بنگلہ دیش کے قیام کی سب سے اہم وجہ کیا تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) جہاں ایک جانب زبان کا معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا، وہیں کئی محققین معاشی، سماجی، اور ثقافتی طور پر مشرقی پاکستانیوں کے خلاف برتے گئے رویے اور ان کی حق تلفی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان ٹوٹنے میں ان عوامل کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔

لاہور میں مقیم محقق و مصنف ڈاکٹر طارق رحمان سے جب بی بی سی نے اسی بابت سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ بنیادی مسئلہ مشرقی پاکستان کے ساتھ حق تلفی کا تھا۔’چاہے ان کے ساتھ ثقافتی امتیاز رکھا گیا، یا وہ طاقت کے بٹوارے میں امتیاز ہو یا وہ زبان اور معاشی امتیاز ہو، یہ واضح ہے کہ انھیں انصاف نہیں دیا گیا۔’پروفیسر احسن بٹ بھی اسی نکتے کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی بنگالی آبادی کے خلاف عدم مساوات اور ہر طرح کا امتیازی سلوک کرنے سے ان کی آبادی میں وہ غم و غصہ تھا جس کا نتیجہ 1971 کی صورت میں نکلا۔دوسری جانب انعم زکریا کہتی ہیں کہ دیگر عوامل جیسے معاشی استحصال ہو یا آمریت، ان کی اپنی تحقیق میں جو بات بار بار سامنے آئی وہ مغربی پاکستان کی جانب سے ثقافتی تسلط کا مظاہرہ تھی۔ان کا کہنا ہے کہ مشرقی پاکستانیوں کے خلاف نسلی نوعیت کے القابات استعمال کیے گئے، انھیں ‘کمزور اور کم درجے’ کے طور پر دیکھا گیا اور ان کے خلاف رویہ اور بیانیہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ ان کی ثقافت ‘ہندو’ ہے اور اسے ‘پاک’ کرنا ہے۔ڈاکٹر طارق رحمان نے بھی اسی حوالے کہا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کو توہین آمیز انداز میں پکارا جاتا تھا۔’میرے نزدیک اگر آپ کسی کے ساتھ انصاف سے پیش نہ آئیں اور انھیں انھیں برابر کا شہری سمجھنے کے بجائے نچلے درجے کا شہری سمجھیں تو میری نظر میں یہ ملک ٹوٹنے کی بنیادی وجہ تھی۔’البتہ جب ڈھاکہ یونی ورسٹی کی سابق پروفیسر میگھنا گوہاٹھاکرتا سے جب بی بی سی نے اسی بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ زبان اور ثقافت میں تفریق اور معاشی امتیاز بنگلہ دیش کی آزادی کی بڑی وجہ تھے لیکن ان کے نزدیک سب سے اہم وجہ مغربی پاکستان کی مکمل طور پر ملکی فیصلہ سازی پر تسلط کی پالیسی تھی۔’میرے خیال میں اسلام آباد سے مرکزی حکومت کی مکمل فیصلہ سازی اور ساتھ ساتھ مشرقی حصے میں پیدا ہونے والی کسی بھی مزاحمت کے خلاف جارحیت کا استعمال کر کے اسے دبانے کی کوشش سب سے اہم وجوہات تھیں۔ اگر جمہوری طرز عمل اپنایا جاتا اور وسائل کو مساوات سے بانٹا جاتا تو معاشی اور ثقافتی تفریق کو قابو میں کیا جا سکتا تھا۔’