بابر اعوان صاحبزادے عبداللہ بابر نے ساری کہانی بتا دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عبداللہ بابر اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پی ڈی ایم کے تیسرے کھلاڑی مولاناصاحب ہیں ۔اردو محاورے کے مطابق وہ سیاست کے 12ویں کھلاڑی بن چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک نوجوان اُمیدوار کے ہاتھوں اپنے گھر میں اپنی آبائی سیٹ پر

عبرتناک شکست کے بعد وہ اسمبلی سے باہر بیٹھے ہیں۔ آج کل ان کا سب سے بڑا مسئلہ ایک سوال ہے جو اُن کا پیچھاہی نہیں چھوڑ رہا ‘حالانکہ سوال بڑا سادہ ہے کہ آپ کے نام اربوں کی جائیدادیں جس دوست نے خرید کردی ہیں اس دوست کا نام بتادیں تاکہ آپ کے اس مہربان دوست سے منی ٹریل اور سورس آف انکم دریافت کیا جاسکے‘اللہ اللہ خیر سلا‘ لیکن مولانا صاحب اس مہربان دوست کانام خفیہ رکھنے کی ضد کر بیٹھے ہیں۔بالکل ویسی ہی ضد جیسی شاعر کے دل سے نکلی ۔ دل غلطی کر بیٹھا ہے‘غلطی کر بیٹھا ہے دل۔حالات اور واقعات کے اس پس منظر میں جھانک کر دیکھیں تو پی ڈی ایم کی کیمسٹری میں تین بڑے تضادات صاف دکھائی دیتے ہیں‘جن کی وجہ سے یہ سیاسی اتحاد بے چارہ ہو کر ختم ہوگیا۔پہلا تضاد:پی ڈی ایم کی ہر جماعت کے اندر سیاسی مفادات کے ٹکرائو کو سب سے بڑا تضاد کہا جاسکتا ہے۔مولانااپوزیشن کی پارٹیوں کو استعفیٰ دینے پر راضی کرتے رہے لیکن اپنے7 ‘8 اہلِ خانہ میں سے کسی ایک کا استعفیٰ دینے پر بھی تیار نہ ہوئے‘اس لیے اعتماد کا کرائسس دور نہ ہو سکا۔دوسرا تضاد پارلیمنٹ کے مختلف ایوانوں سے نکلنے کے فیصلے پر سامنے آیا۔یہ فیصلہ پی ڈی ایم کے گلے کی ہڈی بن گیا۔ایسی ہڈی جو نہ نگلی جاسکتی ہے‘ اور نہ ہی گلے سے باہر آسکتی ہے۔ایسے میں حرکتِ قلب بند ہونا یقینی تھا۔تیسرا تضاد مختلف حلقوں کے ضمنی اور سینیٹ الیکشنز نہ لڑنے کے بارے میں سامنے آیا ۔جن اسمبلیوں کو جعلی اور دھاندلی زدہ قرار دے کر توڑنے کا مطالبہ کیا گیا‘پی ڈی ایم کے سارے پولیٹکل ایکٹرز بلکہ پوری پی ڈی ایم انہی اسمبلیوں کے الیکشن فدا ہو گئی ۔آپ پی ڈی ایم کی رحلت پر سوچ رہے ہوں گے ‘پی ڈی ایم کا یجنڈا کیا تھا؟ایک عام پاکستانی شہری کی حیثیت سے میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔جو معصوم پاکستانی رینٹ اے کرائوڈ میں شامل ہو کر الیکشن کمیشن کے باہر پہنچے تھے ‘وہ بھی یہی سوچ رہے ہیں وائے مقدر! یہ پسپائی۔۔اُف رے ہزیمت! یہ رسوائی

Comments are closed.