باپ بیٹی اس بیانیے پر زور وشور سے قائم کیوں ہیں ؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور صحافی فاروق اقدس کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز قدرے وقفے کے بعد اتوار کو شیخوپورہ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے منظر پر آئیں ،بادی النظر میں تو انکی شیخوپورہ میں اصل مصروفیت پارٹی کے گرفتار رہنما جاوید لطیف

کی گرفتاری کی مذمت اور ان کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کرنا تھا ،وہ جاوید لطیف کے گھر بھی گئیں اور ان کے اہل خانہ کو تشفی دی لیکن موضوع بحث ان کا کارکنوں سے خطاب کے دوران شہباز شریف کا ذکر کسی بھی حوالے سے کرنا مناسب نہیں سمجھا اور وہ بھی ایک ایسی صورتحال میں جب شہباز شریف طویل اسیری کے بعد حال ہی میں جیل سے رہا ہوکر آئے ہیں اور حکومت ان کیخلاف کارروائیوں میں مصروف ہے، گوکہ اپنی تقریر کے آغاز میں انہوں نے یہ ضرور کہا کہ میں نواز شریف اور شہباز شریف کی جانب سے اہل شیخوپورہ کو سلام پیش کرنے آئی ہوں اور آخر میں ایک مرتبہ ان کا نام نعروں میں بھی لیا،تاہم اگر مسلم لیگ (ن) کے حلقے یہ توقع کر رہے تھے کہ مریم نواز جاوید لطیف کی گرفتاری کی مذمت کیساتھ ساتھ اپنی جماعت کے صدر اور چچا کی گرفتاری کی بھی مذمت کریں گی، عدالت کے حکم پر علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت کے باوجود انہیں ایئرپورٹ پر روکے جانے کے اقدام پر احتجاج کریں گی، حدیبیہ ملز کا کیس دوبارہ کھولے جانے کے حکومتی فیصلے کو انتقامی کارروائی قرار دیں گی تو یقیناً وہ یہ توقعات رکھنے میں حق بجانب تھے لیکن جاوید لطیف جو ایک ’’ناپسندیدہ ریمارکس‘‘ کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر ریمانڈ پر ہیں مریم نواز نے انہیں شاندار خراج تحسین پیش کیا اور اپنی پوری تقریر انہی کے حوالے سے کی، اس دوران انہوں نے بعض ججوں کے فیصلوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور بعض پر کڑی تنقید کی اس دوران مریم نواز کے موقف کی حمایت میں شرکاء نے زبردست نعرے بازی کیا،جاوید لطیف پر قائم کئے گئے مقدمے کی نوعیت سے قطع نظر ایک دیرینہ سیاسی رفیق جو قومی اسمبلی کے ایوان اور ٹاک شوز میں بھرپور انداز میں اپنی جماعت کا موقف پیش کرتے تھے ان کے مشکل وقت میں ان سے وابستگی اور یکجہتی کا اظہار جمہوریت کی صحت مند روایت ہے لیکن ایسے موقعہ پر اپنی جماعت کے صدر جو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں انہیں نظرانداز کرنے سے مسلم لیگ (ن) کے مخالفین کے بعض الزامات اور خود مسلم لیگ(ن) میں پائے جانے والے خدشات کو تقویت ملتی ہے،ان کے مخالفین تواتر کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ مریم نواز کو اس بات کا شدید قلق ہے کہ وہ کم وبیش گزشتہ ایک سال سے نواز شریف کے بیانیے کو لیکر سیاسی جدوجہد میں مصروف ہیں لیکن شہباز شریف جن کا طرز عمل ’’ مزاحمتی ‘‘ نہیں بلکہ ’’ مفاہمتی‘‘ ہے وہ نواز شریف کے بیانیے کے برعکس طرز سیاست اپنائے ہوئے ہیں جس سے میاں نواز شریف کے بیانیے اور خود ان کی جدوجہد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے بالخصوص ارکان قومی اسمبلی میں شہباز شریف کو مدبرانہ قرار دیتے ہوئے محاز آرائی کے سخت خلاف ہیں۔

Comments are closed.