بادشاہ گر چوہدری شجاعت حسین کی زندگی کے کچھ گوشے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اسد اللہ غالب اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پرویز الٰہی کی سیاست کو ویسے تو کبھی زوال نہیں آیا لیکن اس خاندان کا اصل عروج کا زمانہ جنرل مشرف کا دور تھا ۔ جس طرح پچاسی کے الیکشنوں سے بہت پہلے ہر شخص کو معلوم تھا کہ

اگلا وزیر اعظم نواز شریف ہے اسی طرح دو ہزار دو کے الیکشن سے پہلے ہر طرف ڈھنڈورا تھا کہ اب پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کا دیرینہ خواب پورا کر سکیں گے ۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم جس نجی جیٹ طیارے کے بل بوتے پر لڑی اس طیارے کے حصول میں میرا بھی ایک کردار ہے ،یہ جہاز واپڈا کی ملکیت تھا جس نے اسے ناکارہ قرار دے کر کسی پرائیویٹ شخص کو فروخت کردیا تھا اس سودے میں کچھ رکاوٹ پیدا ہوئی اور کسی نے ڈرٹی گیم کھیلنے کی کوشش کی تو یہ رکاوٹ دور کرنے والا شخص میں ہوں مگر میں اس کی تفصیل منظر عام پر نہیں لا سکتا ۔پولنگ سے چند ہفتے قبل میں گجرات گیا جہاں میں نے چوہدری شجاعت حسین کا ایک تفصیلی انٹرویو کیا ۔جو بعد میں رنگین میگزین کی شکل میں شائع ہوا اس انٹرویو کے دوران چودھری شجاعت مجھے خود کہتے رہے کہ یہ سوا ل بھی پوچھو ،یہ سوال بھی پوچھو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھ سے پوچھو کہ کیا میں فٹ کانسٹیبل کا بیٹا ہوں ۔ بعد میں مجھ پر یہ راز کھلا کہ ان دنوں میں جس اخبار میں کام کر رہا تھا اس میں شہہ سرخی کے ساتھ عمران خان کا یہ بیان شائع ہوا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین تو فٹ کانسٹیبل چوہدری ظہور الٰہی کا بیٹا ہے۔مجھے یاد ہے چوہدری شجاعت نے اس سوال کے جواب میں کہا تھا کہ انہیں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ وہ ایک فٹ کانسٹیبل کے بیٹے ہیں

انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ میرے والدنے سب سے نچلے درجے سے کام شروع کیا اور سیاست اور حکومت کے اعلیٰ مدارج طے کیے ۔کامیابیوں کا یہ سفر ہر شخص کے مقدر میں نہیں لکھا ہوتا ۔ اس سوال کے جواب سے یہ ثابت ہوگیا کہ جس طرح چوہدری ظہور الٰہی ایک عام انسان تھے اور انہوں نے عجزوانکساری کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا اسی طرح چوہدری شجاعت حسین بھی اپنے والد کا حقیقی عکس ہیں ۔میں نے ان کے رویے میں کبھی خو بو نہیں دیکھی ۔دو ہزار دو کا الیکشن ہوگیا تو میں ان کے اسلام آباد کے گھر میں ان کے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا جہاں وہ علالت کی وجہ سے بستر پرلیٹے ہوئے تھے، اس دوران ان کے فون کی گھنٹی بجی ،ان کے گیٹ کیپر نے بتایا کہ ظفر اللہ جمالی ملنے آئے ہیں ۔ یہ سن کر چوہدری شجاعت حسین کے بدن میں جیسے بجلی دوڑ گئی ہو وہ جھٹ سے سیدھے ہوکر اور یہ کہہ کر چارپائی پر بیٹھ گئے کہ جمالی صاحب کو بڑی عزت سے میرے پاس لائو وہ تو وزیر اعظم بننے والے ہیں،میرے لیے تو یہ ایک بہت بڑی خبر تھی کہ ابھی قومی اسمبلی کے ارکان نے حلف بھی نہیں لیا تھا کہ وزارت عظمیٰ کا فیصلہ چوہدری شجاعت حسین نے سنا دیا۔چوہدری شجاعت حسین خود بھی باد شاہ بنے لیکن وہ باد شاہ گر بھی تھے ۔ انہوں نے ان گنت لوگوں کو گلی محلوں سے اٹھایا اور ایوان اقتدار کے مزے کروائے ۔

