بشیر میمن کے تہلکہ خیز انکشافات

کراچی (ویب ڈیسک) سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے بشیر میمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے نہیں وزیر قانون نے فائز عیسیٰ کا نام لیکر بات کی، وزیراعظم نے نواز شریف ، شہبازشریف، مریم نواز، خورشید شاہ، اسفندیارولی، ارسلان افتخار، قمر زمان اور دیگر کا نام لیا۔وزیراعظم نے کہا آپ اچھے افسر ہو ،

جرأت دکھانا ہوگی، اس وقت میں نہیں جانتا تھا کیس کیا ہےبعد میں وہ مجھے شہزاد اکبر اور فروغ نسیم کے دفتر لے گئے ، وزیراعظم ، فروغ نسیم ، شہزاد اکبر اور اعظم خان سے تمام میٹنگز چند گھنٹے کے دورانیے میں ہوئیں، پرائم منسٹر آفس گیٹ کا ریکارڈ بتادیگا میں کتنی مرتبہ گیا، کبھی تو ہفتے میں 3مرتبہ بھی گیا، جوڈیشل کمیشن بنادیں سچ اور جھوٹ ثابت ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو اور میڈیا اسے ایک الگ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایک انٹرویو میں سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے بشیر میمن نے کہا کہ اس وقت پوری حکومت میری کردار کشی پر لگی ہوئی ہے اور سب کا مقصد مجھے گندا ثابت کرنا ہے، مجھ سے وزیراعظم نے قاضی فائز عیسیٰ کا نام لے کر بات نہیں کی ہے یہ بات وزیر قانون نے کی جس پر میں نے کہا وزیراعظم نے مجھ سے تو نہیں کہا اگر کہتے تو میں ان کو اسی وقت کہہ دیتا یہ ہمارا کام نہیں ہے یہ کام سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے وہ یہ کرسکتی ہے اگر وزیراعظم مجھ سے یہ بات کرتے تو میں بالکل ان کو سمجھانے کی کوشش کرتا۔ بشیر میمن کا مزید کہنا تھا کہ اگر میں جھوٹ کہہ رہا ہوں تو جوڈیشل کمیشن بنادیں سچ اور جھوٹ ثابت ہوجائے گا ۔انہوں نے کہا وزیراعظم نے کبھی قاضی فائز عیسیٰ کا نام لے کر مجھ سے بات نہیں کی البتہ وزیراعظم نے مجھ سے میاں نواز شریف ، میاں شہباز شریف ، مریم نواز ، حمزہ شہباز ، سلمان شہباز ، خواجہ آصف ، شاہد خاقان عباسی ، رانا ثنا اللہ ، خورشید شاہ ، نفیسہ شاہ ، مصطفیٰ نواز کھوکھر ، اسفند یار ولی اس کے علاوہ ارسلان افتخار چوہدری،چوہدری قمر زمان سابق چیئرمین نیب کا نام لے کر بات کی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق چیئرمین نیب چوہدری قمر زمان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ کی کوئی ججمینٹ ہے اس پر نکلتی ہے تو اس پر پرچہ بنادو ۔جس پر میں نے کہا اس طرح سے تو ہر کسی کے خلاف ہی پرچے بننا شروع ہوجائیں گے ۔ وزیراعظم آفس آنے اور جانے کے سوال پر انہوں نے کہا صرف اور صرف پرائم منسٹر آفس کے گیٹ کا ریکارڈ اور پروٹوکول آفس کا ریکارڈ نکلوالیں پتہ چل جائے گا کہ میں کتنی مرتبہ گیا ہوں پی ایم آفس ۔کبھی کبھی تو ہفتے میں تین مرتبہ بھی گیا ہوں ۔ میرے اسٹاف کو بھی پتہ ہوتا تھا کہ میں کیوں جارہا ہوں اور اس کا کہیں ناں کہیں ریکارڈ بھی ہوگا انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ پارلیمانی کمیٹی بنادی جائے ، کوئی جوڈیشری کمیٹی بنادی جائے جو انکوائری کرلے کہ میں سچ کہہ رہا ہوں یا جھوٹ ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *