بڑی خبر میاں نواز شریف خود بریک کریں گے ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار وجاہت علی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کے ادارۂ شماریات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں 25اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں ناقابلِ یقین حد تک اضافہ ہو ا ہے غرضیکہ آج جب موجودہ حکومت نے پاکستان میں معاشی و سیاسی عدم استحکام کی

ہر حد عبور کر لی ہے ایسے میں عوام کو تو چھوڑیں پوری حکومت کی نظریں اور دماغ فقط اس ایک سوچ پر مرتکز ہیں کہ لندن سے کون سی اہم ترین خبر آتی ہے اور یہ اہم ترین خبر ان کیلئے صرف یہ ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن میں کیا مصروفیات ہیں۔ مثال کے طورپر وہ ہائیڈ پارک میں سیر کر رہے ہیں یا نہیں، وہ کافی پی رہے ہیں یا نہیں، ان کا علاج ہو رہا ہے یا نہیں، ان کے امیگریشن کے کیا معاملات ہیں اور ہاں! یہ کس قسم کے بیمار ہیں کہ پیدل چل رہے ہیں، انہیں واپس لایا جائے وغیرہ وغیرہ۔ یوں لگتا ہے حکومت کے پاس سوائے اس ایک فیملی کی کردار کشی کے دوسرا کوئی کام ہی نہیں رہا۔ ابھی گزرے ہفتے ہی کسی ’سقراط‘ نے ٹویٹ چلائی کہ ’’ اگلے 24گھنٹے انتہائی اہم ہیں، لندن سے بڑی خبر آنے والی ہے‘‘۔ یہ صاحب لندن سے نہیں تھے اس لئے لندن کے ’’ گھس بیٹھئے صحافی‘‘ فوری حرکت میں آئے اور نواز شریف سے متعلق اپنی خواہشوں، سوچوں اور خیالوں کو خبر بنا کر اپنا اپنا لچ تلتے دکھائی دیے۔ (تادم تحریر مذکورہ ٹویٹ کو 72 گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن لندن سے کوئی تہلکہ خیز بریکنگ نہیں آئی) یعنی، اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ !ویسے یقین کریں جب لندن سے کو ئی اہم ترین خبر ہو گی تو وہ یقیناً نواز شریف سے متعلق ہی ہو گی لیکن وہ خبر بریک بھی لندن سے ہی ہو گی اور اسے

بریک نواز شریف خود کریں گے۔ (اس لائن کی باریکی کو سمجھنے کی ضرورت ہے ) میاں نواز شریف سے لندن میں کون مل رہا ہے۔ بین الاقوامی سیاسی رہنما براہ راست ان سے کب کب کہاں اور کیوں ملاقاتیں کر رہے، نواز شریف کبھی اچانک خاموش کیوں ہو جاتے ہیں، سوشل میڈیا کے پلٹ فارم پر تو ان کیلئے کوئی بندش نہیں ہے ملک میں شدید ترین مہنگائی، ڈالر کی اونچی اُڑان اور ’’آئی ایس آئی‘‘ کے چیف کی تعیناتی کے حالیہ بحران پر وہ کیوں خاموش ہیں؟ ان کی صحت و علاج اور امیگریشن کے کیا معاملات ہیں یا ویزہ ایکسٹینشن کے سلسلہ میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ سب صرف انہیں، ان کی فیملی یا انتہائی قریبی افراد کے علم میں ہے چنانچہ یقین کریں لندن سے اگر کوئی اہم خبر آئیگی تو اسے کوئی صحافی بظاہر تو بریک کر ے گا لیکن یہ خبر بریک کروانے والے میاں نواز شریف خود ہوں گے! میری اہم خبر تو یہ ہے 24 تو کیا اگلے سو گھنٹوں میں بھی لندن سے کوئی اہم خبر نہیں آنے والی کیونکہ ایسے کوئی آثار نہیں ہیں ابھی تو خبریں یہی ہیں کہ کبھی شہباز شریف اور کبھی اسحاق ڈار لندن کی عدالتوں سے باعزت الزامات سے بری ہونے کی سند پا رہے ہیں۔ لہٰذا لگتا تو یوں ہے کہ در پردہ بعض معاملات پر خاموش مفاہمت ہو چکی ہے چنانچہ تسلی رکھیں بڑے سے بڑا ’ٹوئٹر‘ کا نانگا پربت دیکھتا ہی رہ جائے گا اور لندن سے کوئی اہم خبر بریک ہو جائے گی اور ’بریکر‘ میاں صاحب خود ہی ہوں گے لیکن ذریعہ کوئی دوسرا ہو سکتا ہے!

Comments are closed.