بکل دے وچ چور : بے نقاب ہو گئے

لاہور (ویب ڈیسک) پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت نے انسدادِ منی لانڈرنگ (فٹیف) کا بل منظور کرا لیا۔ اپوزیشن حسبِ روایت بائیکاٹ کر گئی اور حکومت کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا۔ اس سے پہلے جب اس بل کو پیش کرنے کی تحریک پیش کی گئی تو اسے بھی اکثریت سے منظور کر لیا گیا،

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔حالانکہ اپوزیشن کی متحدہ ایوان میں اکثریت ہے مگر اس کے 36 ارکان غائب پائے گئے، جس کی وجہ سے اس بل کی تحریک مسترد نہ ہو سکی۔ بعد میں وہی رسمی باتیں کی گئیں کہ حکومت نے قواعد کو روندا، اسپیکر نے ایوان کا تقدس مجروح کیا، وغیرہ وغیرہ، یہ عجیب اپوزیشن ہے کہ اپنا محاسبہ کرتی نہیں اور سارا نزلہ حکومت پرگرا دیتی ہے، یہ پہلا موقع نہیں کہ متحدہ اپوزیشن اپنے ارکان پورے نہیں کر سکی، کئی ایسے مواقع آئے جب حکومت کو شکست دی جا سکتی تھی لیکن اپوزیشن کے ارکان پر اسرار طور پر عین موقع پر غائب ہو جاتے ہیں، چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے وقت بھی ایسا ہوا، بجٹ پاس نہ ہونے دینے کی بڑھکیں مارنے والی اپوزیشن اس موقع پر بھی تتر بتر ہو گئی، غرض اب تک کون سا ایسا موقع آیا ہے کہ جب اپوزیشن نے ایوان میں کسی معاملے پر حکومت کو شکست دی ہو۔ اب اس کا الزام وہ دوسروں کو کیسے دے سکتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اپوزیشن کا اپنے ارکان اسمبلی پر کنٹرول نہیں رہا، یہ تو ایک طرح کی بغاوت ہے جو اپوزیشن میں رونما ہو چکی ہے۔ اب تو اپوزیشن رہنماؤں نے یہ کہنا بھی چھوڑ دیا ہے کہ جن ارکان اسمبلی نے عین موقع پر دھوکہ دیا ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔ کیونکہ ایک دو ہوں تو کارروائی بھی ہو سکے یہاں تو لگ بھگ تین درجن ارکان باغی پائے گئے۔

ایسی چوں چوں کا مربہ اپوزیشن شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں کبھی دیکھی گئی ہو۔ اس میں شامل جماعتیں ایک دوسرے سے خوفزدہ نظر آتی ہیں کہ کہیں انجانے میں کوئی چھرا ہی نہ گھونپ دے۔ پہلے دن سے ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کی پالیسی جاری ہے، جس کا نتیجہ ہمیشہ ناکامی کی صورت میں نکلا ہے۔ انتخابات کے اگلے ہی روز حکومت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے والے کبھی اس معاملے پر سنجیدہ نہیں ہوتے، صرف مولانا فضل الرحمن حکومت گرانے کے لئے تڑپ رہے ہیں، مگر انہیں بری طرح استعمال کیا گیا ہے۔ اب وہ بھی پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں درحقیقت اپوزیشن میں شامل ہر جماعت کا ایجنڈا مختلف ہے۔کوئی مقدمات سے ریلیف چاہتا ہے اور کوئی احتساب کے عمل کو ختم کرانے کی خواہش رکھتا ہے۔ سوائے مولانا فضل الرحمن کے سب اسمبلی میں موجود ہیں، اس لئے مولانا کو یہ اسمبلیاں گوارا نہیں، وہ آج تک ان دونوں سیاسی جماعتوں کو اس نکتے پر ہی قائل نہیں کر سکے کہ مل کر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے، جبکہ اسمبلی میں اس مقصد کے لئے نمبرز بھی پورے ہیں چونکہ یہ مقصد ہے ہی نہیں اس لئے حکومت گرانے کا آپشن مسلم لیگ (ن) استعمال کرنا چاہتی ہے اور نہ پیپلزپارٹی، البتہ دونوں کا مقصد یہ ضرور ہے کہ حکومت پر دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات منوائے جائیں یہ مطالبات اجتماعی نہیں انفرادی نوعیت کے ہیں یہ ایسے مطالبے نہیں جن سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی بہتری آ سکے

