ایک معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہر سپاہی کو میدانِ کارزار میں بھوک اور پیاس لگتی ہے۔ راشن پانی نہ ہو تو بھوکا پیاسا سپاہی کب تک لڑ سکتا ہے؟ ہمارے گوریلا مشنز میں جانے والے ٹروپس کو گُڑ اور بھونے ہوئے چنے باندھ کر ایک تھیلی میں تھما دیئے جاتے تھے۔

پانی کی ایک بوتل بھی ساتھ کر دی جاتی تھی لیکن ترقی یافتہ ممالک میں آج کل ایسے کھانے بنا کر ان کے پیکٹ تیار کر دیئے جاتے ہیں جن کے استعمال سے بھوک اور پیاس کم لگتی ہے۔  خلائی شٹل میں بھیجے جانے والے خلانوردوں کو بالخصوص پہلے زمین پر ان کھانوں کا عادی بنایا جاتا ہے اور پھر خلا میں بھیجا جاتا ہے۔ لیکن زمینی افواج میں ابھی تک یہ ’خلائی ماڈل‘ متعارف نہیں کروایا جا سکا۔ پاکستانی (اور ہندوستانی) زمینی افواج میں تازہ کھانا اور تازہ پینے کا پانی فراہم کرنے کا انصرامی بندوبست ایک اہم موضوع ہے۔ لیکن جو سپاہ کوہستانی اور برفانی علاقوں میں معرکہ آرائی کرنے کے لئے تعینات کی جاتی ہے، اس کے لئے پینے کے پانی کا مسئلہ زیادہ گھمبیر ہوتا ہے۔ چنانچہ پانی کی فوجی اہمیت ایک مستقل بالذات موضوع ہے…… ایک مثال  1962ء کی انڈو چائنا وار ہے جو ایک ماہ (اکتوبر/ نومبر) تک جاری رہی۔ چینی ٹروپس، انڈین آرمی کو روندتے ہوئے آسام (گوہاٹی) تک آ گئے لیکن جب ان کے سامنے کلکتہ تک جانے کا راستہ صاف تھا تو وہ یکا یک جس تیز رفتاری سے آئے تھے، اسی تیزی سے واپس چلے گئے…… مورخین نے چینیوں کی اس اچانک واپسی کی کئی وجوہات بیان کی ہیں مثلاً بین الاقوامی دباؤ اور اپنی لاجسٹک لائن کی طوالت وغیرہ۔ لیکن حال ہی میں ایک چینی مورخ نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ چینی ٹروپس اس لئے واپس چلے گئے تھے کہ ان کے پاس پینے کا پانی ختم ہو گیا تھا۔ چینی فوج گرم (اور نیم گرم) پانی پینے کی عادی ہے اور نومبر دسمبر میں اسے گرم پینے کا پانی اپنے عقب میں واقع عقبی ہیڈکوارٹر (Rear HQ)سے لانا ایک مسئلہ بن گیا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.