بورڈ میں ملازمت کرنے والے ماموں کی مہربانیاں :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار گل نوخیر اختر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ماشاء اللہ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں سب پاس ہوگئے ۔کچھ کے نمبرز کم آئے اور کچھ کا ایک نمبر بھی کم نہیں ہوا۔ ایسے ہی ایک ہونہار اور قابل طالبعلم سے کل میری ملاقات ہوئی۔ میری خوش نصیبی کہ

یہ طالبعلم میرے ہی ایک محلے دار کا بیٹا ہے اور اِس جینئس بچے نے گیارہ سو میں سے پورے گیارہ سو نمبر حاصل کیے ہیں۔ سچی بات ہے کہ اس سے بات کرتے ہوئے میں خاصی جھجک کا شکار تھا کیونکہ ہمارے دور میں اتنے نمبر چھ طالبعلم مل کر حاصل کیا کرتے تھے۔ میری درخواست پر اِس ہونہار بچے نے مجھے ملاقات کا وقت دے دیا۔ میں اپنے ساتھ ایک گلدستہ لے گیا تھا۔ جاتے ہی برخوردار کو پیش کیا اورسیلفی بھی بنوائی۔لائق فائق طالبعلم نے مسکراتے ہوئے گلدستہ وصول کیا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔ میں نے اسے فتح مبین پر مبارک باد دی اور پوچھا کہ’’ بیٹا آپ نے سائنس رکھی تھی، بڑا مشکل مضمون ہے،یقیناً آپ مستقبل میں سائنسدان بننا چاہتے ہیں۔‘‘طالبعلم نے بے نیازی سے ٹانگ پر ٹانگ رکھی۔’’ نہیں انکل !اصل میںسائنس کی ٹیوشنز بہت اچھی ملتی ہیں۔‘‘میں نے مرعوب ہوکراسے داد دی ’’ہاں یہ تو ہے۔اچھا یہ بتائیں کہ آپ ماشاء اللہ اتنے ذہین ہیں تو کچھ تعلیم کے علاوہ بھی مشاغل ہوں گے؟‘‘۔ طالبعلم نے اثبات میں سرہلایا’’جی جی! میں پب جی کے 100 RP پرہوں، اس کے علاوہ ٹک ٹاکر بھی ہوں۔‘‘ میرے چہرے پر بشاشت پھیل گئی۔ بچہ واقعی انمول تھا۔ ’’بیٹا آپ نے سو فیصد نمبر حاصل کیے خوش تو بہت ہوں گے۔‘‘ طالبعلم کے چہرے پر دُکھ کے آثار نمایاں ہوگئے۔ ’’نہیں انکل!اصولی طور پر میرے نمبر گیارہ سو میں سے ساڑھے گیارہ سو آنے چاہیے تھے لیکن شاید مارکنگ ٹھیک نہیں ہوئی۔‘‘ میری ٹانگیں کانپنے لگیں’’بیٹا گیارہ سو میں سے ساڑھے گیارہ سو نمبر کیسے آسکتے ہیں؟

‘‘اُس نے پہلو بدلا’’آسکتے ہیں انکل! میرے ماموں بورڈ میں ہیں وہ بتا رہے تھے کہ تھوڑی سی توجہ سے ایسا ممکن ہے‘‘۔میں نے بے اختیار پوچھا’’آپ کی توجہ سے یا ماموں کی توجہ سے؟‘‘ طالبعلم نے کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں میری طرف دیکھا۔میں نے جلدی سے اگلا سوال پوچھ لیا’’آپ نے پیپرز کی تیاری کیسے کی؟‘‘ طالبعلم کے چہرے پرعاجزی نمودار ہوگئی۔’’بس انکل میں ہر وقت اپنی کامیابی کی دعائیں مانگا کرتا تھا اس لیے…‘‘ میں نے جلدی سے اس کی بات کاٹی’’وہ تو اچھی بات ہے لیکن خالی دعائوں سے تو پیپرز اچھے نہیں ہوسکتے ناں، آپ نے اپنے طور پر محنت بھی تو کی ہوگی؟‘‘ اس نے سعادت مندی سے جواب دیا’’جی ہاں! لیکن کامیابی دعائوں کی وجہ سے ہی ملی‘‘۔ میں نے حیرت سے پوچھا’’وہ کیسے؟‘‘۔ بچے نے بالوں میں ہاتھ پھیرا’’میں نے اکیڈمی والوں کے کہنے پر صرف چند سوالات کی تیاری کی تھی اور دعائوں کی وجہ سے صرف وہی سوالات پیپر میں بھی آگئے، اکیڈمی والوں نے بینر پر میری تصویر بھی لگائی ہے۔‘‘ ماشاء اللہ ماشاء اللہ…میں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا’’آپ کا کوئی اور دوست بھی سو فیصد نمبر لے سکا؟‘‘۔اس کی ہنسی نکل گئی’’نہیں…میرا ایک محلے دار میرے ساتھ ہی پڑھتا تھا، ہر وقت کتابوں میں غرق رہتا تھا، میں نے بڑا سمجھایا کہ جب پانچ سوال آنے ہیں تو ساری کتاب پڑھنے کا کیا فائدہ؟ لیکن وہ مانتا ہی نہیں تھا، کتاب تو اس نے ساری پڑھ لی لیکن نمبر پھر بھی چار سو آئے‘‘۔میں نے گہری سانس لی’’بڑا افسوس ہوا…

ٹھنڈی چائے میں ایک اور چمچ چینی ڈالتے ہوئے پوچھا’’ادب سے لگائو ہے؟‘‘۔ فوراً مودب ہوکر ہاتھ باندھ کر بیٹھ گیا’’جی جی بہت‘‘۔ میں نے جملہ تبدیل کیا’’بیٹا ادب سے مراد کہ کوئی افسانے یا شاعری وغیرہ بھی پڑھتے ہیں‘‘۔ تیزی سے بولا’’اچھا اچھا…وہ تو میں بہت شوق سے پڑھتاہوں بلکہ میں خود بھی شعر بول لیتا ہوں۔‘‘ میں کسمسایا’’بیٹا شعر بولتے نہیں کہتے ہیں…خیر اپنا کوئی شعر سنائیں‘‘۔ وہ سیدھا ہوا اور نہایت پرجوش لہجے میں بولا’’مالی نے پھول توڑا بلبل کو دِکھا دِکھا کر…‘‘میں نے جلدی سے اسے وہیں روکا اور پسندیدہ شاعر کے بارے میں پوچھا۔ طالبعلم نے بتایا کہ اسے ’’منٹو اوراشتیاق احمد یوسفی‘‘ کی شاعری بہت پسند ہے۔اس نے یہ بھی بتایا کہ انڈیا کی ساری معیشت ہمارا ’پنک سالٹ‘ سستا خرید کر مہنگا بیچنے سے چل رہی ہے۔ عالمی وبا کے لیے اب چپ کی بجاے ڈائریکٹ وڈیو کیمرے ڈالے جارہے ہیں۔ ڈالراوپر جانے کی فکر نہیں کرنی چاہئے کیونکہ بہرحال ایک نہ ایک دن سب نے اوپر جانا ہے۔جمہوریت میں کچھ نہیں رکھا یہ قوم صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتی ہے۔سیاستدان نہ ہوتے تو ہم اس وقت سپرپاور ہوتے۔کشمیر آزاد کروانے کے لیے ہمیں انڈیا پر تین چار ایٹمی ہتھیار گرا دینے چاہئیں آخر یہ ہتھیار ہم نے اسٹورمیں رکھنے کے لیے تو نہیں بنائے۔ایک سال تک اگر ہم سب انڈے، چاول، گندم، گھی، آئل، چینی اور پھل وغیرہ استعمال کرنا چھوڑ دیں تو یہ چیزیں انتہائی سستی ہوجائیں گی۔سی پیک ایک انڈرپاس ہے جس کے نیچے سے ہم جب چاہیں چائنا آجاسکتے ہیں۔اگر پانچ دفعہ خود کو کہا جائے کہ’’تم کرسکتے ہو…تم کرسکتے ہو…تو بندہ سر کے بالوں سے بلڈوزر بھی کھینچ سکتا ہے۔چاہ بہار بندرگاہ لاہور میں مغل پورہ کے قریب واقع ہے نیز بابا وانگا کے مطابق امریکہ اگلے تین سال میں تباہ ہوجائے گا۔ بلاشبہ طالبعلم سے گفتگو کے بعد مجھ پر عقل و دانش کی نئی راہیں کھلیں۔میں اٹھ کھڑا ہوا اور جاتے جاتے ایک آخری سوال کیا،’’بیٹا آپ مستقبل میں کیا کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ طالبعلم نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے بازو آگے کرتے ہوئے مجھ سے ہاتھ ملایا’’بس انکل ! سی ایس ایس کرنے کا ارادہ ہے‘‘۔میں نے اُس کاشکریہ ادا کیا اور باہر آنے کے لیے دوقدم بڑھائے ہی تھے کہ طالبعلم زور سے چیخا ’’انکل دھیان سے!آگے دیوار ہے، باہر کا دروازہ دوسری طرف ہے…‘‘

Comments are closed.