بل گیٹس کی اہم پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) ۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نامورامریکی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں مائیکروسوفٹ کمپنی کے بانی بل گیٹس نے کہا کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا میں2022 تک لاک ڈاؤن رہ سکتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 4 سے 6 مہینے کورونا وائرس کی وبا میں بدترین

ثابت ہوں گے، موسم سرما کے مہینے بدترین ثابت ہوسکتے ہیں اور اگلے چھ ماہ تک ریسٹورنٹس بھی بند رہیں گے، انسٹیٹوٹ فار ہیلتھ میٹرکساینڈ ایولوشن نے 2 لاکھ اضافی اموات کی پیشگوئی کی ہے۔انھوں نے بتا کہ اگر ہم اصولوں پر عمل کریں یعنی فیس ماسک پہنیں اور سماجی دوری کے اقدامات پر عمل کریں تو متعدد اموات کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔مائیکرو سوفٹ کے بانی کا مزید کہنا تھا کہ 2021 کے اختتام تک ہی حالات ماضی کی طرح معمول پر آسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ جب تک دنیا کے تمام ممالک سے کورونا کا خاتمہ نہیں ہوجاتا اس وائرس کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ رہے گا۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ کورونا وبا سے عالمی معیشت پر بھی مفی اثرات ہوں گے اگر ہم مزید 12 سے 18 ماہ تک احتیاط کرتے رہے تو حالات دوبارہ معمول پر آسکتے ہیں۔واضح رہےکہ گزشتہ ماہ نیویارک ٹائمز ڈیل بک کانفرنس کے دوران ایک انٹرویو میں بل گیٹس نے کورونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے بعد کی زندگی کے حوالے سے چند دلچسپ پیشگوئیاں کی تھی۔بل گیٹس نے کہا کہ رواں برس کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں دفتری امور اور سفر میں آنے والی تبدیلیاں وبا کے خاتمے کے بعد بھی برقرار رہیں گی۔انھوں نے کہا کہ کاروبار کے سلسلے میں سفر کم ہوجائے گا،  دوسری جگہ جا کر کاروباری امور طے کئے جانے کا سنہری اصول کورونا وبا کے بعد نہیں رہے گا اور بیشتر کمپنیاں اس طرح کے کاروباری دوروں سے گریز کریں گی۔انہوں نے کہا کہ میری پیشگوئی ہے کہ50 فیصد کاروباری سفر اور دفاتر کے 30 فیصد سے زیادہ دن ختم ہوجائیں گے۔بڑی تبدیلیوں میں سے ایک یہ ہوگی کہ کسی طرح کمپنیاں کام سے متعلق سفر کا انتظام کرتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے کاروباری سفر کے لیے ایک سے دوسری جگہ جاکر لوگوں سے مل کر کاروباری امور طے کیے جاتے تھے ، اب یہ سنہری اصول نہیں رہے گا اور بیشتر کمپنیاں اس طرح کے کاروباری دوروں سے گریز کریں گی۔

Comments are closed.