میں چوہدری پرویز الٰہی کی طرف واپس آتا ہوں ،وہ دھوم دھام سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے کوئی شخص ان کی خفیہ صلاحیتوں کونہیں جانتا تھا مگر انہوں نے اپنی پانچ سالہ مدت میں جو کارنامے انجام دیئے لوگ انہیں دیکھ کر حیرت میں ڈوب گئے ۔ کون جانتا تھا کہ روٹی شوٹی کھلانے والا شخص لاہور میں درجنوں انڈرپاس تعمیر کروائے گا ۔ایکسپریس ویز کا جال بچھائے گا۔نہروں اور دریائوں پر نئے پل تعمیر کروائے گا ۔صحت کے شعبے میں تو انہوں نے انقلاب ہی برپا کردیا۔میو ہسپتا ل کی نئی ایمر جنسی،گنگا رام ہسپتال کی نئی ایمر جنسی اور سروسز ہسپتال کی نئی ایمر جنسی کی عمارتیں دیکھ کر آدمی رشک کرنے لگتا ہے،1122 کی سروس تو رہتی دنیا تک ان کا ایک یادگار کارنامہ سمجھی جائے گی ۔ترقی یافتہ دنیا میں سرکاری شعبے میں ایسی سہولت فراہم کی جاتی ہے ،پاکستان جیسے پس ماندہ ملک میں یہ سہولت کسی خدائی نعمت سے کم نہیں تھی ۔ اس سروس کی کامیابی سے ان کے بعد آنے والے چیف منسٹر میاں شہباز شریف چڑ گئے اور اسے بند کرنا چاہا لیکن لاہور کے عوام نے دہائی دی کہ نیکی کا سلسلہ بند نہ کریں اور یہ سروس آج تک مریضو ں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔میرے گائوں فتوہی والا تک لاہور سے ایک ایکسپریس وے بنی جس کا ہم کبھی خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے،سیالکوٹ موٹروے کا منصوبہ بنا،اس کے لیے زمین بھی خرید دی گئی مگر چوہدری پرویز الٰہی سے تعصب کی وجہ سے شہباز شریف نے اس منصوبے کو کئی سالوں تک لٹکائے رکھا۔

اب یہ شاہراہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے اور لاہور اور سیالکوٹ ایک دوسرے سے گلے ملتے نظر آتے ہیں ۔ آپ کو یہ سن کر یقین نہیں آئے گا کہ پرویز الٰہی کو یہ یقین نہ تھا کہ وہ پانچ سال پورے کرپائیں گے ، انہوںنے نوے شاہراہ قائد اعظم پر پہلی میڈیا بریفنگ دی تو تعلیمی شعبے کی ترقی کے لیے تین سالہ پروگرام پیش کیا ، اخبار نویسوں نے پوچھا کہ اسے تین سال تک کیوں محدود کر دیا گیا ہے تو پرویز الٰہی نے ہنستے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں کوئی حکومت دو تین سال سے زیادہ آگے نہیں چلی اسی لیے میں نے بھی یہی سوچ کر اپنے ہر ویژن کی تکمیل کے لیے تین سال کی مدت مقرر کی ہے ۔پرویز الٰہی کا دور حکومت پنجاب میں ترقی و تعمیر کے منصوبوںکی تکمیل کا دور تھا ۔ ہر شعبے میں پرویز الٰہی نے نئی امنگیں بیدار کردی تھیں ۔ پرویز الٰہی کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ صلح جو شخص تھے نہ کسی سے عناد نہ کسی سے محاذ آرائی نہ بلیم گیم ، پرویز الٰہی نے صاف ستھری حکومت کا ایک نمونہ پیش کیا ۔میں نے اوپر لکھا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین بادشاہ سے زیادہ بادشاہ گر کے طور پر مشہور ہیں اس صلاحیت کا مظاہرہ انہوں نے شوکت عزیز کو وزیر اعظم بنا کر دکھایا ، شوکت عزیز کو الیکشن کے لیے اپنے خاندان کی ایک سیٹ بھی پیش کی اور پھر ان کی ساری انتخابی مہم بھی انہی کے عزیزوں نے چلائی ۔ ظفر اللہ جمالی کے ہٹنے کے بعد چوہدری شجاعت حسین خود وزیر اعظم بن گئے مگر جیسے ہی شوکت عزیز اپنی سیٹ پر کامیاب ہوئے انہیں اگلا وزیر اعظم بنا دیا گیا ۔چوہدریوں کی سیاست کی ایک کامیابی یہ ہے اور یہ بڑی کامیابی ہے کہ ملک میں پہلی بار کسی حکومت ،کسی پارلیمنٹ اور تمام صوبائی اسمبلیوں نے پانچ سال کی آئینی مدت پوری کی ۔جس سے ملک کو سیاسی استحکام نصیب ہوا ۔اس کے لیے جمہوریت کے شیدائی چوہدریوں کو ہمیشہ دعائیں دیتے رہیں گے اور ان کے گن گاتے رہیں گے۔

Comments are closed.