ایک یادگار واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) میانداد اور عمران خان دونوں کھلاڑیوں پر دولت اور حسن عاشق تھے، میانداد نے شروع میں ہی سہگل خاندان میں شادی کرلی جبکہ عمران خان نے کافی عرصے کے بعد لیڈی جمائما سمتھ کے ساتھ پہلی شادی کی۔دولت جاوید میانداد کے گھر کی باندی رہی، اپنے بیٹے کی شادی ٹائیگر میمن کی بیٹی کے ساتھ کی۔

نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں انہیں دولت سمیٹنے کی ذرا فکر نہیں، الٹا وہ اس سے بالکل مبرا نظر آتے ہیں۔کورونا کے بعد کی دنیا میں دیکھنا ہوگا کہ کیا دنیا داری باقی رہے گی یا دنیا سے بیزاری آئے گی۔ کہتے ہیں کہ جب دنیا میں لڑائیوں وبا، آفت یا معاشی زوال آتا ہے تو دو طرح کے رویے پیدا ہوتے ہیں؛ کچھ لوگ مکمل طور پر مطلب پرست ہو جاتے ہیں، دنیا داری کی دوڑ میں پڑ جاتے ہیں، سماجی کھینچا تانی بڑھ جاتی ہے، انارکی اور بےاطمینانی کا دور دورہ ہو جاتا ہے جبکہ دوسری طرح کا جو رویہ پیدا ہوتا ہے وہ دنیا سے بیزاری اور مال و دولت پر بےاعتباری کی صورت منتج ہوتا ہے۔ معاشی افراتفری کے زمانے میں ہمیشہ جوگی، درویش، ملنگ اور قلندر مقبول ہوتے ہیں۔گزشتہ روز جاوید میانداد کی درود تاج پڑھنے کی وڈیو وائرل ہوئی تو مجھے میانداد سے اپنی ملاقاتیں اور ان کی ماضی کی شان و شوکت یاد آگئی، جس خلوص اور دردِ دل کے ساتھ وہ درود پاک پڑھ رہے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ ان کے دل کا رشتہ اس دنیا سے نہیں ہے بلکہ کہیں اور ہی اٹکا ہوا ہے۔لاہور ملاقات کے دوران ہی ایک فیملی میانداد کو دیکھ کر کھڑی ہوگئی، ان کے ساتھ ان کا اسپیشل بچہ بھی تھا، میانداد نے ناصرف بچے کے ساتھ تصویر بنوائی بلکہ بچے سے کسی نامانوس زبان میں پندرہ بیس منٹ گفتگو کرتے رہے۔ہم حیران تھے کہ اسپیشل بچے سے یہ کیا باتیں کر رہے ہیں اور کون سی زبان بول رہے ہیں؟

تھوڑی دیر کے بعد میں نے پوچھا کہ میانداد صاحب! یہ کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ تھوڑا سا جھینپے اور پھر مسکرا کر کہنے لگے، ان لوگوں کی ایک اپنی دنیا ہے، ان کی اپنی زبان ہے۔ اور پھر سنجیدہ ہو کر بولے، بھائی دنیا یہی چلا رہے ہیں، یہ روحانی دنیا کے لوگ ہی اصل میں دنیا چلاتے ہیں، میرے ذہن میں فوراً قدرت اللہ شہاب اور ان کے مکتبِ فکر کی سوچ آگئی کہ یہ درویش، فقیر، ابدال اور قطب خدا کی طرف سے مقرر کردہ ہوتے ہیں اور یہی خفیہ طور پر اس دنیا کو چلا رہے ہوتے ہیں۔ میانداد کی وضاحت پر مجھے ان کا فلسفہ سمجھ آگیا اور میں خاموش ہوگیا، وہ پردہ داری رکھنا چاہتے تھے اور میں گستاخ نہ تھا۔کرکٹ کا تعلق اور دوستیاں بھی گہری ہوتی ہیں، کھلاڑی ریٹائر بھی ہو جائیں تو ان کے تعلقات زندگی بھر چلتے ہیں۔ ان کی باتیں، کرکٹ کی کہانیاں اور لطائف ان کی گفتگو میں موضوعات کی کمی نہیں ہونے دیتے۔جاوید میانداد اور عمران خان کی دوستی اور تعلق اب بھی قائم ہے۔ عام تاثر تو یہ ہے کہ شاید کرکٹ کھیلنے کے زمانے میں ان کے درمیان کوئی تنائو یا کشمکش تھی، میانداد اس تاثر کی یکسر نفی کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم دونوں مل کر ٹیم کی حکمتِ عملی طے کرتے تھے۔ میانداد سیاست میں نہیں آئے لیکن عمران کو کئی بار مشورے دیے، ان سے مسلسل ملاقاتیں بھی کرتے رہے۔ میانداد نے بتایا کہ دھرنے کے دوران عمران خان کو زندگی سے محروم کرنے کی سازش تیار کی گئی تھی، میں نے جاکر عمران خان کو متنبہ کر دیا اور یوں وہ اس سے بچ گئے۔کافی عرصہ ہوا میری میانداد سے ملاقات نہیں ہوئی، اس لیے کالم کے ذریعے ان سے پوچھ رہا ہوں کہ کورونا سے بچنے کیلئے کیا کریں، اس کا حل بتائیں، وہ اپنے دوست وزیراعظم عمران خان کو بھی ایسے مشورے دیں کہ وہ قوم کو اس نازک ترین صورتحال سے بچا کر نکل جائیں۔میرے علم میں ہے کہ جاوید میانداد کراچی سے باہر مقیم کسی درویش کے پاس باقاعدگی سے جاتے ہیں اور ان سے فیض پاتے ہیں، میری درخواست ہے کہ درویش باصفا سے ہی کوئی نسخہ لے کر قوم کو بھجوائیں تاکہ ہم عامیوں کی زندگی محفوظ و مامون ہو سکے۔کہتے ہیں کہ مشہور شخصیات زندگی میں جو بھی کریں اس کی خبر بنتی ہے، میانداد چاہے دنیا تیاگ کر جوگ اختیار کر لیں یا صوفی کا راستہ اختیار کر لیں، لوگ ان کے بارے میں اب بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔میانداد کرکٹ میچ کے بحران میں پھنسی قوم کو اپنی بلے بازی اور تیز دوڑوں سے بچایا کرتے تھے، اس وقت بھی قوم ایک بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے، ان کے پرانے دوست وزیراعظم عمران خان بہت زور لگا رہے ہیں، میانداد بھی ماضی کی طرح کندھا لگا کر دیکھیں، شاید کام بن جائے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *