برطانیہ کی ملکہ ترنم نور جہاں وفات پا گئیں ، مگر یہ دراصل کون تھیں ؟ حیران کن خبر

لندن (ویب ڈیسک) برطانیہ کی نورجہاں معروف گلوکارہ ڈیم ویرا وفات پاگئیں، گزشتہ آٹھ دہائیوں سے انگریزوں خصوصاً برٹش آرمی کے دلوں پر راج کرنے والی ڈیم ویرا کو فوجیوں کی سویٹ ہارٹ بھی کہا جاتا تھا، برطانیہ میں دہائیوں سے مقیم پاکستانی ڈیم ویرا کو برطانیہ کی نورجہاں بھی کہتے تھے،

دو روز پہلے103سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا تو ملکہ برطانیہ، شہزادہ چارلس سمیت شاہی خاندان اور وزیراعظم برطانیہ بورس جانسن نے بھی ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا، ڈیم ویرا کو اوائل بچپن سے ہی گانے کا شوق تھا لیکن پیشہ ورانہ طور پر انہوں نے اپنا پہلا گانا22سال کی عمر میں ریکارڈ کروایا اور یہی گانا انہیں شہرت کی بلندیوں تک لے گیا، ڈیم ویرا نے برطانوی فوجیوں کے لیےWe Will Meet Againکا گانا کچھ اس طرح گایا کہ وہ برطانوی فوجیوں کے لیے جیت کی علامت بن گئیں اسی طرح جیسے1965ء کی پاک، بھارت لڑائی میں ملکہ ترنم نورجہاں نے پاک فوج کے جوانوں کے لیے روح کو گرمانے والے جنگی ترانے گائے جنہیں آج بھی یاد رکھا گیا ہے۔ ان کا یہی گانا گزشتہ تین مہینے سے کورونا وائرس اور لاک ڈائون کے دنوں میں ہیلتھ ورکرز، کی ورکرز اور ڈاکٹروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گایا گیا، ڈیم ویرا لندن کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئیں لیکن گلوکاری کے شوق نے انہیں دولت شہرت اور عزت کی بلندیوں تک پہنچا دیا، انہوں نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے لڑائی کے دنوں میں برطانوی فوجیوں کے لیے اگلے مورچوں میں جاکر اس قسم کے روح پرور گانے گائے جس پر انہیں جادوئی آواز رکھنے والی گلوکارہ کا خطاب دیا گیا، وہ ملکہ برطانیہ کی کئی دہائیوں سے قریبی دوست تھیں،ملکہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ میں بہت اداس ہوں، انہوں نے کہا، ڈیم ویرا1939ء سے1945ء تک امید کی کرن سمجھا جاتا تھا، اسی لیے کورونا وائرس اور لاک ڈائون کے دنوں میں ملکہ برطانیہ نے بھی برطانوی قوم کو امید دلانے کے لیے ڈیم ویرا کے مذکورہ گانے کو امید کے ترانے کے طور پر گنگنانے کی ترغیب دی، چنانچہ یہ لاک ڈائون کا مقبول ترانہ بن گیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.