باخبر صحافی کی بریکنگ نیوز

لاہور (ویب ڈیسک) یہ کپتان کی ڈانٹ کا اثر ہے یا اپوزیشن کی وارننگز کا،ایک ساتھ پانچ وفاقی وزراء نے پہلی بار پریس کانفرنس کی اور یہ بھی ظاہر کرتے رہے کہ اُنہیں اپوزیشن کے الیکشن کمشن کی چوکھٹ کے سامنے 19جنوری کو ہونے والے احتجاج کی بالکل فکر نہیں، حالانکہ اس پریس کانفرنس

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا موضوع ہی یہ 19جنوری کا احتجاج تھا۔ یاد رہے کہ پی ڈی ایم نے الیکشن کمشن کو یہ وارننگ دے رکھی ہے کہ 19جنوری تک فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کرے، وگرنہ دھرنے اور احتجاج کے لئے تیار رہے۔ اس وارننگ کے بعد تھوڑی بہت ہلچل تو ہوئی ہے۔ تحریک انصاف نے اپنا بیان بھی جمع کرایا ہے اور الیکشن کمشن کی طرف سے بھی جاگنے کے اشارے مل رہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ19 جنوری کو اسلام آباد میں کیا ہوتا ہے۔ تین دن پہلے وزیراعظم عمران خان وزارتِ داخلہ کو یہ ہدایت جاری کر چکے ہیں کہ اپوزیشن کو احتجاج کرنے دیا جائے، کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم پانچ وزراء کی پریس کانفرنس کا لب ِ لباب تو یہ تھا کہ اپوزیشن الیکشن کمشن پر دباؤ ڈالنے کے لئے اسلام آباد کا رخ نہ کرے۔یہ بھی کہا گیا کہ  احتجاج کی اجازت ہے،مگر قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کی وضاحت نہیں کی گئی کہ قانون کو ہاتھ میں لینے سے کیا مراد ہے؟ جن پانچ وفاقی وزراء نے یہ پریس کانفرنس کی وہ سب وزیراعظم کے پنج پیارے ہیں۔ایک فواد چودھری تھے، جن کی وزیراعظم عمران خان کا دفاع کرنے کے حوالے سے خاصی شہرت ہے۔ دوسرے فروغ نسیم تھے،جنہیں وزیراعظم نے بار بار وزیر بنایا، انہیں اِس لئے بٹھایا گیا تھا کہ وہ فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے کوئی موقف پیش کریں تاہم وہ زیادہ تر وقت یہ وارننگ دیتے رہے کہ فیض آباد دھرنے کو سامنے رکھا جائے۔

کوئی غیر قانونی حرکت ہوئی تو قانون اپنا فیصلہ خود کرے گا۔اس میں  وزیر دفاع پرویز خٹک بھی موجود تھے، جن کی موجودگی شاید اِس لئے ضروری سمجھی گئی کہ اپوزیشن کو دھاندلی کے حوالے سے مطمئن کرنے والی اُس کمیٹی میں شامل تھے، جو حکومت کی طرف سے بنائی گئی تھی۔اسی پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات شبلی فراز بھی بیٹھے تھے، جنہیں اگرچہ بولنے کا موقع کم ملا تاہم یہاں بھی وہ اپوزیشن والوں کو چور، لٹیرے اور مال بچانے کی کوشش کرنے والے قرار دیتے رہے۔دو وزراء کو دائیں اور دو کو اپنے بائیں بٹھا  کر شیخ رشید احمد نے یہ ثابت کر دیا کہ آج بھی وہ ون سیٹ پارٹی کا سربراہ ہونے کے باوجود عمران خان کے بعد حکومت میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں وہ چاروں وزراء کے لیڈر بن کر بیٹھے تھے اور باری باری انہیں بولنے کا موقع دیتے۔باقی سارا وقت اپنی پھلجھڑیاں چھوڑتے رہے،اس پریس کانفرنس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جس پی ڈی ایم کو یہ وزراء مردہ قرار دے چکے ہیں، وہ اپنے پتے بڑی مہارت سے کھیل رہی ہے۔اُس کی شکست و ریخت کے دعوے بہت کئے گئے،مگر زمینی حقائق اُس کے برعکس ہیں وہ اپنے طے شدہ ایجنڈے کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے اور حکومت کے حواس پر سوار  ہو چکی ہے۔ یہ ”بے جان“ پی ڈی ایم کا حال ہے، تصور فرمائیں اگر وہ ”زندہ“ ہوتی تو کیا پانچ کی بجائے دس وزیر پریس کانفرنس کرتے؟پی ڈی ایم لانگ مارچ کے ساتھ تو نجانے کب اسلام آباد آتی ہے،لیکن اُس کا یہ فیصلہ کہ 19جنوری کو اسلام آباد میں الیکشن کمشن کا گھیراؤ کرے گی،

