بڑی حقیقت ۔۔۔سامنے آگئی

کابل(ویب ڈیسک) حالیہ دنوں کالعدم تحریک تالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ امارت اسلامی افغانستان کی ایک برانچ ہے۔ افغان تالبان کے ترجمان ذبیح اللہ نے کالعدم ٹی ٹی پی کے اس دعوے کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ ڈیلی ڈان کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ

مفتی نور ولی محسود کی طرف سے یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کیا گیا تھا۔ یہ ویڈیو مبینہ طور پر مفتی نور ولی محسود کے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے دورے کے دوران کہیں ریکارڈ کی گئی تھی۔ ویڈیو میں مفتی نور ولی نے کہا تھا کہ اس کی تنظیم امارت اسلامی افغانستان کی ایک برانچ ہے اور پاکستان میں امارت اسلامی افغانستان کی چھتری کے نیچے کام کر رہی ہے۔ ذبیح اللہ نے مفتی نور ولی کے اس دعوے کے متعلق عرب نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ”ٹی ٹی پی امارت اسلامی کی برانچ یا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے مقاصد مشترک ہیں۔ ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور اس حوالے سے امارت اسلامی افغانستان کا واضح موقف ہے کہ ہم دیگر ممالک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ ہم پاکستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ہم ٹی ٹی پی کو نصیحت کریں گے کہ وہ اپنے ملک میں امن و استحکام کے قیام پر توجہ دیں تاکہ دشمنوں کو پاکستان اور خطے میں مداخلت کا موقع نہ ملے۔ ہم پاکستان سے درخواست کریں گے کہ وہ پاکستان اور خطے کی بہتری کے لیے ٹی ٹی پی کے مطالبات پر غور کریں ۔“