بریکنگ نیوز: جاوید چوہدری کے پروگرام میں فردوس عاشق اعوان نے نامور سیاستدان کو تھپڑ رسید کردیا ، وجہ کیا بنی ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) گذشتہ روز ایک نجی چینل کے پرائم ٹائم شو پر انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قادر مندوخیل کو لفظی تکرار کے بعد تھپڑ رسید کر ڈالا۔یہ پروگرام نشر ہونے کے بعد اس کے مختصر کلپ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگے اور صارفین نے جہاں اس جھگڑے کی مذمت کی تو وہیں

کچھ لوگوں نے اس واقعے پر طنزیہ تبصرے کیے اور میمز بھی بنائیں۔بدھ کی شب نشر ہونے والے ٹاک شو میں بات بجلی کی کمی سے شروع ہوئی اور ہوتے ہوتے ٹرین حادثے تک آ پہنچی۔فردوس عاشق اعوان نے سندھ کے وزیر اعلی کے جائے حادثہ پر نہ جانے پر تنقید کی تو قادر مندوخیل نے کہا وفاقی وزیرِ ریلوے بھی تو نہیں پہنچے۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے کی حکومتوں کو ‘چور’ گردانتے رہے۔تاہم بات اس وقت بڑھ گئی جب قادر مندوخیل نے حکومت کے بعد فردوس عاشق اعوان کو ذاتی طور پر ‘بدعنوان ‘ کہہ دیا اور طعنہ دیا کہ ‘بدعنوانی ہی کی وجہ سے ان سے وزرات لے لی گئی’۔اس کے بعد دونوں رہنماؤں میں مزید تلخ کلامی ہوئی اور فردوس عاشق اعوان نے مڑ کر شو کے میزبان جاوید چوہدری کو کہا، جو خاموشی سے یہ منظر تک رہے تھے، ‘چوہدری صاحب، آپ نے یہ تماشا لگوایا ہے۔’وائرل ہونے والے کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قادر مندو خیل کچھ کہتے ہیں جس پر فردوس عاشق اعوان سیخ پا ہو جاتی ہیں۔ پھر دونوں اپنی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد پھر سے دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی ہوتی ہے اور پھر ایک ’بیپ‘ کی آواز آتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس موقعے پر نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا: ‘ٹاک شو کے دوران پیپلزپارٹی کے قادر مندوخیل کی جانب وارننگز دی گئیں۔ قادر مندوخیل نے بدزبانی اور بدکلامی کرتے ہوئے میرے مرحوم والد اور مجھے مغلطات دیں۔ اپنے دفاع میں مجھے انتہائی قدم اٹھانا پڑا! قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد قادر مندوخیل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔’چونکہ اس کلپ میں صرف فردوس عاشق اعوان کی

جانب سے عدم برداشت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا اس لیے تحریک انصاف کی رہنما کا کہنا تھا کہ یہ تصویر کا محض ایک رخ ہے۔ٹوئٹر پر ان کا مزید کہنا تھا ‘جاوید چوہدری صاحب کے ٹی وی شو میں پیپلزپارٹی کے قادر مندوخیل کے ساتھ ہونے والی بحث میں تصویر کا ایک رخ دکھایا جارہا ہے۔ قادر مندوخیل کی غلیظ زبان اور مغلطات کو اس ویڈیو کا حصہ نہ بنا کر یکطرفہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مکالمے سے ہٹ کر مندوخیل کی جانب سے ان کے والد اور انھیں مغلطات دی گئیں۔انھوں نے کہا کہ ‘ایسے بدتہذیب افراد کا سیاست اور اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ لوگ سیاست اور معاشرے کے چہرے پر بدنما دھبے ہیں۔’انھوں نے ایکسپریس ٹی وی سے درخواست ہے کہ معاملے کی مکمل ویڈیو سامنے لائیں۔پیپلز پارٹی کے رہنما قادر مندوخیل کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا تھا کہ فردوس عاشق اعوان اپنے سامنے کسی کو بولنے نہیں دیتیں تاہم وہ پہلی مرتبہ ان کے ساتھ کسی ٹاک شو میں شریک ہوئے تھے۔ان کے بقول انھوں نے کوئی ایسی نازیبا بات نہیں کی تھی جس پر فردوس صاحبہ تیش میں آ جاتیں۔’وہ آدھا گھنٹا بولتی رہیں، میں خاموش رہا لیکن جب میں بولنے لگا تو وہ بیچ میں ٹوکنے لگیں کہ آپ کیا بولیں گے آپ تو سر سے پیر تک بدعنوانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، جس میں پر میں نے ان سے کہا بدعنوان تو آپ ہیں۔ آپ کو آپ کی حکومت نے بدعنوانی پر عہدے سے الگ کیا۔ اس پر وہ مغلطات پر آگئیں۔‘قادر مندوخیل کا کہنا تھا ’میں انکی مغلطات برداشت کرتا رہا تو وہ ہاتھا پائی پر اتر آئیں، میرا گریبان پکڑا اور مجھے تھپڑ رسید کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد مجھ پر کپ پھینکنے کی کوشش کی۔ میں بچنے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ میرے پیچھے بھاگیں تو میں نے دروازہ بند کر کے جان چھڑائی اپنے خلاف قانونی کارروائی کی وارننگ کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا ’موسٹ ویلکم! میں خود سپریم کورٹ کا وکیل ہوں، میڈیا لاز میں پی ایچ ڈی ہوں، پاکستان کا پہلا انسانی حقوق ایوارڈ یافتہ ہوں۔ میرا بے داغ ماضی ہے۔ وہ قانونی کارروائی کرنا چاہتی ہیں تو انھیں نہ صرف شکست ہوگی بلکہ الٹا ان کے لیے اور عذاب بنے گا جب میں کارروائی کروں گا۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *