بریکنگ نیوز: بس یہ کسر رہتی تھی ۔۔۔!!!

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان ایمبسی جاپان کی جعلی مہریں اور دستخط استعمال کرکے گاڑیاں کلیئر کرانے کے ایک بڑے اسیکنڈل کا انکشاف ہوا ہے ، کسٹمز اپریزمنٹ ایسٹ میں مقدمہ درج ہونے کے بعد انکوائری شروع ہو گئی جبکہ پاکستان کیلئے گاڑیوں کی شپمنٹ رک گئی ، پاکستانی کمیونٹی سخت پریشانی کا شکار۔

 تفصیلات کے مطابق کسٹمز اپریزمنٹ ایسٹ کراچی نے 6جنوری کو فراڈ اور جعل سازی کا ایک مقدمہ درج کیا ہے جس کے مطابق کراچی کی کمپنی انویٹک لاجسٹک کے مناف رواجی نام کے ایک شخص نے لگژری گاڑی کی کلیئرنس کے لئے مسز عظمیٰ آصف کا ایک پاسپورٹ جمع کریا جس کا نمبر AH1400443تھا تاہم کسٹمز نے اس پر اعتراض لگایا کہ چونکہ عظمیٰ آصف کی آمدنی نہیں ہے اس لیے حکومت پاکستان کی نئی پالیسی 2020کے تحت اس طرح کے پاسپورٹ پر گاڑی کی کلیئرنس نہیں ہو سکتی۔کسٹمز کے اس اعتراض پر دوسرے ہی دن عظمیٰ آصف کا ،فوجی (FUJI) آٹو ٹریڈنگ کمپنی کا ایک سرٹیفکیٹ پیش کردیا جس میں عظمیٰ آصف کی ایک لاکھ 50ہزار جاپانی ین تنخواہ ظاہر کی گئی تھی اور اس کی تصدیق جاپان میں پاکستانی سفارت کے ٹریڈ قونصلر طاہر حبیب چیمہ نے کی ہوئی تھی۔ طاہر چیمہ کے سرٹیفکیٹ پر دستخط اور مہر بھی تھی، صرف ایک دن کے وقفے پر سرٹیفکیٹ پیش ہونے پر کسٹمز افسران کو شک ہوا جس پر طاہر چیمہ جو کہ کسٹمز کے ہی ایک افسر ہیں ان سے واٹس ایپ پر رابطہ کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ یہ نا صرف لیٹر جعلی ہے بلکہ ان کی مہر اور دستخط بھی جعلی ہے، جاپان کے پاکستانی سفارت خانے میں اس جعل سازی پر بھونچال آگیا۔ کسٹمز اور سفارت خانے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ کئی درجن قیمتی گاڑیاں جعل سازی سے کلیئر ہوچکی ہیں، کراچی میں کسٹمز ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ ایک بڑا اسیکنڈل ہے ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *