بابر اعظم یا محمد رضوان : بڑا کھلاڑی کون ۔۔۔۔؟؟

لاہور (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم جب پاکستان پہنچی تھی تو وہ شاہین شاہ آفریدی اور بابراعظم کو قابو کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ اس کے چھ کھلاڑی کا کووڈ کے ہاتھوں کلین بولڈ ہوجائیں گے۔

اس مشکل صورتحال کے باوجود ویسٹ انڈیز نے جاتے جاتے اپنے میزبانوں کو حیران کرتے ہوئے تین وکٹوں پر 207 رنز اسکور بنادیا لیکن بابراعظم اور محمد رضوان کی شاندار بیٹنگ نے پاکستان کی 7 وکٹوں کی جیت پر مہر تصدیق کردی۔یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے بڑا ہدف ہے جو پاکستان نے کامیابی سے عبور کیا ہے۔پاکستان نے ساتویں مرتبہ تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کیا ہے۔ ان سات میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم تیسری مرتبہ اس ہزیمت سے دوچار ہوئی ہے۔چھ کھلاڑیوں کے مثبت کووڈ ٹیسٹ کے سبب تمام روز پائی جانے والی بے یقینی کی کیفیت مہمان ٹیم پر کتنا اثرانداز ہوئی ہے اس کا اندازہ ٹاس کے وقت ہی ہوگیا جب کپتان نکولس پورن کمنٹیٹر سائمن ُڈول کے سوال پر یہ کہہ گئے کہ ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئی ہیں لیکن وہ دو ہی کے نام بتا پائے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ویسٹ انڈین ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔اکیل حسین اور شائی ہوپ کے کووڈ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ڈیرن براوو اور گوڈاکیش موتی کو کھیلنے کا موقع ملا ہے۔ موتی کا یہ پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ہے۔پاکستانی ٹیم بھی دو تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری ۔ حارث رؤف اور شاہین شاہ آفریدی کو آرام دے کر محمد حسنین اور شاہنواز دھانی ٹیم میں شامل کیے گئے۔ویسٹ انڈیز نے پچھلے دونوں میچوں میں ہدف کا تعاقب کیا تھا جس میں اسے کامیابی نہیں ہوئی تھی اس بار اس نے ٹاس جیتنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی ٹیم کے لیے ہدف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔

ویسٹ انڈیز کو جس آغاز کی ضرورت تھی وہ برینڈن کنگ کی جارحانہ بیٹنگ نے اسے فراہم کردیا۔ انہوں نے نواز کے پہلے ہی اوور میں دو چوکے لگائے اور پھر انہی کے دوسرے اوور میں دو چوکوں اور ایک چھکے سے ان کی تواضح کی۔محمد حسنین بھی ان کی جارحیت سے نہ بچ سکے ۔محمد وسیم جونیئر اپنے پہلے اوور میں اس طوفان کو روکنے میں کامیاب ہوگئے۔ کنگ نے صرف 31 گیندوں کا سامنا کیا اور دو چھکوں اور سات چوکوں کی مدد سے 43رنز بنائے۔اسی اننگز نے ویسٹ انڈیز کا اسکور پاور پلے کے چھ اوورز میں 66 تک پہنچادیا۔دوسرے اوپنر بروکس نے بھی پاکستانی بولرز کو تگنی کا ناچ نچایا۔وہ 27 کے اسکور پر محمد نواز کی وکٹ بن جاتے لیکن لانگ آن پر حسنین اور افتخار یہی سوچتے رہ گئے کہ کس نے کیچ لینا ہے۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بروکس 49 رنز بنا گئے جس میں 2 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔شاداب خان جیسا ذہین بولر بھی ان سے خود کو نہ بچا سکا جن کے دوسرے اوور میں تین چھکوں نے شائقین کی معمولی تعداد میں دلچسپی پیدا کردی۔کپتان نکولس پورن نے ٹاس کے وقت کی اپنی گھبراہٹ کو بیٹنگ پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ افتخار احمد کے ایک اوور میں دو چھکے لگانے کے بعد انہوں نے محمد حسنین کو بھی اپنے نشانے پر لیے رکھا اور ان کے اوور میں دو چوکے اور ایک چھکا لگا کر ان کے چار اوورز 49 رنز کے مہنگے اعداد وشمار پر ختم کیے۔نکولس پورن چھکوں کے معاملے میں کنگ اور بروکس سے بھی آگے نکل گئے۔

ان کی 64 رنز کی شاندار اننگز میں 2 چوکے اور6 چھکے شامل تھے۔نکولس پورن نے ڈیرن براوو کے ساتھ تیسری وکٹ کی شراکت میں 93رنز کا اضافہ صرف 49 گیندوں پر کیا۔ براوو 34رنز پر ناٹ آؤٹ رہے لیکن فیلڈنگ میں دو غفلتوں کی وجہ سے وہ اس تک پہنچے تھے۔ پہلے شاداب خان نے اپنی ہی گیند پر ان کا کیچ گرایا اور پھر بابراعظم نے محمد وسیم کی گیند پر انہیں بچ نکلنے کا موقع فراہم کیا۔پاکستانی ٹیم نے اس سے پہلے سب سےبڑا ہدف اسی سال جنوبی افریقہ کے خلاف سننچورین میں 204 رنز بنا کر عبور کیا تھا۔ آج اس نے اپنے اس ریکارڈ کو بہتر بنانے کے لیے ایک بار پھر بابراعظم اور محمد رضوان کی طرف دیکھا جو اس سال کسی کے قابو میں نہیں آئے ہیں۔ان دونوں نے اپنی چھٹی سنچری پارٹنرشپ صرف اکسٹھ گیندوں پر مکمل کی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ تمام چھ سنچری شراکتیں انہوں نے اسی سال قائم کی ہیں۔محمد رضوان نے اپنی نصف سنچری چھبیس گیندوں پر چار چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے مکمل کی جبکہ بابراعظم نے اپنی نصف سنچری کے لیے چالیس گیندیں کھیلیں جن میں سات چوکے شامل تھے۔158کے اسکور پر ویسٹ انڈیز کو پہلی کامیابی بابراعظم کی وکٹ کی صورت میں ملی جو 53گیندوں پر 79رنز بناکر آؤٹ ہوئے اس اننگز میں 9چوکے اور 2چھکے شامل تھے۔محمد رضوان دس چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے87 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کو جیت کے لیے صرف 24رنز درکار تھے جس تک پہنچنے سے پہلے پاکستان نے فخر زمان کی وکٹ بھی گنوائی ۔آصف علی اور افتخار احمد کی موجودگی میں پاکستان نے سات گیندیں قبل منزل پار کرلی۔

آصف علی نے اپنے مداحوں کو مایوس نہیں کیا اور دو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 21 رنز صرف سات گیندوں پر اسکور کیے۔اس سال پاکستان نے 29 ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلے ہیں جن میں 20 جیتے 6 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور 3 نامکمل رہے۔محمد رضوان نے 2021 کا اختتام ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ 1326 رنز پر کیا جس میں ایک سنچری اور 12 نصف سنچریاں شامل ہیں۔بابراعظم اس سال ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمینوں میں دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔ ان کے رنز کی تعداد 939 ہے جن میں ایک سنچری اور 9 نصف سنچریاں شامل ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی پاکستان کی جیت کا جشن منایا جا رہا ہے۔ اکثر صارفین بابر اعظم اور محمد رضوان کی جوڑی کو داد دے رہے ہیں۔فیروز کہتے ہیں کہ ان کے لیے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ محمد رضوان اور بابر اعظم میں سے کون بہتر ہے۔ ’دونوں رضوان اور بابر پاکستان کے لیے میچ ونرز ہیں۔‘مظہر ارشد بتاتے ہیں کہ ’پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں چار مرتبہ 150 کی پارٹنرشپ کی ہے۔ چاروں مرتبہ یہ بابر اور رضوان کے درمیان ہوئی۔‘ڈینیئل الیگزنڈر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بابر اور رضوان کی میچ وننگ پارٹنرشپ 2017 میں چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں انڈیا کے 158 آل آؤٹ کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔عاطف نواز یہ سوچ رہے ہیں کہ رضوان ٹی ٹوئنٹی کے بہترین بلے باز ہیں، حالانکہ وہ ایک ایسی ٹیم کا حصہ ہیں جس میں بابر اعظم بھی ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے بابر اعظم کو ’ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا ڈان بریڈمین‘ کہہ دیا ہے۔عالیہ رشید بتاتی ہیں کہ رضوان ایک سال میں دو ہزار رنز کرنے والے پہلے بلے باز بن گئے ہیں۔ جبکہ ایک دوسرے صارف رضوان علی بتاتے ہیں کہ بابر اور رضوان کے درمیان ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں چھ مرتبہ سنچری کی شراکت ہوچکی ہے۔

Comments are closed.