اے سی نارووال تہنیت بخاری کو کیے کی سزا مل گئی

لاہور (ویب ڈیسک) کورونا وائرس لاک ڈاؤن میں عیدالفطر سے قبل پابندی کے باوجود خریداری کرنے کے لئےبازار آنیوالی خواتین کی سر عام تذلیل کرنے پر پنجاب حکومت نے اسسٹنٹ کمشنر نارووال سیدہ تہنیت بخاری کو آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی ( او ایس ڈی ) بنا دیا۔تفصیلات کے مطابق 12 مئی کو

سوشل میڈیا پر واقعے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا گیا کہ نارووال اے سی تہنیت بخاری نے کوویڈ 19 لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے الزام میں ایک بازار میں دو خواتین کی سر عام تذلیل کی ،اسلام پورہ سے تعلق رکھنے والی دو خواتین شاپنگ بیگ میں جوتے کا ڈبہ پکڑی ہوئی تھیں۔ اسسٹنٹ کمشنر نارووال نے ریونیو عملہ اور پولیس اہلکاروں کے ہمراہ خواتین کی تذلیل کرتے ہوئے شاپنگ بیگ کو اپنے ہاتھوں میں چیک کیا اور ان سے پوچھا کہ انہوں نے جوتے کہاں سے خریدے ہیں۔ خواتین نے اے سی کو بتایا کہ انہوں نے کچھ دن پہلے ہی جوتے خریدے تھے۔ انہوں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ جوتے تبدیل کرانے کیلئے آئی ہیں ، اے سی نے خواتین کو وارننگ دی کہ وہ انہیں قید میں ڈال دیں گی ، اسی دوران میں خواتین کا ایک مرد ساتھی بھی وہاں آگیا ،جس کی مزاحمت کے بعد اے سی کا ان سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے خواتین کے لواحقین کو دھکے دیے جب کہ راہگیروں کی مداخلت کے بعد یہ معاملہ ختم ہوگیا۔واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے ساتھ ہی اعلیٰ صوبائی عہدیداروں نے سخت کارروائی کی اور سیدہ تہنیت بخاری کو سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (ایس اینڈ جی اے ڈی) کو آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) کی حیثیت سے رپورٹ کرنے کا حکم دیا۔محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن نے بھی اس کی تصدیق کر دی ۔

Comments are closed.