بطور وزیراعظم اگر آپ میت کے قریب گئے تو نقصان کا خدشہ ہے ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم کا منصب حکومت کی علامت ہے۔ ہزارہ والوں نے عمران خان صاحب کے ساتھ بوجوہ رعایت برتی ہے۔ اس سے پہلے ان کے مطالبے ریاست سے ہوتے تھے۔ اس بار حکومت سے ہیں۔ عمران خان نے لیکن اس موقع کو گنوا دیا۔ انہوں نے ہزارہ قبیلے کو یہی پیغام دیا کہ

وہ حکومت سے کوئی تو قع نہ رکھیں۔ حکومت انہیں غلط سمجھتی ہے۔نامور کالم نگار خورشید ندیم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔خان صاحب ایک غیر اہم مطالبے کو تسلیم کرنے پر کیوں آمادہ نہ ہوئے؟ میں اس سوال کا کوئی جواب تلاش نہیں کر سکا۔ ایک مخصوص مقام پر تحفظ کی فراہمی کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو ریاست کے لیے لاینحل ہو۔ پھر یہ ریاست کی حاکمیت اور ساکھ کا بھی سوال ہے۔ کیا ریاست اپنی سرحدوں میں اپنے ہی وزیراعظم کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی؟ یہ بات میرے لیے تو قابلِ قبول نہیں ہے۔پھر کیا اس کی وجہ روحانی ہے؟ کیا وزیراعظم کوکسی روحانی شخصیت نے منع کیا ہے کہ میتوں کے قریب جانا ان کے لیے اچھا شگون نہیں ہے؟ کیا اس بات کو مان لیا جائے کہ ملک کا وزیراعظم توہمات پرست ہے؟ یہ ماننا بھی مشکل ہے کہ خان صاحب آخر آکسفورڈ کے ڈگری یافتہ ہیں۔ اس لیے یہ امکان بھی دل کو نہیں لگتا۔تو کیا یہ انا کا ناقابلِ عبوردریا ہے، خان صاحب کو جس کاسامنا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کوئٹہ جانے سے ان کی انا کو کیسے ٹھیس پہنچے گی؟ کسی مظلوم کے سر پر ہاتھ رکھنے سے انا کیسے مجروح ہوتی ہے؟ کیا اس لیے نہیں جا رہے کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو نے یہی مطالبہ کیا ہے؟ کیا ملک کا وزیراعظم اس طرح ردِ عمل میں سوچتا ہے؟ وزیراعظم کا منصب تو اس سے بلند ہے۔ اس لیے انا کا مسئلہ بھی میری سمجھ میں نہیں آیا۔اورپھر یہ پریشرائز کرنا کیسے ہو گیا ؟ اگر کوئی گروہ یہ کہتا ہے کہ وزیراعظم ہمارے دکھ میں شریک ہو تو کون سے قاعدے اور دستور سے یہ پریشرائز کرنا ہے؟

ایسے اجتماعات میں جانا، عوام کو یہ احساس دلانا ہے کہ ریاست ظالموں کے نہیں، مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے جانے سے مرنے والے دوبارہ جی نہیں اٹھیں گے لیکن یہ ایک گروہ کو احساسِ تحفظ دینا ہے۔ یہ مطالبہ تو وزیراعظم کی عزت افزائی ہے۔ اسے پریشرائز کرنا کیسے کہا جا سکتا ہے؟واقعہ یہ ہے کہ خان صاحب کے اس موقف کے حق میں کوئی سیاسی، اخلاقی یا منطقی دلیل موجود نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی سیاست کو نقصان پہنچایا ہے۔ اپنی اخلاقی حیثیت کے سامنے کھڑے سوالیہ نشانات میںاضافہ کیا ہے۔ کوئی ذی عقل اس کا دفاع نہیں کر سکتا۔ شبلی فراز صاحب یا شہبازگل صاحب کا معاملہ البتہ دوسرا ہے۔ہزارہ والوں کا کیس میرے لیے وہ عقدہ ہے جو کبھی حل نہیں ہو سکا۔ بے شمار شواہد ہیں کہ انہیں بحیثیت گروہ نشانہ بنایاجاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک مختصر سے گروہ کوکیوں تحفظ فراہم نہیں کیا جاسکا جبکہ یہ معلوم ہے وہ بار بار ہدف بنتاہے؟ بلوچستان کے عمومی حالات سے ان واقعات کا کیا تعلق ہے؟ وہاں اس وقت کون برسرِ اقتدار ہے؟ کون کس کو جواب دہ ہے؟ ان سوالات کے جواب ہمارے پاس موجود نہیں۔ یہ کبھی واضح نہیں ہو سکا کہ بلوچستان میں لوگ کس سے فریادکریں اور کون ہے جو ان کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے؟ کوئی ریاست اپنے ایک حصے کو مسلسل ایک غیرواضح نظام کے حوالے نہیں کر سکتی ہے۔ بلوچستان دیگر صوبوں کی طرح کیوں نہیں ہے، جہاں ایک سیاسی نظام موجود ہے اور کمزور ہونے کے باوجود، لوگ اس کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔

قبائلی علاقہ جات کے بارے میں کم از کم قانونی طور پر تو واضح ہو گیا کہ ان کا حکمران کون ہے۔ وہ ایک صوبے کا حصہ ہیں اور شہریوں کو معلوم ہے کہ صوبے کا انتظام کیسے چلتا ہے۔ امید ہے کہ حقیقی حکمرانی کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ بلوچستان میں تو ابھی پہلا مرحلہ ہی طے نہیں ہوا۔ ابہام در ابہام ہے۔ اس سے نکلنا اس وقت پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ہزارہ والوں نے خان صاحب کو ایک موقع فراہم کیا تھا۔ اگر وہ سیاسی مزاج رکھتے تو اس سے فائدہ اٹھاتے۔ یہی نہیں وہ آگے بڑھ کر اسے قومی مسئلہ قراردیتے اوراس کے لیے ایک قومی مکالمے کے میزبان بنتے۔ ایک آل پارٹیز کانفرنس بلاتے اور لوگوں کودعوت دیتے کہ اسے مسلکی یا سیاسی مسئلہ بنانے کے بجائے، ایک قومی مسئلہ سمجھا جائے۔ اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دیتے کہ وہ آئیں اور اپنی تجاویز پیش کریں۔ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی اس کا امکان ہے۔ یہ بات بار بار ثابت ہو چکی کہ عمران خان صاحب قوم کو مجتمع کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ یہ ایک لیڈر کی پہلی خوبی ہے کہ وہ لوگوں میں اتفاقِ رائے کے امکانات کو بڑھاتا اور اختلافِ رائے کو کم کرتا ہے۔ خان صاحب کی سیاست اس کے برعکس ہے۔ وہ نفرت اور ہیجان کو اپنی قوت سمجھتے ہیں۔ یہ ریاست کی ناکامی ہے یا حکومت کی؟ جب آٹھ سال پہلے خان صاحب نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ ریاست کہاں ہے تو یہ سوال خود جواب بھی تھا۔ یہ سوال آج بھی اپنی جگہ ہے۔ خان صاحب ہزارہ والوں کو حل دے رہے ہیں۔ گویا آج وہ اسے حکومت کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ عوام پریشان ہیں کہ اس حادثے کا ذمہ دار کسے قرار دیں۔ میں جب بلوچستان کے حالات پر نظر ڈالتا ہوں اور خود کو وہیں کھڑا دیکھتا ہوں جہاں خان صاحب آٹھ سال پہلے کھڑے تھے۔ ہزارہ والوں نے اپنا مخاطب آج کیوں تبدیل کر لیاہے؟ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *