ایک معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) شمالی کوریا نے ہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربے کا دعویٰ کیا اور اگر یہ درست ہے تو اب اس کا شمار ان چند ممالک میں ہوگا جن کے پاس یہ خطرناک ہتھیار موجود ہے۔دنیا میں موجود ایٹمی ہتھیار عموماً دو اقسام کے ہیں یعنی ایک ایٹم بم (اے بم) جو کہ جاپان کے

شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکا نے برسائے تھے اور دوسرے زیادہ خطرناک قسم کے ہائیڈروجن بم جنہیں تھرمو نیوکلیئر بم (ایچ بم) کہا جاتا ہے۔ان ہتھیاروں کی تیسری قسم ‘ان ہینس ریڈی ایشن (ای آر)’ کہلاتی ہے جنہیں ماضی میں نیوٹران بم بھی کہا جاتا تھا لیکن اب ان زیادہ استعمال نہیں کیا جاتا۔ کس کس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں؟ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، روس اور امریکا کے پاس آفیشل طور پر ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جب کہ پاکستان اور ہندوستان بھی ایسے ممالک شامل ہیں جو کہ ان ہتھیاروں کا تجربہ کر چکے ہیں. اسرائیل کو بھی ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے تاہم اس نے کبھی اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ایٹم بم (اے بم ) : ایٹم بم طبیعات کے قانون نیوکلیئر فشن پر کام کرتے ہیں جس میں یورینیم کا ایٹم ایک سے زائد زرات میں تقسیم ہو کر بڑے پیمانے پر توانائی کا اخراج کرتا ہے۔ اس ہتھیار کا سب سے پہلا تجربہ امریکا نے جولائی 1945 میں نیو میکسیکو میں کیا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.