بٹوں اور کشمیریوں کی صرف نانی سانجھی کیوں ہوتی ہے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میں نے اپنے گزشتہ کالم پنجاب پولیس نامہ “ کی پہلی قسط کے آخر میں سابق آئی جی بلوچستان جناب محسن حسن بٹ کا ذکر خیر کیا تھا‘ ان کے ساتھ قدرتی طور پر میرا رشتہ یہ طے ہے ”ہماری نانی سانجھی ہے“

کشمیریوں یعنی بٹوں‘ میروں‘ خواجوں‘ ڈاروں‘ وائیوں‘ کچلوﺅں کے بارے میں مشہور ہے ان کی نانی سانجھی ہوتی ہے اس کا مطلب ہے کہیں نہ کہیں سے ان کی آپس میں رشتہ داری نکل آتی ہے‘ مرحوم دلدار پرویز بھٹی ازرہ مذاق اکثر اپنے کشمیری دوستوں سے پوچھتے تھے آپ کی صرف نانی سانجھی کیوں ہے؟ نانا سانجھا کیوں نہیں؟؟؟ مرحوم دلدار پرویز بھٹی کا رنگ بہت کالا تھا‘ ایک بار انہوں نے کسی سے کہا ”ہم بھی بٹ ہوتے ہیں“ ان سے ان کی کالی رنگت کی طرف دیکھا تو وہ کہنے لگے”ہم اصل میں افریقہ کے بٹ ہوتے ہیں“ کشمیریوں کی نانی سانجھی ہونے کی بات شاید اس لئے کہی جاتی ہے بے شمار دوسری برادریوںکی طرح کشمیری برادری بھی اپنے بچوں کے رشتے کسی اور برادری میں نہیں کرتے تھے‘ یہ میں اس زمانے کی بات کر رہا ہوں جب بچوں کے رشتہ طے کرنے کے اختیارات ان کے والدین یا بزرگوں کے پاس ہوتے تھے‘ اب ا کثر بچوں کی شادیوں کی اطلاع ان کے والدین کو اس وقت ہوتی ہے جب بچے خود والدین بننے والے ہوتے ہیں اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے ہم اپنے بچوں کے رشتے طے کرتے ہوئے ان کی پسند و ناپسند کا خیال نہیں رکھتے۔ مجھے اس موقع پر جناب عطاءالحق قاسمی کا ایک کالم یاد آ رہا ہے انہوں نے لکھا تھا ”ہمارے مشرقی معاشرے میں والدین اپنے بیٹے سے پوچھتے ہیں ”فلاں لڑکی کے ساتھ تمہارا رشتہ طے کر دیں؟“ لڑکا اگر ہاں کہہ دیتا تو اس کا رشتہ وہاں طے کر دیا جاتا تھا اور اگر وہ ناں کہہ دیتا پھر بھی وہاں کر دیا جاتا تھا“

Comments are closed.