بزنس مین زبیر موتی والا نے حکومت کو مشورہ دے دیا

کراچی ( ویب ڈیسک)بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین و سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) زبیر موتی والا نے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی جو 175روپے کی بلند ترین سطح کو چھو کر اب بھی 170 روپے سےزائد کی

سطح پر ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسٹیٹ بینک ریگولیٹر ہونے کے ناطے مداخلت کرے تاکہ ڈالر کی قدر میں اضافے کو روکا جاسکے اور کسی قسم کا موثر طریقہ کار وضع کیا جائے جس کے ذریعے پاکستانی روپے کی قدر کو اس حد تک بہتر بنایا جائے کہ ڈالر واپس 150روپے کی پچھلی سطح پر آجائے تاکہ عام آدمی پر پڑنے والے مہنگائی کے اثرات کو ذائل کیا جاسکے۔دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) جو ڈالر کی اونچی قدر کا فائدہ اٹھا رہا ہے اسے بھی ہدایت کی جائے کہ وہ یا تو ٹیکس اور ڈیوٹیز کو کم کرے یا پھر جون2021 میں جب بجٹ کا اعلان کیا گیا تھا تو اس وقت کی ڈالر کی قیمت تقریباً150روپے کے آس پاس تھی تو اُسی حساب سے ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کی جانی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریحان حنیف کی سربراہی میں آل پاکستان موٹرسائیکل اسپیئر پارٹس امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی ایم ایس پی آئی ڈی اے) کے وفد کے کراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وائس چیئرمین بی ایم جی انجم نثار، صدر کے سی سی آئی محمد ادریس، سینئر نائب صدر عبدالرحمان نقی، نائب صدر قاضی زاہد حسین، سرپرست اعلیٰ اے پی ایم ایس پی آئی ڈی اے فیصل خلیل، سابق صدور کے سی سی آئی مجید عزیز، ہارون اگر، عبداللہ ذکی، افتخار وہرہ، یونس محمد بشیر، شمیم احمد فرپو، شارق وہرہ و دیگر بھی موجود تھے۔