باز رہنے کا مشورہ دینے والے کون تھے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔انگریزی کی کہاوت ہے کہ’’ ناکامی یتیم کی طرح ہوتی ہے جو یک وتنہا رہ جاتی ہے جبکہ کامیابی کے کئی باپ بن جاتے ہیں‘‘۔ ایٹمی تجربے کرنے سے پہلے نوازشریف نے وزیراعظم ہاؤس میں سینئر صحافیوں کا مشاورتی اجلاس بلایا

جس میں محترم مجید نظامی اور میں بھی موجود تھے ۔ وزیراعظم نے سب صحافیوں کی رائے لی۔ دو صحافیوں کے سوا سب نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی تجربے کر دینے چاہئیں ۔ نظامی صاحب نے یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا کہ میاں صاحب آپ نے ایٹمی تجربہ نہ کیا تو آپ کا کام ہو جائے گا۔ان کی بات درست تھی اگر وہ یہ کام نہ کرتے تو قوم اور فوج ان کی چھٹی کرا دیتی۔ ڈان کے ایڈیٹر احمد علی خان مرحوم جن کے پراگریسو خیالات ڈھکے چھپے نہیں تھے نے مشورہ دیاکہ تجربے نہ کئے جائیں لیکن سب سے حیران کن موقف مجیب الرحمن شامی کا تھا چونکہ ان کے اس وقت کے دائیں بازو کے نظریات واضح تھے لیکن انہوں نے ایٹمی تجربے نہ کرنے کا مشورہ دے دیا ۔پاکستان میں ایک بہت بڑی لابی ایٹمی تجربات کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتی تھی ۔بہرحال شامی صاحب کو داد دینا پڑے گی کہ انھوں نے اپنا موقف بغیر کسی مصلحت کے بیان کر دیا ۔بڑے سیاستدانوں میں ائرمارشل (ر) اصغر خان ایٹمی تجربوں کے مخالف تھے۔ ایک اور شخصیت ،سائنسدان پرویز ہود بھائی آ ج تک ایٹمی پروگرام کے مخالف ہیں ۔ان کا موقف ہے کہ پاکستان کو ایٹمی پروگرام کی نہیں عوام کی اقتصادی حالت بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

Comments are closed.