ایک ایسی چال ہے کہ جس نے اسلام آباد کی فضا سیاسی حوالے سے گرم کر دی ہے۔اب یہ تو معلوم نہیں کہ اس احتجاج میں شامل ہونے کے لئے کہاں کہاں سے قافلے اسلام آباد پہنچیں گے۔ البتہ اتنا ضرور معلوم ہے کہ یہ ایک بھرپور اجتماع ہو گا، جس طرح حکومت مدرسوں کے منتظمین کو یہ پیغام بھجوا رہی ہے کہ وہ اپنے طالب علموں کو جلسوں اور ریلیوں میں آنے سے روکیں۔ اس سے یہی لگتا ہے حکومت کو یہ فکر لاحق ہو چکی ہے کہ مولانا فضل الرحمن اس دن بڑی تعداد میں اپنے حامیوں کو  وہاں لائیں گے۔دوسری طرف مسلم لیگ(ن) بھی اس احتجاج کے حوالے سے بڑی سرگرم ہے، جبکہ پیپلز پارٹی بھی پیچھے نہیں رہی۔ یوں اسلام آباد میں لانگ مارچ سے پہلے ہی ایک بڑا احتجاج ہونے جا رہا ہے اس کا سب سے اہم ہدف الیکشن کمشن کو مجبور کرنا ہے کہ وہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کرے۔ابھی تک یہ واضح نہیں کہ فیصلہ نہ دیا گیا تو پھر پی ڈی ایم کا اگلا قدم کیا ہو گا۔ حکومت نے جس طرح اس کیس کو دبانے کے لئے مختلف حربے آزمائے اور جس طرح الیکشن کمشن نے اسے رکھ کر  چُپ سادھ رکھی،اُس سے تو یہی نظر آتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ماہرین قانون اس کیس کو حکومت کے لئے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔اگر قومی مفاد کے خلاف فارن فنڈنگ کا کیس ثابت ہو جاتا ہے  تو حکومت پر بُرا وقت آ سکتا ہے،کیونکہ ایسی جماعت جو اپنی فارن فنڈنگ کا قانون کے مطابق ثبوت نہ دے سکے، کالعدم قرار دی جا سکتی ہے۔ہمارے قومی اداروں کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ معاملات کو وقت پر کیوں نہیں نمٹاتے۔ کیوں انہیں اتنا لٹکاتے ہیں کہ بالآخر وہ ایسی صورتِ حال پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں جو ملک میں سیاسی بے چینی کو جنم دیتی ہے۔یہ فارن فنڈنگ کیس کئی برسوں سے الیکشن کمیشن کے پاس پڑا ہوا ہے،خود اس حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے اڑھائی برس سے زائد ہو گئے ہیں، چاہئے تو یہ تھا کہ خود حکومت اس کیس کو نمٹانے کے لئے الیکشن کمشن سے استدعا کرتی، مگر وہ کبھی عدالتی حکم اور کبھی حکومتی اثرو رسوخ کے پیچھے چھپتی رہی، حتیٰ کہ یہ کیس اُس کی کمزوری بن گیا اور آج اپوزیشن اس کیس کو لے کر ایک بڑا احتجاج کرنے جا رہی ہے۔ایک وقت ایسا بھی آئے گا، جب اپوزیشن پشاور کے بی آر ٹی منصوبے کی تفتیش اور فیصلے کے لئے بھی سڑکوں پر آئے گی اور حکومت کو بیک فٹ پر جانا پڑے گا، شفافیت کی دعویدار حکومت کے لئے ایسی صورتِ حال اُس کے امیج کو برباد کر دیتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.