ایک چینی بزنس مین نے پاکستانیوں کو آئینہ دکھا دیا

لاہور (ویب ڈیسک ) نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔حضرت علیؓ فرماتے ہیں … ’’اپنی خواہشات کو کبھی بھی بے لگام مت چھوڑیں کیونکہ یہ اگر باغی ہو جائیں تو حرام حلال اور جائزو ناجائز کچھ بھی نہیں دیکھتیں‘‘… خواہشات کو لگام دینےوالے ہی عظیم لوگ ہوتے ہیں۔

وہی حرام حلال اور جائز و ناجائز سے بچتے ہیں ورنہ دولت کی ہوس لوگوں کو کہاں بچنے دیتی ہے، لوگ تو لوگوں سے جائیدادیں چھین لیتے ہیں، مجبوریوں کے منہ میں آئے ہوئے انسانوں سے منہ مانگی قیمت (رشوت) وصول کرلیتے ہیں، انسان خواہشات کی تکمیل کے چکر میں اپنے جیسے انسانوں کو زندگی سے محروم کرتے ہیں،ظلم کرتے ہیں۔کچھ اقتدار کے سرور میں بہت کچھ کر جاتے ہیں۔ لوگ محض حکمرانوں کی نظروں میں اچھا بننے کےلئے خوشامدی بن جاتے ہیں، ذرا سی شہرت پانے کےلئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اور خاک کی حیثیت رکھنے والی دولت کی چاہت میں اندھے ہو جاتے ہیں مگر بعض لوگ ان باتوں سے دور رہ کر سادگی میں زندگی گزارتے ہیں۔ جیسے اپنے پیارے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے زندگی بسر کی۔نہ انہیں شہرت کی طلب تھی، نہ دولت کی خواہش، بس وطن کی محبت میں بہت کچھ برداشت کرکے محبتوں کو سمیٹ کر رخصت ہوئے۔ اسلام آباد میں اس دن ابررحمت برستا رہا جس روز ملت کے محسن کو لحد میں اتارا جا رہا تھا۔ پاکستان کا پرچم ان کے لئے سرنگوں ہوگیا۔ انسان چاہے جتنے برس جی لے، اسے ایک نہ ایک دن موت کے حوالے ہونا ہی ہوتا ہے، سفر کی مانند زندگی کیلئے لوگ پتہ نہیں کیوں حرام حلال کی تمیز نہیں کرتے، پتہ نہیں کیوں جائز و ناجائزطریقے سے دولت کے انبار لگانا چاہتے ہیں، ظلم کرتے ہیں اور ظلم کرتے ہوئے شرم بھی محسوس نہیں کرتے بلکہ ہمارے ہاں دھوکا۔فریب اور جھوٹ کی کمی نہیں، ملاوٹ بھی بہت ہے، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری عام سی باتیں ہوگئی ہیں۔

ہمارے ہی متعلق چین کا ایک تاجر کہتا ہے . . . ’’جب مسلمان تاجر میرے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمارے ماڈل پر انٹرنیشنل کمپنیوں کے جعلی لیبل اور برانڈ کے نام لکھ دو، مگر جب میں انہیں کھانے کی دعوت دیتا ہوں تو وہ یہ کہہ کر انکار کردیتے ہیں کہ آپ کا کھانا حلال نہیں، تو میں سوچتا ہوں جعلی سامان بیچنا ان کیلئے حلال ہے؟. . .‘‘ اس چینی تاجر کو کیا پتہ کہ ہمارے تاجر سارا سال لوگوں پرظلم کرنے کے بعد آخری عشرے کیلئے مقدس شہروں میں پہنچ جاتے ہیں۔خواہشات کے آئینے میں میرے ایک عظیم دوست نے ایک مکالمہ بھیجا ہے، یہ مکالمہ آپ کی نذر کر رہا ہوں۔ ایک آدمی دوسرے سے پوچھتا ہے کہ یار یہ بتائو کہ آج کل اتنی غربت کیوں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا، میرا خیال ہے آج اتنی غربت نہیں جتنا لوگوں نے شور مچا رکھا ہے۔ لوگ جس کو غربت بولتے ہیں وہ دراصل خواہشات کا پورا نہ ہونا ہے۔ہم نے غربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ اسکول میں تختی پر ملنے کیلئے گاچی کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو بس ہم مٹی سے کام چلا لیا کرتے تھے۔ سلیٹ پر لکھنے کیلئے سلیٹی کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو ہم بجری کا کنکر استعمال کرلیتے تھے۔ جو کپڑے اسکول کے لئے لیتے تھے وہی عید پرپہن لیا کرتے تھے۔ اس دوران اگر کسی شادی بیاہ کے لئے کپڑے خریدنے پڑتے تو ہم اسکول یونیفارم کے رنگ کے کپڑے لیتے۔ اگر کپڑے پھٹ جاتے تو بار بار سلائی کرکے پہنتے۔ جوتا پھٹ جاتا تو اس کی بھی سلائی کرواتے اور یاد رہے

کہ جوتا بھی مہنگا نہیں،پلاسٹک کا ہوتا تھا۔ اگر گھر میں کوئی مہمان آ جاتا تو گھی، نمک یا مرچ کوئی نہ کوئی چیز ہمسائیوں سے لیتے۔ آدمی نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا یہ ہمارا دور تھا اور ایک آج کا دور ہے، آج ماشا اللہ ہر گھر کے لوگ مہینے کا اکٹھا سامان لے آتے ہیں۔ جتنے لوگوں کی چاہیں دعوت کرسکتے ہیں۔آج اسکول کے بچوں کے پاس دو تین یونیفارم ضرور ہوتے ہیں، آج کے اکثر بچوں کو گاڑیاں چھوڑنے آتی ہیں، ہمارے دور میں تو ایساسوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، زیادہ تر پیدل مارچ ہی ہوتا تھا۔کسی پر بڑی مہربانی ہو جاتی تو اسے سائیکل لے دی جاتی مگر آج لوگوں کی حالت تو دیکھئے آج چلتا پھرتا نوجوان غربت کا رونا روتا ہے جبکہ اس کے پاس تیس، چالیس ہزار کا موبائل فون ہوتا ہے، کم از کم پانچ ہزار کا لباس اور اسی طرح کم از کم تین ہزار کا جوتا پہن رکھا ہوتا ہے۔اگر کسی شادی پر جانا ہو تو مہندی، بارات اور ولیمے کے لئے کپڑے اور جوتے الگ الگ خریدے جاتے ہیں جبکہ ہمارے دور میں ایک چلتے پھرتے انسان کے پاس تین سو کا لباس اور دو سو تک کا جوتا ہوتا تھا، جیب عموماً خالی ہی ہوتی تھی۔ اب کونسی غربت ہے، غربت تو وہ تھی جب گھر میں بتی جلانے کیلئے تیل ختم ہو جاتا تھا اور پھر ہم سرسوں کے تیل میں روئی ڈبو کر چراغ یا لالٹین جلاتے تھے۔ آج کے دور میں خواہشات کی تکمیل کا خیال ہی دراصل غربت ہے۔ آج اگر کسی کے پاس شادی یا عید کیلئے تین جوڑے نئے کپڑے سلوانے کی توفیق نہ ہو تو وہ خود کو غریب سمجھتا ہے۔ خواہشات کے پورا نہ ہونے کا نام غربت ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ پہلے ہمارے معاشرے میں درجہ بندی کم تھی، لوگ کم و بیش ایک جیسے تھے۔ پتہ نہیں خواہشات کے گھوڑے پر سوار لوگوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ بقول حیرت الٰہ آبادی ؎آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں۔۔سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

Comments are closed.