براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدے کی انوکھی شرائط

اسلام آباد (ویب ڈیسک) رپورٹس کے مطابق جون 2000میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے براڈشیٹ ایل ایل سی کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا وہ لامحدود تھا اور وقت کا پابند نہیں تھا اور اور اثاثوں کی بازیابی فرم کو تفویض کردہ وسیع کام کے حصول تک نا ختم ہونے والی مدت تک نافذ العمل تھا۔

 یہ معاہدہ بعد میں آنے والے نیب چیئرمینوں پر ناگزیر تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ عنوان میں بعد میں آنے والوں اور فریقین کے قائم مقام، جنہیں اجازت دی گئی، کے مفاد کے لئے کام کرے گا بشرطیکہ کوئی بھی فریق عارضی طور پر یا کسی دوسرے کی تحریری اجازت کے بغیر کسی حقوق یا مفادات کے ساتھ تفویض، منتقلی یا حصہ نہیں دے گا۔ معاہدے کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ معاہدہ کئی دہائیوں تک قائم رہے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ نیب او ربراڈ شیٹ نے اتفاق کیا کہ یہ معاہدہ اور پاور آف اٹارنی دونوں نافذ اور موثر رہیں گے اور تمام رجسٹرڈ دعووں کے حوالے سے آخری دعوے کا تصفیہ یا قانونی چارہ جوئی کرنے تک کسی بھی طرح سے منسوخ یا ترمیم نہ کی جائے گی وغیرہ۔ براڈشیٹ 28 مئی 2000 کو آئل آف مین میں قائم ہوئی تھی۔ تئیس دن بعد نیب نے اس کے ساتھ فوری معاہدے پر دستخط کردیئے۔

Comments are closed.