بنی گالہ کا خرچہ چلانے والا الزام جہانگیر ترین نے خود جسٹس (ر) وجیہہ الدین سے لگوایا ہے ، پس پردہ کیا چل رہا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) اللہ تعالی فرماتے ہیں ‘‘بلا شبہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ عہدے ان کے اہل لوگوں کو دیے جائیں۔‘‘ (النساء )۔۔۔ پاکستان کو تباہی کے دہانے تک سب نے مل کر پہنچایا ہے پھر موازنہ بنگلہ دیش سے کرتے انہیں لاج بھی نہیں آتی ۔سقوط ڈھاکہ 50 سال ہوئے

بنگلہ دیش کہاں پہنچا اور ہم کہاں کھڑے ہیں ؟نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔کہنے والوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کیا بنگلہ دیش کو افغان وار کا سامنا کرنا پڑا؟ایٹمی تجربہ کے بعد امریکہ کو پابندی کا سامنا رہا،کیا 9-11 کے بعد امریکہ کو 70000 جانوں،100 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا؟کیافٹف یا IMF کی پابندیوں کا شکار ہے؟کیابنگلہ دیش کی اشرافیہ اتنی ہی بدعنوان ہے جتنی پاکستان کی ہے؟اور فوجی حکومت نے جمہوریت کا جنازہ نکالا؟۔ کیا اس کی مثال بھی ملتی ہے ؟ پاکستان کوبدعنوان ترین سطح پر لانے کے لئے جو لچ تلتے چلے آرہے ہیں کیاکسی ملک میں اس کی مثال مل سکتی ہے ؟ پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا اور حاکم وقت جھوم رہا تھا۔ 73 سالوں میں حکمرانوں کی عیاشیوں کی فہرست بھی طویل ہے۔ کبھی نکاح کو جواز بنا لیا کبھی سرور عیاشی اور بدعنوانی سے جہنم کما لیا۔کسر کسی نے نہیں چھوڑی۔آج ایک خبر پر نظر پڑی کہ لاہور وومن کالج سمن آباد کی پولیٹیکل ڈیپاٹنمنٹ کی ہیڈ پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ عمران نے شہبازگل سے PhD کے ڈگری وصول کرنے سے انکار کردیا۔ڈاکٹر فوزیہ نے کہا شہباز گل کی کیا حیثیت ہے کہ ہمارے پروگرام میں as cheif guest آئے اور میں اس سے ڈگری وصول کروں؟پی ٹی آئی جب اپوزیشن میں تھی تب ان کے لوگ بھی یہ تماشے کیا کرتے تھے۔سیاستدانوں کی بے عزتی کوئی نئی خبر نہیں۔ایک اور خبر کے مطابق “جہانگیر ترین 50لاکھ روپے ماہانہ عمران خان کے گھر کا خرچ اٹھایا کرتے تھے

۔سابق پی ٹی آئی رہنما جسٹس وجیہہ الدین کا دعویٰ۔ جہانگیر ترین بھی تو ٹیکس چوری اور چوری کی کمائی میں سے نوازتا تھا۔یوتھ پارٹی جسٹس پر آگ بگولہ ہے۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ورکرز خوشامد میں بھلے گدھے گھوڑے میں فرق بھول جائیں پراتنا ضروریاد رکھیں قائدین کے کرتوتوں کی گواہی جب روز حشردینا پڑی تو کون بچائے گا؟ جہانگیر ترین نے عمران خان پر جسٹس وجیہہ کے الزامات کو جھوٹ قرار دیکر اپنی پاکدامنی کا بندوبست کر لیا ہے۔ترین کھیلنا جانتا ہے۔پہلے بیان دلایا پھرکیش کرا لیا۔ ہر ادارے میں چھوٹے بڑے ڈان بیٹھے ہیں ، شیطان بھی ان سے پناہ مانگتا ہے ،عوام کی گردن پر ان کا پائوں ہوتا ہے ، بے حدگھنائونا طبقہ ہے یہ۔۔۔ ادھرتین سو کنال کے محل کا رہائشی وزیراعظم غریب عوام سے کہہ رہا ہے کہ پیسہ ضروری نہیں انسانیت ضروری ہے،او بھائی ارسطو۔ بھوک انسان کوحیوان بنا دیتی ہے ۔اس صادق اور امین سے کوئی پوچھے کہ بنی گالہ کی 300 کینال زمین کس ریٹ پہ خریدی تو یقیناً جواب ملے گا 100 روپے مرلہ کے حساب سے یعنی صرف 2000 کی کینال خریدی. کیا جسٹس ثاقب نثارکو نظر نہیں آیا کہ خان نے گورنمنٹ کو ان 300 کینال کی اتنی کم قیمت دے کر کیسے اربوں روپے کا نقصان پہنچایا. آئی ایم ایف سے قرضہ لیکر خود تو موت کو سینے سے نہیں لگائیں گے لیکن عوام کو ضرور ڈبو ڈالا ہے۔مسلمانوں نے اپنے اعمال سے اپنے لئے خود زوال خریدا ہے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا (اللہ! ہمارے شام اور یمن میں برکت فرما) صحابہ کرام نے عرض کیا: “اورہمارے نجد میں بھی؟” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یا اللہ! ہمارے شام اور یمن میں برکت فرما)، صحابہ کرام نے عرض کیا: “اورہمارے نجد میں بھی؟” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وہاں زلزلے، فتنے ہونگے اور وہیں سے شیطان کا سینگ رونما ہوگا)بخاری: (1037) مسلم: (2905) ۔انا اللہ و انا الیہ راجعون۔پاکستان کا موازنہ بنگلہ دیش سے کرنے والوں سے گزارش ہے ہر مسلمان اپنے گریبان میں جھانکے تو پاکستان تا عرب زوال کا سبب معلوم ہو جائے گا ۔

Comments are closed.