برسوں بعد انکشاف

فیصل آباد (ویب ڈیسک) شہنشاہِ قوالی نصرت فتح علی خان کو دنیا سے رخصت ہوئے 23 برس بیت گئے مگر نصرت فتح علی خان کے بعد آنے والی نسلیں بھی ان کی قوالیوں پر جھومتی ہیں۔ فنِ قوالی اور کلاسیکی موسیقی کو نئی جہتوں سے متعارف کروانے والے استاد نصرت فتح علی خان کی یادیں

آج بھی ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔نصرت کی قوالیوں میں روح اور دل کی ہم آہنگی کے باعث سننے والے آج بھی ان کے کلام میں کھو جایا کرتے ہیں۔ نصرت کے جادو نے سرحدیں پار کیں اور بھارت میں بھی ان کے گیت اور قوالياں سر چڑھ کر بولتی ہیں۔ معروف بھارتی شاعر جاوید اختر بتاتے ہیں کہ ’نصرت فتح علی خان اپنے کام میں اس قدر مگن ہو جایا کرتے تھے کہ وہ اس کا حصہ محسوس ہوتے تھے۔ ‘ انہوں نے بتایا کہ ’میری غزلوں کی البم ’سنگم‘ کی ایک غزل جس کے بول تھے، ’اب کیا سوچیں، کیا ہونا ہے، جو ہو گا، اچھا ہو گا‘ کی ریکارڈنگ کے دوران وہ مسلسل روتے رہے اور ریکارڈنگ کرواتے رہے۔‘ جاوید اختر کے مطابق وہ ’سنگم‘ کے اس گانے کو ریکارڈ کرواتےہوئے مسلسل روتے رہے، اس گانے کے بول جاوید اختر نے لکھے ہیں۔ پاکستان میں دھوم مچانے کے بعد نصرت فتح علی خان کو جب بالی ووڈ میں کام کرنے کی دعوت ملی تو انہوں نے شاعر کے معاملے میں اپنی پسند صاف کر دی کہ وہ کام کریں گے تو صرف جاوید اختر کے ساتھ۔ پاکستان اور بھارت کے دو بڑے فنکاروں نے مل کر کام کیا اور ’سنگم‘ البم ریلیز کیا۔ اس البم کا سب مشہور و معروف گانا ’آفریں آفریں‘ تھا۔ جاوید اختر کے بولوں کو نصرت فتح علی خان نے اس گیت کو ایسی روانگی دی کہ نغمہ ختم ہونے کا بعد بھی اس کا نشہ نہیں ٹوٹتا تھا۔ جاوید اختر بتاتے ہیں کہ ’سنگم‘ البم پر کام کے دوران تین چار دن نصرت کے ساتھ گزارے لیکن ان کی توجہ صرف کام پر رہی۔ وہ یا تو میرے شعر سنتے تھے یا پھر اپنی موسیقی میں ہی گم رہتے تھے۔ جاوید اختر نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’میں نے اکثر دیکھا کہ نصرت فتح علی خان دیر تک خاموش بیٹھے خلا میں گھورتے رہتے اور پھر اچانک ہارمونیم اپنے قریب کرتے اور اسے بجانا شروع کر دیتے، وہ اپنے کام سے عشق کرتے تھے۔‘

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *