ایک معنی خیز تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) شاہی تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ یہ وہ ایام تھے جب ڈیانہ اپنے شوہرِ نامدار کے ہرجائی پن سے تنگ آکر کسی گوشہ ء عافیت کی تلاش میں تھیں۔ انہوں نے بہت جگہ دل لگانے کی کوششیں کیں اور ملکوں ملکوں ماری ماری پھریں لیکن دل کی بے قراری کو

قرار نہ آ سکا۔ نامور مضمون نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔حالانکہ صاحب اولاد تھیں پھر بھی اپنے میاں سے نجانے کیوں نالاں رہا کرتی تھیں۔میاں سے پوچھا گیا تو ان کا مضمون بھی واحد تھا۔ انہوں نے بھی کئی بار ڈیانا کو برملا جتلایا: ”ہم وفادار نہیں، تو بھی تو دلدار نہیں“…… لیکن لیڈی ڈیانہ مان کر نہیں دیتی تھیں …… وہ چونکہ شاہی خانوادے کی ”چشم و شمع“ نہیں تھیں (چراغ کی مونث چونکہ شمع ہے اس لئے محاورے کے غلط سلط ہونے کی معذرت) اس لئے آدابِ شاہی کی نزاکتوں سے چنداں باخبر نہیں تھیں۔ وہ اپنے شہزادے کو بھی سمجھا سمجھا کر تنگ آ گئی تھیں لیکن وہ بھی غالب کی طرح وفاداری بشرطِ استواری کے رسیا تھے۔ ایک ”گئی گزری“ حسینہ پر ان کا دل آیا ہوا تھا۔ان کا اسم گرامی کامیلا تھا۔ 22برس تک اینڈریو پارکر کی بیوی رہیں۔ 2005ء میں شہزادہ چارلس کے حبالہء عقد میں آئیں۔آج 72سال کی ہو چکی ہیں۔ چارلس سے عمر میں بڑی ہیں۔ شادی سے پہلے کئی بار یہ جوڑا رنگے ہاتھوں پکڑا بھی گیا لیکن مجال ہے دونوں اپنی ڈگر سے ایک انچ بھی اِدھر اُدھر ہوئے ہوں۔ وہ تو جب فرانس کی ایک سرنگ میں ایک کار کے حادثے میں لیڈی ڈیانہ اپنے ایک دوست دودی فیض کے ہمراہ راہی ء ملک بقا ہو گئیں تو چارلس نے ”غم غلط کرنے کے لئے“ اپنی سابقہ محبت سے بیاہ رچا لیا…… پرنس ولیم جو آج کل پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں وہ پرنس چارلس (اور ڈیانہ مرحوم) کے بڑے صاحبزادے ہیں ……میری مرحومہ خوشدامن صاحبہ نے جب ڈیانہ کی بے وقت موت کی خبر سنی تھی اور ساتھ یہ بھی سنا تھاکہ وہ دو جوان جہان بچوں کی ماں اور جواں سال ولی عہد پرنس چارلس کے ہوتے ہوئے بھی ایک مصری کے ساتھ دار فانی کو سدھار گئی تھیں تو بے ساختہ فرمایا تھا: ”ہائے ہائے اس موئی کو کیا پڑی تھی کہ سمندر میں بسنے کے باوجود پیاسی تھی!“ برطانوی شاہی خاندان کی تاریخ اس قبیل کی ایسی ہی درجنوں ”انہونیوں“ سے بھری پڑی ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم کے والد شہنشاہ جارج ششم کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن تاجِ خسروی ان کے سر سجے گا۔ وہ تو جب ان کے بڑے بھائی ایڈرڈ ہشتم نے بظاہر ایک ”گئی گزری“ امریکی خاتون (مسز سمپسن) سے عہدِ وفا نبھانے کے لئے تاجِ شاہی کو ٹھوکر مار دی تو اچانک چھوٹے بھائی کا نصیب جاگا اور جب ان کا انتقال ہو گیا تو اولادِ نرینہ نہ ہونے کی وجہ سے ملکہ الزبتھ دوم کو تاجِ شاہی پہنا دیا گیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.