بنگلہ دیشی ٹکہ کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت ان دنوں کیا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) ابھی ذوالفقار علی بھٹوکو اقتدارسنبھالے ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ تما م اخبارات کی لیڈ سٹوری کچھ یوں تھی کہ بھٹو نے ملک بھر سے 300 سے زائد سرکاری افسران کو بدعنوانی کی اطاعت پر ملازمتوں سے نکال دیا تھا۔ میں نے ان ساری خبروں کا متن پڑھا مگر آج تک فیصلہ نہ کر سکا

کہ سات دن کے اندر اندر جبکہ ذرائع ابلاغ بہت محدود تھے حتیٰ فیکس بھی نہ تھی۔ تار گھر ہوا کرتے تھے۔ اس قلیل ترین مدت میں ملک بھر سے بدعنوان افسران کی فہرستیں بھی بن گئیں یہ قطعی طور پر ناممکن تھا۔نامور کالم نگار میاں غفار احمد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ دراصل یہ بھٹو کی خوف کی فضا پید ا کرنے اور عوا م کی توجہ تقسیم کرنے کی منظم کوشش کی تھی، نکالے جانے والے افسران کی فہرست میں بہت سے ایماندار آفیسرز کے نام بھی شامل تھے کہ ان کے قریبی لوگ بھی حلف دینے کو تیار تھے اور ہر طرح کی صفائی سال ہاسال تک دیتے رہے۔ غالباً انہی لوگوں کی فہرست میں وزیراعظم عمران خان کے والد اکرام اللہ خان نیازی بھی شامل تھے جوکہ پیشے کے اعتبا ر سے سول انجینئر تھے۔اگلے تین ماہ کے اخبارات کا مطالعہ مجھ جیسے طالب علم پر یہ آشکار کر چکا تھا کہ پاکستان کا دولخت ہونا اب حکومت، سرکاری اداروں اور افسر شاہی کا مسئلہ ہی نہیں رہا اور اب مسائل کچھ اور ہی ہیں لہٰذا جو ہو گیا سو ہو گیا۔ ہمارے ہاں تحقیق کا شدید فقدان ہے اور عوام کو حقائق سے دور رکھنے کا رواج تو لیاقت علی خان کی موت کے بعد ہی سے شروع ہو چکا تھا۔ قوموں کی زندگی میں 50سالوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ آج ہم ہر میدان میں شکست کھا گئے حتیٰ کہ سرکاری بینک بھی اپنے کنٹرول میں نہ رہا۔ بنگالیوں نے ہر میدان میں کامیابی حاصل کرکے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ہجوم نہیں بلکہ قوم ہیں۔سچائی ہمیشہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔

غلطی ہم سے ہوئی ہم علاقوں، رقبوں اور زمینوں پر توجہ مرکوز کرتے رہے اور دلوں کو فتح نہ کر سکے۔ یہ الگ بات ہے کہ جنرل اعظم خان نے بطور گورنر بنگالیوں کے دلوں میں جلد اپنا مقام بنا لیا تھا اور محبت کے رشتے استوار کرلئے تھے۔ انہیں بنگالی سیاست دانوں، دانشوروں حتیٰ کہ عوام نے بھی دل سے قبول کرلیا تھا مگر صدر ایوب خان نے بغیر کسی معقول وجہ کے انہیں ہٹا کر منعم خان کو تعینات کرکے نفرت کی خلیج کو دوبارہ بڑھا دیا۔کاش ہم بنگالی سیاستدانوں کی طرح عوام کے دلوں کو فتح کرتے۔ کاش ہم علاقوں اور رقبوں پر انسانوں کو ترجیح دیتے۔ کاش ہمارے لئے انسان پہلے اور علاقے بہت بعد میں ہوتے۔ کاش ہم دشمن اور دوست کے کھیل سے باہر نکل کر بنگالیوں کو دوست بناتے تو آج بھی دنیا کے نقشے پر سب سے بڑا اسلامی ملک پاکستان ہی ہوتا۔ مگر ہم نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا اور بچے کھچے پاکستان پر وہی دوست دشمن والا فارمولا لاگو کر رکھا ہے جو کہ مشرقی پاکستان میں سرعام اذیت ناک موت سے ہمکنار ہو چکا ہے۔ پاکستان میں کرنسی روپیہ اور بنگلہ دیش میں ٹکہ کہلاتی تھی۔ جسے لوگ آنہ ٹکہ کہتے تھے جو کہ شاید دونوں کرنسیوں کا ملاپ تھا۔ آنہ 6 پیسے اور ٹکہ نصف یعنی 3 پیسے ہوتا تھا۔ ہماری ستم ظریفی دیکھئے کہ آج 50 سال بعد بنگلہ دیشی ٹکہ پاکستان سے دوگنا ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش کا ایک ٹکہ ہمارے دو روپے 6 پیسے کے برابر ہے۔ یہاں تو شاید ٹکے ٹوکری یا دو ٹکے کے آدمی طنزیہ طور پر کہا جاتا ہو گا مگر 50 سال بعد سچ کا سامنا کیا جائے تو دنیا بھر میں ٹکے ٹوکری ہم ہو چکے ہیں اور بنگلہ دیش خود کو نہ صرف سنبھال گیا بلکہ ہم سے بہت آگے نکل گیا۔ وہ قوم بن گئے اور ہم ہجوم ہی رہے۔

Comments are closed.