بڑی پابندی ختم کرنے کا اعلان

واشنگٹن (ویب ڈیسک)امریکا کے 46 ویں صدر جو بائیڈن کے دورِ صدارت کا آغاز صدارتی حکم ناموں سے ہوا ہے اور انھوں نے پہلے ہی روز ٹرمپ کے 15 احکام کو منسوخ کردیا ۔ بائیڈن نے مجموعی طور پر عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد پہلے ہی روز17 ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے،

ان صدارتی حکم ناموں میں مسلم ممالک پرسفری پابندیوں کا خاتمہ، پیرس ماحولیاتی معاہدے کی بحالی اور تمام وفاقی املاک میں لازمی ماسک پہننے کے بل پر دستخط کیے گئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن، وینزویلا اور شمالی کوریا کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔امریکی میڈیا کے مطابق کیپٹل کمپلیکس کے سامنے بدھ کو منعقدہ حلف برداری کی تقریب سے فراغت کے بعد صدر بائیڈن اوول آفس (صدارتی دفتر) پہنچے۔جہاں انہوں نے اپنی نشست سنبھالتے ہوئے میڈیا نمائندوں کے سامنے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے۔انہوں نے کہا کہ نئی ہدایات جاری کرنے کے لیے وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا اور ابھی یہ ابتدا ہے۔78سالہ صدر بائیڈن نے جن ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے ہیں اُن میں وفاقی ملازمین کے دفتری اوقات میں ماسک لازم کرنے کے علاوہ کورونا وائرس کے بحران پر قابو پانے سے متعلق ہدایات شامل ہیں۔جو بائیڈن نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق 2015 کے پیرس معاہدے میں واپسی اور عالمی ادارۂ صحت میں دوبارہ شمولیت کے ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے ہیں۔اس پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صدر بائیڈن کے مذکورہ اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔جو بائیڈن کے زیادہ تر حکم نامے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازع پالیسیوں کو ختم کرنے سے متعلق ہیں۔اپنے صدارتی دور کے آخری دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے صوبہ البرٹا سے امریکی ریاست نبراسکا تک تیل کی ترسیل کی 12 ہزار میل لمبی کی سٹون ایکس ایل پائپ لائن کی تعمیر کی منظوری دی تھی لیکن جو بائیڈن نے سابق صدر کے اس فیصلے کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔جو بائیڈن نے سابق صدر ٹرمپ کے دورِ صدارت کی پہچان بننے والے امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے منصوبے کو بھی روک دیا ہے۔

Comments are closed.