بالی وڈ کی تاریخ کا ایک حیران کن واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار ریحان فضل بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پروڈیوسر اور ہدایتکار کیدار شرما کی ایک خاص بات تھی کہ جب بھی وہ کسی فنکار کے کام سے خوش ہوتے تھے تو وہ اسے انعام کے طور پر ایک آنہ یا دو آنے بطور انعام دیا کرتے تھے۔

بعد میں انھوں نے یہ انعامی رقم بڑھا کر چونی (25 پیسے) کر دی تھی۔فلم ’چترلیکھا‘ کی عکسبندی کے دوران مینا کماری نے کیدار شرما سے کہا کہ شرما جی میرے پاس آپ کی چونی اور دو آنوں کا انبار اکٹھا ہو گیا ہے، اب آپ اپنا ریٹ بڑھا دیں۔ اور پھر ایک دن فلم کے ایک سین میں مینا کماری کی اداکاری سے خوش ہو کر کیدار شرما نے انعام میں مینا کماری کو ایک سو روپے کا نوٹ دیا۔مینا کماری کی پوری زندگی ’انڈین عورتوں کی دکھ بھری زندگی‘ کو سکرین کے پردے پر اتارتے ہوئے گزری۔یہ اور بات ہے کہ انھیں اپنی ذاتی زندگی کی ٹریجڈیز کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ لیکن یہ کہنا کہ مینا کماری کی اداکاری میں ’المیہ‘ اور غموں کے شیڈ کے علاوہ کوئی دوسرا ’شیڈ‘ نہیں تھا ان کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔فلم ’پرنیتا‘ کی پُرسکون بنگالی الہڑ لڑکی ہو یا فلم ’بیِجو باورا‘ کی شوق اور حسین لڑکی ’صاحبِ بی بی اور غلام‘ کی جاگیردارانہ مظالم جھیلنے والی بہو ہو یا ’پاکیزہ‘ کی ’صاحب جان‘ ان تمام کرداروں نے شائقین کے دل پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔یکم اگست 1932 کو پیدا ہونے والی مینا کماری بطور اداکارہ 32 سال تک انڈین سینما پر چھائی رہیں۔ انتہائی جذباتی اور دوسروں کی مدد کے لے ہمہ وقت تیار مینا کماری کی زندگی خوشی بانٹنے اور دوسروں کے دکھوں کو دور کرنے میں گزری۔کمال امروہی کے بیٹے تاجدار امروہی کا کہنا ہے کہ ’مینا کماری کو لوگوں نے کبھی بھی خوبصورت چہرے کے طور پر نہیں دیکھا

جیسا کہ مدھوبالا یا نرگس کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے۔‘مینا کو ’ٹریجڈی کوئین‘ کا خطاب ملا اور انھوں نے ’ٹریجڈی‘ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ وہ فلموں میں جو کردار کر رہی ہے، وہ حقیقی زندگی میں بھی وہی کردار ادا کر رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ لوگوں کے ساتھ ساتھ انھوں نے خود بھی ایسا سمجھنا شروع کر دیا تھا۔‘سنہ 1949 میں جب مینا کماری کمال امروہی سے پہلی بار ملی تھیں، اس وقت وہ شادی شدہ تھے۔ ان کی ایک فلم ’محل‘ بہت ہٹ ہو چکی تھی۔ کمال مینا کو فلم ’انارکلی‘ میں کاسٹ کرنا چاہتے تھے۔ اسی سلسلے میں ان کے گھر آنا جانا شروع ہوا اور ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔اسی دوران پونا سے آتے ہوئے مینا کماری کی کار حادثہ کا شکار ہو گئی۔ مشہور رسالے ’آؤٹ لُک‘ کے سابق ایڈیٹر ونود مہتا نے مینا کماری کی سوانح حیات بعنوان ’مینا کماری اے کلاسیکل بائیو گرافی‘ لکھی ہے۔ونود مہتا لکھتے ہیں ان دونوں کا عشق مسمی کے جوس سے شروع ہوا تھا۔ جب کمال امروہی مینا کماری سے ملنے پونا کے ہسپتال پہنچے تو مینا کی چھوٹی بہن نے ان سے شکایت کی کہ آپا جوس نہیں پی رہی ہیں۔ کمال نے جوس کا گلاس کو اپنے ہاتھوں میں لیا، بستر سے مینا کا سر اٹھایا اور گلاس ان کے منھ سے لگا دیا، مینا نے ایک ہی سانس میں تمام جوس ختم کر لیا۔کمال ہر ہفتے پونا گاڑی چلا کر مینا سے ملنے آتے۔ پھر انھیں لگا کہ ہفتے میں ایک دن کافی نہیں ہے۔

جس دن ان کا ملنا نہیں ہوتا تھا اس دن وہ ایک دوسرے کو خط لکھتے تھے، ہر روز ایک خط۔ لیکن ان حظوط پر کوئی ٹکٹ نہیں لگایا جاتا کیونکہ یہ خط وہ خود وہ ایک دوسرے کو اپنے ہاتھوں سے دیتے تھے۔اس کے بعد ہسپتال میں ہی ان کی بہت سی ملاقاتیں ہوئیں۔ کمال امروہی نے ان کا نام ’منجو‘ رکھا اور وہ کمال امروہی کو ’چندن‘ کے نام سے پکارنے لگیں۔ونود مہتا مزید لکھتے ہیں کہ ’پھر دونوں نے ٹیلیفون پر لمبی باتیں کرنا شروع کیں۔ امروہی رات 11:30 بجے مینا کماری کو فون کیا کرتے تھے اور دونوں صبح 5:30 بجے فون بند کرتے تھے۔ شاید رات میں اتنی دیر باتیں کرنے کی وجہ سے مینا کماری اور کمال امروہی دونوں کو رات میں نیند نہ آنے کی بیماری ہو گئی۔24 مئی 1952 کو مینا کماری نے کمال امروہی سے شادی کی۔ اس وقت کمال امروہی کی پہلی بیوی امروہہ میں رہتی تھیں۔ جب گرمیاں ختم ہوئیں تو انھوں نے اپنے بیٹے تاجدار کو اپنی دوسری ماں یعنی مینا کماری سے ملنے ممبئی بلایا۔جب وہ وہاں پہنچے تو کمال امروہی بیمار تھے۔ انھیں بخار تھا۔ تاجدار امروہی یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’چھوٹی امی سفید ساڑھی پہنے ہوئے بابا کے سرہانے بیٹھی ان کے ماتھے پر ٹھنڈی پٹیاں رکھ رہی تھیں اور ایک خادمہ بابا کے پیروں کی مالش کر رہی تھی۔‘میں حیران پریشان کھڑا تھا کہ میں کہاں جاؤں کیا کروں لیکن چھوٹی امی نے میری پریشانی بھانپ لی۔ بابا بھی مسکرا دیے لیکن بولے کچھ نہیں۔ مینا کماری نے مجھے قریب بلایا اور جب میں ان کے قریب گیا تو انھوں نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا اورکہا آج سے میں آپ کی چھوٹی امی ہوں۔لیکن کچھ دن بعد مینا کماری اور کمال امروہی کی شادی شدہ زندگی میں مشکلات پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *