب استعفوں میں تاخیر کرنے کے لئے حزب اختلاف کی جماعتوں کو ہر روز طعنے دے رہے ہیں، یہ اعلان کرتے ہوئے کہ تمام وفاقی اور صوبائی نشستیں خالی ہونے کیلئے ضمنی انتخابات کا فوری اعلان کیا جائے گا ۔

Comments are closed.