بلکہ ان کے ذریعے احتساب کے عمل کو روکنا ہے، عام لفظوں میں این آر او حاصل کرنا ہے جب مقاصد ہی انفرادی ہوں تو اپوزیشن کے اندر اتفاق و اتحاد کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے ارکان کیسے اس کا ساتھ دے سکتے ہیں سو یہی کچھ سامنے آ رہا ہے، جس کی توقع پہلے سے موجود ہوتی ہے۔اب اس ایف ٹی اے ایف کے معاملے کو ہی دیکھ لیں۔ یہ سراسر ایک قومی معاملہ ہے کیونکہ اس کیو جہ سے پاکستان گرے لسٹ میں گیا، اس پر پابندیاں لگیں اور ملک کے بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اب یہ ہمارے پاس آخری موقع تھا کہ ہم انسدادِ منی لانڈرنگ کا قانون بنا کے خود کو عالمی تنہائی سے بچا سکیں۔ یہ سیدھا سادہ ملک کی سلامتی و خوشحالی کا معاملہ تھا، جس پر اپوزیشن نے سیاست شروع کر دی، اس قانون کو ایسے سمجھ لیا گیا کہ جیسے اس سے حکومت کو ذاتی فائدہ پہنچے گا، اس لئے اس کی مخالفت کی جائے، کئی کمیٹیاں بنیں، کئی مذاکرات کے دور ہوئے، مگر اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔ اپوزیشن نے اس قانون کو منظور کرنے میں تعاون کرنے کی خاطر اپنا 35 نکاتی چارٹر حکومت کو پیش کر دیا جس کا بنیادی لب لباب یہ تھا کہ حکومت نیب قوانین میں تبدیلی لائے اور اس کے اختیارات کم کرے یہ بڑے مضحکہ خیز مطالبات تھے، جن کا مقصد یہ تھا کہ حکومت انسدادِ منی لانڈرنگ کا قانون ضرور بنائے لیکن اس میں سے نیب کو نکال دے، اب یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ عالمی سطح پر ایسی چالاکی کر سکیں۔دنیا کی نظریں ہم پر لگی ہوئی ہیں

کہ ہم منی لانڈرنگ کے خلاف کیسا قانون بناتے ہیں لیکن دوسری طرف ہم دنیا کو یہ پیغام دیں کہ ہم نے اس ادارے کو بے دست و پا کر دیا ہے جو اس قانون پر عملدرآمد کرانے کا مجاز ہے۔ پوری قوم یہ تماشا دیکھ رہی تھی ادھر وقت تھا کہ نکلا جا رہا تھا۔ اگر عالمی ادارے کے اگلے اجلاس سے پہلے یہ قانون سازی نہ ہوتی تو اس کی طرف سے جو مہلت دی گئی تھی، ختم ہو جاتی اور پاکستان بلیک لسٹ میں چلا جاتا۔ جس کے بعد اتنی زیادہ پابندیاں لگتیں، کہ ہماری معیشت جو پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہے بھوک و افلاس کی تصویر بن کر رہ جاتی۔ حیرت ہے کہ اتنے اہم معاملے کو اپوزیشن نے حکومت کے ساتھ سیاسی بارگیننگ کے لئے استعمال کیا۔ سیاسی بارگیننگ سیاسی جدوجہد سے کی جاتی ہے، ناکہ قومی مفاد پر ڈیڈ لاک پیدا کر کے سو جب اس قسم کی بدنیتی ہو تو اتفاق کہاں برقرار رہتا ہے۔ اپوزیشن سینٹ سے تو اس بل کو مسترد کرانے میں کامیاب رہی، لیکن مشترکہ اجلاس میں اسے 36 ارکان دغا دے گئے۔ گویا یہ وہ ارکانِ اسمبلی تھے، جنہوں نے کسی کے انفرادی ایجنڈے کا ساتھ دینے کی بجائے قومی ایجنڈے کا ساتھ دیا۔اپوزیشن حکومت کو زبردستی بل منظور کرانے کا الزام اس وقت دے سکتی تھی جب ایوان میں اس کے اکثریتی ارکان موجود ہوتے۔ جب بل کو مسترد کرانے کے لئے عددی اکثریت ہی موجود نہیں تھی تو پھر بل نے پاس ہی ہونا تھا۔ اس سے یہ حقیقت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنی کمزور گرفت کا شکار ہے۔ خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کا تنظیمی ڈھانچہ خاصا منتشر نظر آتا ہے۔ ارکان اسمبلی کا بار بار کی یاددہانی کے باوجود عین موقع پر غائب ہو جانا، اپنے موبائل فون بند کر دینا اور پارٹی کا حکم ماننے سے انکار کرنا، اس بات کی غمازی کرنا ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر بغاوت ہو چکی ہے، اپوزیشن کی یہی وہ حالت ہے، جس کی وجہ سے یہ گمان یقین میں بدلتا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور اپوزیشن اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گی۔ اب شہباز شریف کا یہ کہنا کہ اے پی سی میں حکومت کی اس بل کو زبردستی منظور کرانے کی زیادتی کا حساب لیا جائے گا، کھسیانی بل کھمبا نوچے کی مانند ہے بل تو منظور ہو چکا، اب حساب کیسے لیا جائے گا؟ سیدھی طرح تسلیم کیوں نہیں کر لیتے کہ متحدہ اپوزیشن عددی اکثریت رکھنے کے باوجود پارلیمینٹ میں اپنی اکثریت کھو چکی ہے اسے اپنے ہی ارکانِ اسمبلی کے عدم اعتماد کا سامنا ہے، جس جماعت کی بُکل میں چور ہوں وہ کوئی بڑا قدم کیسے اٹھا سکتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.