باخبر صحافی کی خاص خبر

لاہور (ویب ڈیسک) جب اپوزیشن کے پورا زور لگانے کے باوجود حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر فیٹف سمیت دیگر ضروری بل منظور کروا لیے اور اپوزیشن گنتی میں پھنسی رہ گئی،یہاں ایک بار پھر اپوزیشن کے کئی ارکان نے غیر حاضر رہ کر حکومت کی معاونت کی۔سینٹ کے اجلاس میں

اپنے مسلز دکھانے والی اپوزیشن مشترکہ اجلاس میں ڈھیر ہو گئی۔ نامور کالم نگار اسد اللہ خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپوزیشن کچھ ماہ پہلے ایک اور اہم معاملے میں بھی حکومتی حکمت عملی سے شکست کھا چکی ہے ۔ اپوزیشن کا موقف تھا کہ عمران خان کی غلط پالییسیوں کی وجہ سے پاکستان کورونا کی لپیٹ میں آ چکا ہے اور لاکھوں افراد موت کے منہ میں چلے جائیں گے ۔ اپوزیشن مطالبہ کرتی رہی کہ وزیر اعظم پورے ملک میں سخت ترین لاک ڈائون کریں ورنہ حالات قابو میں نہ رہیں گے ۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن کا مطالبہ مسترد کر دیا اور اپنے ہی فارمولے سے کورونا کو شکست دے دی۔یوں اپوزیشن کورونا کے معاملے میں حکومت کو ناکام ثابت کرنے میں ناکام رہی اور آج اس کے پاس ایک لفظ بھی اس ضمن میں کہنے کے لیے نہیں ہے ۔ پچھلے ایک سال میں کئی بار ناکام ہونے والی اپوزیشن ایک بار پھر ناکام ہو نے جا رہی ہے۔ایک ایسی اے پی سی کا انعقاد ہونے جا رہا ہے جس کا پاکستانی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ایک بے کار اور بے سود اے پی سی اپوزیشن کے غبارے سے رہی سہی ہوا بھی نکال دے گی اور اس کا حکومت پر باقی ماندہ رعب اور خوف بھی ختم ہو جائے گا۔اپوزیشن اگر حکومت کے خلاف ٹھوس حکمت عملی بنانے کا ارادہ نہیں رکھتی تو پھسپسی سی اے پی سی اس کے لیے کاونٹر پروڈکٹو (Counter Productive)ہو گی۔ اپوزیشن ابھی تک اپنی صفوں میں اتحاد نہ ہونے کا تاثر زائل نہیں کر سکی بلکہ ن لیگ تو یہ تاثر بھی زائل نہ کر سکی کہ ایک ہی پارٹی میں کئی دھڑے موجود ہیں ۔ اپوزیشن کو کئی محاذوں پر شکست ہوئی،اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ وہ ہر جگہ ناکام ہو گئی۔ اپوزیشن کو ایک جگہ پہ ضرور کامیابی ہوئی ہے۔اپوزیشن نواز شریف کو قید سے نکال کر بیرون ملک پہنچانے میں ضرور کامیاب ہو گئی ہے۔اپوزیشن نے آصف زرداری کو قید سے باہر رکھنے کو کسی نہ کسی طرح ضرور مینج کر رکھا ہے اور لگتا ایسا ہے کہ اپوزیشن اسی کو اپنی بڑی کامیابی سمجھتی ہے۔شایدمزید جدوجہد بھی باقی لوگوں کو باہر نکالنے یا باہر بھجوانے کے لیے ہی ہے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.