بالی وڈ کی تاریخ کا انوکھا واقعہ

ممبئی (ویب ڈیسک) بھارتی ہدایت کار شکتی سمانتا کی ’امرپریم‘ راجیش کھنہ کے ساتھ ’آرادھنا‘ اور ’کٹی پتنگ‘ کے بعد تیسری بڑی فلم تھی۔ ابتدا میں انہوں نے اس تخلیق کے لیے راج کمار کو منتخب کیا تھا۔لیکن ایک روز خود راجیش کھنہ ان کے در پر آ ٹپکے اور ان سے ’امرپریم‘ کے اس مرکزی کردار

میں جلوہ گر ہونے کی فرمائش کر دی۔راجیش کھنہ نے ’آنند بابو‘ کے اس کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے کوئی 24 بار اوریجنل بنگالی فلم ’نشی پدما‘دیکھی۔ فلم کی عکس بندی مکمل ہو چکی تھی۔ اسی دوران ہدایت کار شکتی سمانتا کو موسیقار راہل دیو برمن نے ’چنگاری کوئی بھڑکے‘ سنایا تو سمجھیں جیسے ہدایت کار کا دل اس گانے پر مچل گیا۔ راجیش کھنہ کو بتایا گیا کہ اس گیت کو کلکتہ جا کر دریائے ہگلی پر واقع ہاوڑہ برج پر اس وقت عکس بند کیا جائے گا، اسی لیے یہ سارا یونٹ کلکتہ پہنچا تھا۔لیکن راجیش کھنہ کے ہزاروں مداحوں کی موجودگی میں گانے کی عکسبندی مشکل ہوگئی۔ پولیس حکام شکتی سمانتا کے آس پاس موجود تھے، جنہوں نے تھک ہار کر دوٹوک لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ عکس بندی کا اجازت نامہ منسوخ کر رہے ہیں۔بمبئی آ کر شکتی سمانتا نےمقامی فلم اسٹوڈیو کے تالاب کو ہو بہو ہاوڑہ برج کے سمندر کا روپ دیا ۔ پس منظر میں ایسے ہورڈنگز اور سائن بورڈز لگائے گئے جیسے ہاوڑہ برج کے سمندر کی سیر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور پھر ایک کشتی میں راجیش کھنہ اور شرمیلا ٹیگورکو بٹھا کر اور کیمرا مین نے اس تالاب میں باقاعدہ آدھے دھڑ تک ڈوبتے ہوئے کشور کمار کی آواز میں تیار گیت ’چنگاری کوئی بھڑکے‘ کو عکس بند کیا۔’امرپریم‘ ریلیز ہوئی تو کوئی یہ اندازہ نہیں لگا سکا کہ یہ گانا، ہاوڑہ برج کے کنارے نہیں بلکہ اسٹوڈیو کے تالاب میں عکس بند کیا گیا تھا۔ یہ اس دور کی راجیش کھنہ کی ایک اور کامیاب ترین فلم تسلیم کی گئی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *