بازی پاکستان لے جائے گا یا یہ اعزاز کسی اور ملک کو حاصل ہو گا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کا سیاسی و عسکری مبصر، سیاسی رہنما اور عسکری قائد، آج اپنے آپ کو جس سرخوشی کے عالم میں محسوس کر رہا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ افغانستان میں بھارت کی بیس سالہ محنت

اور سرمایہ کاری تباہ و برباد ہو گئی ہے۔ لیکن اس میں ہمارا تو کوئی کمال نہیں ہے۔ ہم تو ڈھنگ سے احتجاج بھی نہ کر سکے۔ بھارت، امریکہ اور افغان حکومت کی سرپرستی میں پاکستان میں بدامنی اور علیحدگی پسندی کی ٹریننگ کیلئے 66 کیمپ چلا رہا تھا اور ادھر ہمارا تو عالم یہ تھا کہ جس امریکہ کی سرپرستی میں بھارت یہ سب کچھ کر رہا تھا، ہم اس کے نان نیٹو اتحادی بھی تھے اور اس سے مسلسل کولیشن (Coalition) سپورٹ فنڈ کی بھیک بھی لیتے رہے۔ ہم اسی افغان حکومت سے روز گلے ملتے رہے۔ ذہن نشین کر لو کہ بھارت کی اس شکست میں ہمارا کوئی کمال نہیں ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے ایک نشانی ہے تاکہ ہم اس ’’غزوۂ ہند‘‘ کیلئے تیار ہو جائیں جس کی بشارتیں رسول اکرم ﷺنے دی ہیں۔ ہم اگر تیار نہ ہوئے تو اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ ہماری جگہ کسی اور نسل کو آباد کر دے اور اسے اس عظیم محاذ کا امین بنا دے گا۔ افغانستان میں تالبان کی اس فتح سے پہلے اکتوبر 2019ء میں جب تالبان کے ساتھ امن معاہدے کا رڈ میپ طے ہوا تو 4 نومبر 2019ء کو پینٹاگون نے اپنیIndopacific ’’ہند و بحرالکاہل‘‘ کی حکمتِ عملی جاری کر دی، پھر جیسے ہی 20 فروری 2020ء کو افغانستان سے انخلاء کے معاہدہ پر دستخط ہوئے تو فوراً بھارت، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کا چار ملکی اہم اتحاد وجود میں آ گیا۔ اس اتحاد کا مقصد چین کی مالیاتی اور اقتصادی برتری کو روکنا ہے۔

آج اس اتحاد کی توجہ کا مرکز و محور صرف پاکستان ہے۔ افغانستان پر یلغار کیلئے تو صرف ایک موہوم سا بہانہ تراشا گیا تھا کہ وہاں اوسامہ موجود ہے۔ لیکن پاکستان پر اٹیک کے جواز کیلئے تو جیتا جاگتا ایٹمی پروگرام موجود ہے،جس کے خلاف پچاس سال سے یہ مسلسل پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ اگر یہاں اسلام پسند غالب آ گئے تو یہ ہتھیار شرپسندوں‘‘ کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔ ہمارے حکمران گذشتہ بیس سالوں سے اس ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ملک بھر میں روشن خیالی، آزاد خیالی، مذہب دُشمنی اور حقوقِ نسواں کے نام پر ایک ایسی منفی صورت پیدا کر رہے ہیں، جس سے مسلسل عوامی نفرت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ نفرت اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ یہ ایک غبارہ ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ اگر آج ملکی قوانین اور ماحول کو اسلام کی سمت ڈھالنے کے ذریعے اس غبارے سے ہوا نہ نکالی گئی۔ یہ منظر نامہ بہت شدید ہو سکتا ہے اور لوگ بزور قوت تبدیلی کیلئے منظم ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں عالمی قوتوں نے اسے ایک بہانہ بنا لیا اور ساتھ ہی گیارہ ستمبر جیسا کوئی بڑا واقعہ ہو گیا اور پھر یہ فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگے گی کہ سارے ’’فساد کی جڑ‘‘ پاکستان ہے اور تمام عالمی قوتیں پاکستان پر اٹیک کیلئے تیار ہو سکتی ہیں۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ ہم بائیس کروڑ عوام کتنے دن ان کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ شاید ایک دن بھی نہیں کیونکہ، گذشتہ تین دہائیوں سے عوام تو دورکی بات لفظ ’’ج ہ ا د‘‘ مساجد کے علماء کی ڈکشنری سے بھی خارج ہو چکا ہے۔ رہی فوج بمقابلہ فوج تو اس کے نتیجے میں ایک ورلڈ وار چھڑنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ کیونکہ پاکستان پر اٹیک چین کی اقتصادی اور مالیاتی شہ رگ پر دھاوا ہو گا اور عین ممکن ہے یہ براستہ بھارت ہو ،چین کے شامل ہونے کے بعد عالمی برادری کود پڑے۔ کیا ہم اس سب کچھ کیلئے تیار ہیں۔ یاد رکھو! کوئی کسی کو اپنے ملک پر اٹیک کی دعوت نہیں دیتا ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کون کتنا ثابت قدم رہتا ہے۔

Comments are closed.