ایک نامور خاتون ڈاکٹر کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار ڈاکٹر صغریٰ صدف اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ مذاہب میں چچا زاد، خالہ زاد، ماموں زاد اور پھپھی زاد سے شادی نہ صرف ناپسندیدہ سمجھی جاتی ہے بلکہ ممنوع قرار دی جاتی ہے کیونکہ اُن کے ہاں خالہ، چچا، پھپھو اور ماموں کی بیٹی بیٹے کو بھی بہن

بھائی ہی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر رشتے خاندان کے انہی تانوں بانوں میں بُنے جاتے ہیں اور اگر کوئی لڑکا خاندان سے باہر شادی کرنے کی غلطی کر لے تو پھر ایسی ناراضیاں جنم لیتی ہیں جو عمر بھر پھلتی پھولتی رہتی ہیں۔ لڑکا پڑھ لکھ جائے، خصوصاً افسر بن جائے تو پھر توقع ہی نہیں کی جاتی بلکہ اس پر حق جتایا جاتا ہے کہ وہ کسی بیگانے خاندان کی پرائی لڑکی کو سہولتوں بھری زندگی دینے کی بجائے اپنے خاندان کی لڑکی سے شادی کرے۔ اسی طرح پڑھی لکھی لڑکی کو بھی کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ ماضی میں تو اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کی اپنے ماموں، چچا، خالہ یا پھپھو کے بالکل ان پڑھ لڑکوں سے شادی عام بات تھی۔ یوں شادیوں کا زیادہ تناسب پسند کی بجائے سمجھوتے کے جبر سے جڑا ہوا ہے۔ مذہب کی رو سے دیکھا جائے تو ہمارے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے عملی طور پر خاندان اور قبیلے کو وسعت دی۔ ان کی تمام ازواج مطہرات مختلف قبائل سے تعلق رکھتی تھیں۔ اگر ہم نسل در نسل اپنے ہی خاندانوں میں شادیاں کرتے رہیں تو پھر اپاہج اور مختلف بیماریوں کا شکار بہت کمتر ذہنیت کے حامل بچے جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں ایک بہت بڑا تناسب ایسے بچوں کا ہے جو اوسط ذہنیت کے مالک ہیں اور اس کے پیچھے بھی یہی خاندان میں ہونے والی نسل در نسل شادیاں ہیں۔چند روز قبل سندس فاؤنڈیشن جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں نے تقریباً ساٹھ پینسٹھ بچوں سے بات کی جن میں ہر عمر کے بچے شامل تھے

جو شیر خوار تھے، ان کے والدین سے مکالمہ کیا۔ مجموعی طور پر یہ بات سامنے آئی کہ وہاں موجود تھیلسیمیا کے مریض بچوں میں ننانوے فیصد وہ بچے ہیں جن کے والدین آپس میں فرسٹ کزن ہیں۔ پاکستان میں اس مرض کے ساتھ ہر سال نو ہزار بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ یوں تھیلسیمیا ایسی خوفناک بیماری ہے جسے والدین خود پال رہے ہیں اور اپنے بچوں کی ناکام زندگی کا سبب بن رہے ہیں۔ خدا نے کسی کو نامکمل بنا کر بھیجا نہ بدصورت پیدا کیا بلکہ خدا ہر بچے کو مکمل روح دے کر بھیجتا ہے۔ بچے کا ظاہری وجود والدین کی کوتاہیوں کے باعث نقص کا شکار ہوجاتا ہے۔ کچھ ادویات کے استعمال کے باعث بھی بچوں میں اپاہج پن اور دیگر مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ حیرت اس وقت ہوئی جب ایک 24 سال کی لڑکی جو وہاں خون لگوا رہی تھی نے بتایا کہ نہ صرف اس کے والدین آپس میں کزن تھے بلکہ اس کی شادی بھی اس کے ماموں کے بیٹے سے ہو چکی ہے۔ اب اندازہ لگائیے جو پہلے ہی مریض ہے، وہ بھی اپنے ہی خاندان میں شادی کر رہا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک نہیں رُکا۔ ایک اور مریض لڑکے لڑکی سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ دونوں آپس میں شادی کر چکے ہیں اور ان دونوں کی ملاقات بھی اسی فاؤنڈیشن میں ہوئی تھی۔ مجھے متذبدب دیکھ کر کہنے لگے ہم نے اگلی نسل پیدا نہیں کرنی، ہم نے تو ایک دوسرے کو سہارا دینے کے لیے اور زندگی کے کچھ لمحے بہتر بنانے کے لئے شادی کی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پیدائشی طور پر تھیلیسیمیا کے مریضوں کی عمر ایک مخصوص دور کے بعد ختم ہو جاتی ہے عموماً 24، 25 یا 26 سال کی عمر میں وہ انتقال کر جاتے ہیں۔ ایک بچی دیکھی جس کی عمر 18 سال ہو چکی تھی لیکن اس کی نشوونما سات آٹھ سال کے بچے جتنی تھی۔پاکستان میں صحت مند اور ذہین نسل کے لئے ہم سب کو آگاہی مہم کو بہتر کرنے بلکہ قانون کی شکل دینے کی طرف بڑھنا چاہئے۔ نوجوانوں کی شادی کے وقت نہ صرف ان کے خون کا ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے بلکہ اپنے انتہائی قریبی رشتہ داروں میں شادی سے بھی اجتناب کرنا چاہئے۔ ہم ایک صحت مند اور خوشحال سرزمین پر بستے ہیں پھر ہمارے ہاں ذہین، فطین لوگوں کی بڑی تعداد پیدا کیوں نہیں ہوئی جو سائنس کی ایجادات میں کوئی کارنامہ سرانجام دیتی؟ ہمارے وہ بچے جو ترقی یافتہ ممالک کی بڑی یونیورسٹیوں کے سند یافتہ ہیں انہوں نے بھی کوئی کمال کیوں نہیں کیا؟ معاشرے میں پھیلی ذہنی پسماندگی کے عوامل بھی اوسط ذہنیت ہی ہے جو بنیاد پرستی کے دائروں میں اُلجھ کر دوسروں کے لئے بھی مسائل پیدا کرتی ہے۔ ہم رشتہ داری نبھانے اور وقتی مفاد کے لئے ایک نسل کی قربانی دینے کے مجاز نہیں ہیں اور نہ ہی معصوم بچوں کی اکھڑتی سانسوں کو نااُمیدی سے بھری زندگی گزارنے اور لمحہ لمحہ موت کی دستک سننے پر مجبور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں تھیلسیمیا کے مریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ان کے لئے خون اور ادویات کا انتظام کرنا والدین کے بس کی بات نہیں اس لئے ایسے اداروں کو اپنی خیرات و زکوٰۃ کے لئے ترجیح بنائیں۔ جو زندگیاں جنم لے چکیں ان کو اذیت سے بچانے کے لئے کردار ادا کریں یقینا خدمتِ خلق بہترین عبادت ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *