بولتی بند کر وا دینے والے حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار تنویر قیصر شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔سچی بات تو یہ ہے کہ مبینہ ویڈیو بھی مشکوک۔خاص طور پر ویڈیو کا سینیٹ کے انتخابات سے قبل ریلیز کیا جانا۔ ویڈیو میں بعض سیاسی جماعتوں کے کئی خواتین و حضرات کے چہرے بے نقاب ہُوئے ہیں ۔

انھیں سزا دینا ابھی باقی ہے ۔ سینیٹ انتخابات میں کروڑوں روپے کی دیہاڑیاں لگانے والوں کا سدِ باب از بس ضروری ہے۔لوگوں کے منہ بند نہیں کیے جا سکتے۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ سینیٹ انتخابات سے قبل وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے ارکانِ اسمبلی کوفی کس کروڑوں روپے کے ’’ ترقیاتی فنڈز‘‘ دینے کے اعلان کو کیا نام دیا جائے؟ اس سوال کے باوصف وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ وہ سینیٹ انتخابات میں جدید بدعنوانی کا انسداد کر کے رہیں گے۔ اس خواہش میں رنگ بھرنے کے لیے وہ چاہتے ہیں کہ ایوانِ بالا کے انتخابات اوپن بیلٹ سے کروائے جائیں ۔ اس سلسلے میں صدرِ پاکستان آرڈیننس بھی جاری کر چکے ہیں۔ یہی کیس عدالتِ عظمیٰ کے رُو برو بھی ہے ۔ وہاں سے ملے جلے اشارے آ رہے ہیں۔ حکومت اور اس کے لاتعداد ترجمان بھی یہی متفقہ بیان دے رہے ہیں کہ سپریم کورٹ، سینیٹ انتخابات سے متعلق جو فیصلہ بھی کرے گی، ہمیں قبول ہوگا۔ اب سب نظریں عدالتِ عظمیٰ پر لگی ہیں ۔ اب گیند عدالتِ عظمیٰ کی کورٹ میں ہے ۔دیکھتے ہیں وہاں سے کیا فیصلہ صادر ہوتا ہے ۔ لیکن اپوزیشن یک زبان ہو کر اوپن بیلٹ کی مخالفت کرتی نظر آ رہی ہے ۔ مثال کے طور پر نون لیگ کے سیکریٹری جنرل، احسن اقبال، بلند آواز سے بار بار کہہ رہے ہیں: ’’اوپن بیلٹ سے عمران خان اپنے اووَرسیز دوستوں کو سینیٹ میں لانے کی ’’سازش‘‘ کررہے ہیں۔‘‘لفظِ سازش خاصا بدنام بھی ہے اور سنگین بھی ۔ اگر عمران خان کی یہ خواہش ’’سازش‘‘ ہے تو پو چھا جا سکتا ہے کہ نون لیگ کے رہبرِ اعظم اور سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف نے اپنے 2 اووَرسیز دوستوں کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کا رکن کیوں بنایا تھا؟ یہ دونوں افراد نیویارک کے رہائشی تھے۔نام کیا لینا؟ ان ’’خوش بختوں‘‘ کے نام سب جانتے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *