باتوں ہی باتوں میں توفیق بٹ کا حیرت انگیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔وزیراعظم بننے سے پہلے ہمارے خان صاحب اِس حدتک ”اختلاف پسند“ تھے ہمیں اُن پر رشک آتا تھا، ایک بار میرے کہنے پر اُنہوں نے پی ٹی آئی کے دفتر فیصل ٹاﺅن میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک

اور اُن کی کابینہ کے کچھ اہم ترین اراکین کو مدعوکیا کہ وہ لاہور آکر کچھ سینئر قلم کاروں کو کے پی کے میں ہونے والی اصلاحات پر بریفنگ دیں، اِس موقع پر خان صاحب خود بھی موجودتھے، وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے پی کے، کے محکمہ جنگلات میں ہونے والی اصلاحات بارے بتارہے تھے، درمیان میں اچانک خان صاحب نے بولنا شروع کردیا، وہ بھی جنگلات کے حوالے سے بریف کرنے لگے، اِس دوران کے پی کے، کے وزیر جنگلات نے بیچ میں اُنہیں ٹوک دیا اور کہنے لگے ”خان صاحب آپ صحیح نہیں بتارہے“ …. میرے سمیت وہاں موجود ہرشخص کا یہ خیال تھا خان صاحب اپنے ایک نکے وزیر کی اِس حرکت کا بہت بُرا منائیں گے، مجھے بلکہ یہ یقین تھا اُسی وقت اِس ”گستاخ وزیر“ کو فارغ کرنے کا اعلان فرمادیں گے، خان صاحب کے ماتھے پر ایک شکن نہیں آئی، بلکہ بڑی فراخ دلی سے اُس وزیر کی طرف اُنہوں نے دیکھا اور فرمایا ”ہاں ہاں تم بتاﺅ اصل میں تو یہ تمہارا محکمہ ہے اور تم ہی صحیح بتاسکتے ہو“…. اب میں حیران ہوتا ہوں، وزیراعظم بننے کے بعد اللہ جانے کیا ہوگیا ہے میری اطلاعات کے مطابق وہ اپنے مزاج یا مرضی کے خلاف کچھ سننا پسند نہیں کرتے، اُن کا کوئی قریبی ترین ساتھی بھی اُن کی مرضی یا مزاج کے خلاف کچھ کہہ دے وہ فوراً یہ سمجھتے ہیں، اور کہہ بھی دیتے ہیں” تم تو نون لیگ کی زبان بول رہے ہو“ …. جیسے اب اُن کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے نکمے افسر کی کسی اہم عہدے پر تقرری کسی نے اُن سے کروانی ہو اُس افسر کی صرف ایک

ہی ”خوبی“ کافی ہے کہ شریف برادران اِس افسر کو بڑاناپسند کرتے تھے۔ اور کوئی افسر چاہے کتنا ہی اہل یا ایماندار کیوں نہ ہو اُسے کسی عہدے سے ہٹوانا ہو اُس کی صرف ایک ہی ”خامی “ کافی ہے کہ اُس کا نون لیگ یا شریف برادران سے ابھی تک رابطہ ہے“۔ اِس کے برعکس وہ ایک خاص مجبوری کے تحت اُن ارکان اسمبلی یا اپنے اُن قریبی دوستوں کا بال بیکا نہیں کرسکتے جن کا شریف برادران سے واقعی رابطہ ہے، میں ایک ”تحقیقاتی ادارے کے ایسے افسر کو جانتا ہوں جس نے ایک بار ایک وزیر کے بارے میں وزیراعظم کو رپورٹ دی کہ اس کا شریف برادران سے رابطہ ہے، رات کو وہی افسر شریف فیملی کے ایک اہم رُکن کے ساتھ ایک خفیہ جگہ پر ”گونگلوگوشت“ کھارہا تھا ….سو آج کل ٹرانسفر پوسٹنگ کے لیے صرف یہی خوبیاں خامیاں دیکھی جارہی ہیں، وزیراعظم کو غلط اطلاعات فراہم کرکے کچھ ایسے سازشی افسران کی اُن سے تقرریاں کروالی جاتی ہیں جو حکومت کی نیک نامی کے بجائے بدنامی کا باعث بنتے ہیں، اور جو موجودہ حکمران اعظم کی کچھ خوبیوں کے دل سے مداح ہیں، اور اُن کے خوابوں کے مطابق واقعی کچھ کرکے دکھانا چاہتے ہیں اُنہیں چُن چُن کر کھڈے لائن لگایا جارہا ہے، پھر جوکچھ اِس کے نتیجے میں ہورہا ہے ”اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں“…. کل وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کی ایک تقریب میں فرمایا ”ہمیں پانچ برسوں کا مینڈیٹ ملا ہے، ہم اِس کے بعد جوابدہ ہوں گے“…. اُن کی خدمت میں عرض ہے گزشتہ اڑھائی برس اُن کے پانچ برسوں کے مینڈیٹ سے باہر نہیں ہیں، اگر گزشتہ اڑھائی برسوں کی کارکردگی کے جوابدہ ہونے کی ضرورت وہ محسوس نہیں کرتے تو اگلے اڑھائی برسوں کو ساتھ ملا کر پورے پانچ برسوں کے مینڈیٹ کی کارکردگی بتانے کے جوابدہ وہ کیسے ہوں گے؟ ہم بہرحال اُن کے لیے دعاگو ہیں، ہماری اُمیدوں کا دیا ٹمٹما رہا ہے، ابھی بُجھانہیں ہے، البتہ ہم اس جان لیوا خدشے کا شکار ہیں اگلے اڑھائی برس بھی پچھلے اڑھائی برسوں کی طرح صرف ایسے ہی کانوں کے کچے پن اور زبان کے گندے پن میں گزر گئے، اُس کے نتیجے میں ظاہر ہے چور سابقہ حکمرانوں کو اقتدار میں آنے سے کسی کا ”باپ“ بھی نہیں روک سکتا، ممکن ہے اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کا یہ ترانہ ”روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے“ بھی ”لوٹا“ بن کر نون لیگ میں شامل ہوجائے !!

Comments are closed.