ایک یہودی کے انٹرویو سے حیران کن اقتباس

کراچی (ویب ڈیسک) چھوٹی سی یہودی برادی کے رکن کا ایک غیر معمولی انٹریو میں کہنا ہے کہ وہ پاکستانی صیہونی ہیں۔ فیشل خالد، جنہوں نے گزشتہ سال تاریخ رقم کی جب پاکستانی حکومت نے انہیں اسرائیل جانے کی اجازت دی، کا کہنا ہے کہ وہ ’جوڑی دار اقوام‘ اسرائیل اور

پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں فیشل کا کہنا تھا کہ وہ 99 فیصد افراد کو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے جن سے ان کا ملنا جلنا ہوتا ہے۔ اور جب وہ صیہونیوں کی چھوٹی سی گول ٹوپی پہنتے ہیں تو وہ اسے بیس بال کی ٹوپی کے نیچے چھپا لیتے ہیں۔ خالد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہودی مخالف مختلف درجے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں کنیسہ (یہودیوں کی عبادت گاہ) کو بدامنی کے دنوں میں نذرآتش کردیا گیا تھا جو 1948 میں اسرائیل بننے کے بعد پھوٹ پڑ ےتھے

Sharing is caring!

Comments are closed.