اے آر وائی نے ویڈیو اسکینڈل کے کردار ناصر بٹ سے بھی معافی مانگ لی ،

لندن (ویب ڈیسک )پاکستان کے معروف ٹی وی چینل ” اے آر وائے نیوز “ نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بعد اب برطانوی عدالت کے سامنے ’ ناصر بٹ ‘ سے پر بے بنیاد الزامات لگانے کا اعترا ف کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے

اور ساتھ ہی ہرجانہ اور جرمانہ ادا کرنے کیلئے رضا مندی ظاہر کر دی ہے ۔ ن لیگی رہنما ناصر بٹ کا نام اس وقت سامنے آیا جب مریم نواز نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک کی ویڈیو ریکارڈنگ جاری کی جس میں جج ارشد ملک نے یہ دعویٰ کیا کہ نوازشریف کے خلاف ناکافی ثبوتوں کے باوجود انہیں مجبوری میں سزا سنانی پڑی کیونکہ مجھے ایک پرانی ویڈیو دکھا کر پریشرائز کیا جاتا رہا ، اس ویڈیو میں ناصر بٹ جج ارشد ملک سے بات چیت کر رہے تھے ۔اے آر وائے نیوز کے برطانیہ میں پروگرام نشر کرنے والے چینل ” این وی ٹی وی “ (NVTV)نے معافی نامے میں کہاہے کہ ” ناصربٹ نے ہمیں بتایا ہے اور ہم ان کا موقف تسلیم کرتے ہیں کہ ان پر سنگین مقدمات کے علاوہ پاکستان میں قانون سے بھاگ کر برطانیہ میں پناہ لینے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ہم ناصر بٹ سے معذرت کرتے ہیں اور ہم ہرجانہ دینے کے ساتھ ساتھ ان کی وکلا کی فیسیں بھرنے کا بھی عہد کرتے ہیں۔“ ادارے نے معافی نامے میں مزید لکھا کہ انہوں نے 14 جولائی 2019 کو پروگرام نشر کیا تھا جس میں وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے الزام عائد کیا تھا کہ ناصر بٹ پاکستان میں قانون سے بھاگ کر برطانیہ میں بیٹھے تھے۔ اس کے علاوہ 7 جولائی کو چینل پر چلنے والی ایک رپورٹ میں ان پر لگائے گئے الزامات پر بھی معذرت طلب کی گئی ہے۔اس موقع پر حکومتی عہدیداروں اور متعدد ٹی وی چینلز کے اینکرز اور رپورٹرز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ناصر بٹ ایک جرائم پیشہ شخص تھے۔ یہ الزامات انہوں نے اے آر وائے نیوز پر بیٹھ کر لگائے تھے اور NVTV جو کہ برطانیہ میں ARY کا مواد نشر کرتا ہے، یہ اس پر بھی نشر کیے گئے تھے۔ناصر بٹ نے برطانوی عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا تھا ، اس مقدمے میں NVTV کے علاوہ جیو نیوز، دنیا ٹی وی، ہم نیوز، سماءاور 92 نیوز بھی فریق ہیں لیکن سب سے پہلے NVTV نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے دعوے کو درست تسلیم کیا ہے اور نہ صرف اپنے چینل پر معافی نشر کی ہے بلکہ جرمانہ ادا کرنے، ناصر بٹ کے وکلا کی فیس ادا کرنے اور ان کی ہتکِ عزت کے عوض ان کو ہرجانہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

Comments are closed.