بڑا اعلان کردیا گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ہفتہ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں گے‘پارٹی ارکان کو اختیار دیتا ہوں کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے دوران میرے سامنے ہاتھ اٹھاکر کہہ دیں کہ میں اہل نہیں ہوں ‘ میں اپوزیشن میں بیٹھ جاؤں گالیکن یہ نہ کریں کہ مجھے

کہیں ووٹ آپ کو دیں گے اور پیسہ لیکر ووٹ کسی اور کو دے دیں ‘اپنی آخرت تباہ نہ کریں۔سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلا ‘ہمارے 16ارکان بکے ‘اسمبلی سے نکل بھی گیاتو چوروں کو نہیں چھوڑوں گا‘ان کے دور میں پاکستان گرے لسٹ میں گیا‘پی ڈی ایم کے لیڈر یاد رکھیں میں حکومت میں رہوں یا نہ رہوں ملک کے غداروں کا مقابلہ کرتا رہوں گا۔جب تک زندہ ہوں قانون کی بالادستی کیلئے جدوجہد جاری رکھوں گا‘ مجھے اقتدار جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ میں نے کون سی فیکٹریاں لگائی ہیں ‘رشتہ داروں کو نوازا ہے یا مے فیئرمیں گھر خریدا ہے ‘مجھے خدا کا خوف ہے‘اپنا خرچہ خوداٹھاتاہوں کیونکہ ملک میں بھوک ہے ‘جو شخص کروڑوں روپے خرچ کرکے سینیٹر بنے گاوہ حاتم ہے ‘وہ ادھر سے ریکورکرے گا۔اسلام آباد کی سینٹ کی نشست پر یوسف رضا گیلانی کو جتوانے کیلئے پیسہ استعمال کیا گیا‘ گیلانی کا ماضی دیکھ لیں ‘اس کا بیٹابھی پیسہ لگارہاہے ‘میثاق جمہوریت میں سینیٹ انتخابات اوپن کرانے پر اتفاق کرنے والوں نے سپریم کورٹ میں اس کی مخالفت کی‘میں پہلے نہیں سمجھا کہ اوپن بیلٹ کی مخالفت کیوں کی گئی۔ان کا مقصد یوسف رضا گیلانی کو پیسے سے کامیاب کرا کر میرے اوپر عدم اعتماد کی تلوار لٹکانا تھا‘الیکشن کمیشن سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا ذمہ دارہے ‘ الیکشن کمیشن نے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور ہمارے بکنے والے 16ارکان کو بھی بچالیا۔15 سو بیلٹ پیپرزپر بارکوڈلگانے میں کیامسئلہ تھا ‘اگر ایسا ہوجاتاتو ہمیں ووٹ بیچنے والوں کا پتہ چل جاتا‘ ہمارے یہاں بدعنوانوں پر

پھول پھینکے جاتے ہیں ‘بڑے بڑے صحافی ایک سزایافتہ مجرم کی تقریر نشرکرانے عدالت چلے گئے۔عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے چوروں کا ساتھ دینا ہے یا ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، صرف قوانین کرپشن ختم نہیں کر سکتے بلکہ اس کیلئے پوری قوم کو جدوجہد کرنا ہو گی‘جب تک معاشرہ ذمہ داری نہ لے میں کچھ نہیں کرسکتا ۔ جمعرات کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سینیٹر پیسے دے کر ووٹ لیتے ہیں یہ کون سی جمہوریت ہے،ہم اس حوالہ سے سینٹ میں قانون لائے تاہم ہمیں ان جماعتوں کی حمایت نہ ملی، پھر ہم یہ معاملہ سپریم کورٹ لے گئے، اس دوران ووٹ خریدنے اور بیچنے کی ویڈیو سامنے آ گئی۔معلوم نہیں کہ سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کیوں اوپن بیلٹ کے خلاف گیا، میں یہ سوال پوچھتا ہوں کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں پہلے اوپن بیلٹنگ کے حق میں تھیں پھر اچانک کیوں خفیہ بیلٹنگ کے حق میں ہو گئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے الیکشن میں انہوں نے پوری کوشش کرنا تھی کہ پیسہ لگا کر جیتیں اور یہ واویلا کریں کہ عمران خان کی قومی اسمبلی میں اکثریت ختم ہو گئی ہے، ان کا اب اگلا قدم عدم اعتماد لانا تھا تاکہ میرے اوپر عدم اعتماد کی تلوار لٹکائیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ سینٹ الیکشن کے حوالہ سے اپوزیشن کے قول و فعل میں تضاد سمجھ سے باہر ہے، جب سے ہماری حکومت آئی ہے چورلٹیرے خوفزدہ ہو چکے ہیں ‘پی ڈی ایم بنانے کا مقصد چور ٹولے کے مفادات کا تحفظ ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.