بڑے کام کی بات کہہ دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) جہاں کام ہوتا ہے وہاں غلطی بھی ہوتی ہے اور کئی بار اتفاق سے کچھ برا ہو جاتا ہے جس میں کسی کا قصور نہیں ہوتا ۔ ہماری دنیا ہر لمحہ پھیل رہی ہے‘ تبدیل ہو رہی‘ یہ بدلتی دنیا ہمارے لئے مشکل ہو سکتی ہے اگر ہم اپنے

نامور کالم نگار اشرف شریف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جذبات کو اس سے ہم آہنگ نہ کر پائیں۔ برسوں پہلے واقعات کی رفتار سست ہوا کرتی تھی۔ جذبات کی تربیت گھر سے ہونا تسلی بخش تھا۔ بڑوں میں والدین‘ بزرگ رشتہ دار اور استاد شامل تھے۔ اس زمانے میں دفتری باس تخلیق نہیں ہوا تھا۔ ساتھی کارکنوں میں شاذ ہی کوئی خاتون ہوتی‘ مزدور صرف ناخواندہ اور غریب گھروں کے بے آسرا افراد ہوتے‘ انٹرنیٹ اور موبائل نے ایک ڈیجیٹل شخصیت بنائی۔ اب ہم سب جس رویے کا اظہار کرتے ہیں اس کا بیشتر سبق ہمیں ٹیکنالوجی اور تیزی سے بھاگتے معاشرے نے پڑھایا ہے۔ اس تیز رفتاری کا جن لوگوں کو ادراک ہے انہوں نے موٹیویشنل میٹریل سے رہنمائی لی۔ ماہرین سے لیکچر لئے اور خود کو بدلنے کی کوشش کی۔ جن کاروباری اداروں نے کاروبار کا آن لائن نظام نہیں اپنایا وہ آج بھی سو قسم کی پیچیدگیوں اور مسائل کا شکار ہیں۔ جس طرح بجلی کے لائن لاسز سے یہ قیمتی ایندھن ضائع ہو جاتا ہے اسی طرح دستی حسابات میں کیا چیز کدھر گئی اس کا اندازہ نہیں رہتا۔ ہم سب کے سامنے کچھ ترغیبات ہیں۔ بعض ترغیبات بیالوجیکلی ہمیں لبھاتی ہیں۔ باقی ہمارے ماحول اور سماجی اداروں سے ہم تک پہنچتی ہیں۔ جنس‘ پانی اور خوراک ہماری بیالوجیکل ترغیبات ہیں۔ ہمارا رویہ اس وقت مثبت کہلاتا ہے جب ہم معاشرے کے مثبت معیار کے مطابق اس کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم دوسروں کے لئے کس طرح قابل قبول ہوتے ہیں‘ ہم خطرات کا شکار ہوئے بغیر کسی

طرح کامیابی کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ یہ سب جاننا اور پھر اس کی تربیت حاصل کرنا ضروری ہے‘ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ہم اپنے ماحول اور اپنی ذات کے درمیان ہم آہنگی اور توازن کھو بیٹھیں گے۔ تبدیلی سے فائدہ اٹھانے کے لئے ہم ورزش گاہ جاتے ہیں‘ کسی ٹریننگ کیمپ میں شرکت کرتے ہیں۔ کسی تھیراپی سے فائدہ اٹھاتے ہیں‘ کہیں سے کوچنگ لیتے ہیں۔ ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ ہم کچھ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن تبدیلی کبھی ایک سادہ اور آسان کام نہیں رہا۔ خواہش کی شدت ہی تبدیلی کا ایندھن ہوتی ہے۔ اگر ہمیں معلوم ہو کہ تبدیلی کا عمل ہمارے لئے سکون اور آسانی کا باعث ہو گا تو ہم سب اس کی حمایت کرتے ہیں چاہے تربیتی عمل ہمیں کتنا ہی درد عطا کرے۔ سیاسی تبدیلی کی خواہش شدت سے ہم سب میں موجود ہے۔ اس تبدیلی کے لئے ہم کئی عشروں سے مخصوص سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ پر بھروسہ کرتے رہے۔ ہم سب نے ہمیشہ خود کو مشکل تربیتی سیشن میں الجھائے رکھا مگر تبدیلی نہیں آئی۔ جب تبدیلی آنے لگتی ہے تو یکایک ہماری خواہش پر اٹیک کر دیا جاتا ہے۔ ہماری خواہش کمزور ہوتی ہے تو پھر نئی سودے بازی کر کے پرانے استحصالی کھلاڑی آ جاتے ہیں۔ سفر ختم ہوتا ہے اور پھر نیا سفر درپیش ہوتا ہے۔ اس ساری صورت حال میں ہمارا رویہ کیوں نہیں بدل سکا‘ غور کیجیے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *