باخبر صحافی کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) میری اطلاع کے مطابق مریم نواز صاحبہ مسلم لیگ (نون) کے ’’سنجیدہ اور تجربہ کار‘‘رہ نمائوں کے مشورے پر عمل پیرا ہونے کو تیار تھیں۔ نواز شریف صاحب نے مگر اپنی دختر کوحکم دیا کہ ہر صورت نیب کے روبرو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے جائیں۔ یہ الگ بات ہے کہ

نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ نیب کے دفتر جانے گھر سے نکلیں تو ’’پُلس مقابلہ‘‘ ہوگیا۔ ہنگامے سے گھبراکر نیب نے یک طرفہ اعلان کردیا کہ مریم نواز صاحبہ کی طلبی مؤخر کردی گئی ہے۔ اس اعلان نے عمران حکومت کے ’’کرپشن دشمن‘‘ مشیروں کو بہت پریشان کیا۔ وزیر اعظم کے روبرو فریاد ہوئی کہ نیب نے ہنگامے سے ’’بکری‘‘ ہوکر ریاستی دبدبہ کو زک پہنچائی ہے۔’’تجزیہ‘‘ یہ بھی ہوا کہ لاہور پولیس پر چھائے شہباز شریف کے چہیتے افسروں نے دانستہ طورپر مریم نواز صاحبہ کو ’’جگے‘‘ کی صورت ابھرنے کا موقعہ فراہم کیا۔بالآخر فیصلہ ہوا کہ لاہور پولیس کو سیدھا کرنے کے لئے عمر شیخ صاحب کو اس کی کمان سونپی جائے ۔دریں اثناء یوٹیوب پر چھائے Influencersکے ذریعے ہمارے حاکموں نے تاثر یہ بھی پھیلایا کہ مریم نواز صاحبہ سے ان کے والد کے مری والے گھر میں ’’چند اہم ملاقاتیں‘‘ ہوئی ہیں۔ انہیں واضح الفاظ میں سمجھادیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے والد اور چچا کی ’’بھلائی‘‘ چاہتی ہیں تو خاموشی اختیار کرتے ہوئے عملی سیاست سے واقعتاکنارہ کشی اختیار کرتی نظر آئیں۔اس تاثر کے فروغ کے تناظر میں مسلم لیگ (نون) کی ترجمان مریم اورنگزیب صاحبہ کی جانب سے اس وفد کے اراکین کے ناموں کا اعلان ہوا جو اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت کے لئے ’’نامزد‘‘ ہوئے تھے۔ مریم نواز صاحبہ کا نام ان میں شامل نہیں تھا۔بعدازاں عمران حکومت نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے حیران کن سرعت سے فقط FATFکو درکار قوانین ہی نہیں

بلکہ وہ تمام قوانین بھی منظور کروالئے جو اپوزیشن جماعتیں قومی اسمبلی سے منظوری کے باوجود اپنی اکثریت کے بل بوتے پر سینٹ میں ’’مسترد‘‘ کرتی رہی تھیں۔اس کی وجہ سے پیغام یہ بھی ملا کہ بالآخر مسلم لیگ (نون) کی کمان مکمل طورپر شہباز شریف صاحب اور ان کے ’’سنجیدہ اور تجربہ‘‘ مصاحبین کے ہاتھ آگئی ہے۔راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر ٹی وی سکرینوں پر سینہ پھلاتے ہوئے ’’اپنی پارٹی‘‘ کے شہباز شریف صاحب کی کامیابی پر لہذا فرحت کا اظہار کرتے رہے۔’’نون‘‘ میں سے ’’ش‘‘ کی برآمدگی انہوں نے ’’دیوار پر لکھی‘‘ ہوئی بیان کی۔پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے عمران حکومت کی ترجیح کے مطابق تیار ہوئے قوانین کی بسرعت منظوری گزشتہ ہفتے بدھ کی شام ہوئی تھی۔ اس منظوری کے بعد ایک ’’بڑا کھانا‘‘ بھی ہوا جس میں بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف نے شرکت کی۔ راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر نے اسی کھانے میں بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کو ’’ذمہ داری اور بردباری‘‘ دکھانے کی وجہ سے ’’شاباش‘‘دی۔ یہ تاثر مزید گہرا ہوگیا کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں سوپیاز اور سوجوتوں والا رویہ برقرار رکھیں گی۔ ’’اسی تنخواہ‘‘ پر گزارہ کریں گی۔گزشتہ بدھ کی رات ہی لیکن نواز شریف صاحب نے بالآخر یہ طے کیا کہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے منعقد ہوئی اے پی سی میں مریم نواز صاحبہ بھی شریک ہوں گی۔ وہ اس کانفرنس کے آغاز میں بذاتِ خود وڈیو لنک کے ذریعے خطاب بھی کرنا چاہیں گے۔ ان کی خواہش پیپلز پارٹی تک پہنچائی گئی۔اس کی بدولت بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے یہ ’’خبر‘‘ منظر عام پر آئی کہ ان کی نواز شریف صاحب سے ٹیلی فون پر گفتگوہوئی ہے۔اس کے بعد جو ہوا وہ تفصیلات ہیں۔خود کو میسر ٹھوس اطلاعات کی بنیاد پر آپ کو فقط یہ خبر دینا مقصود ہے کہ نواز شریف صاحب نے کسی کے ’’بہکانے یا اُکسانے‘‘ پر مریم نواز صاحبہ کو اپوزیشن کی اے پی سی میں بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔مذکورہ کانفرنس سے وڈیو لنک سے خطاب کا فیصلہ بھی ان کا ذاتی Initiative ہے۔طویل گوشہ نشینی اور خاموشی کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا اس کی چند وجوہات ہم بآسانی دریافت کرسکتے ہیں۔ان کا فیصلہ ہماری سیاست میں وقتی ہلچل کے علاوہ کسی طویل المدتی پیش رفتی کا باعث ہوگا یا نہیں۔اس سوال کا جواب ڈھونڈنے میں وقت درکار ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.