بھارتی سکھ خاتون کو پاکستان آکر اسلام قبول کرنا اور مسلمان نوجوان سے شادی کرنا مہنگا پڑ گیا ،

لاہور(ویب ڈیسک)سکھوں کے مذہبی رہنما بابا گورو نانک دیو جی کی 552ویں سالانہ تقریبات میں شرکت کے لئے پاکستان آنے والی بھارتی گونگی اور بہری شادی شدہ سکھ خاتون پرمجیت کور کو پاکستان آکر اسلام قبول کرکے ایک گونگے اور بہرے نوجوان محمد عمران کے ساتھ شادی مہنگی پڑگئی۔ سردارنی پرمجیت کور جس کا

اسلامی نام پروین سلطانہ رکھا گیا تھا بھارت واپسی پر اس کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ بھارتی شرومنی اکالی دل دہلی کے صدر پرمجیت سنگھ سرنا نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامورکو خط لکھا ہے اور پاکستانی ہائی کمیشن سے بھارتی خاتون پرمجیت کور کو پاکستان جانے کے لیے آئندہ ویزہ جاری نہ کرنےاور اسے مستقل طور پر بلیک لسٹ کرنے کی درخواست کی ہے۔ نئی دہلی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ پرم جیت سنگھ سرنا نے پاکستانی ناظم الامور آفتاب حسن خان کولکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ بھارت کی سکھ برادری کی جانب سے مغربی بنگال میں مقیم سکھ یاتری کو پاکستان سے بھارت واپس بھیجنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرمجیت کور نے پاکستان جا کراپنے یاتری ویزا کا غلط استعمال کیا، مذہب تبدیل کیا اور دوبارہ شادی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھ خاتون پرمجیت کور کے عمل نے سرحد پار سکھ یاتریوں پر گہرا اثرمنفی اثرڈالا ہے تاہم وہ پاکستانی حکومت کے فوری ردعمل کو سراہتے ہیں جس سے صورتحال پر قابو پانے میں کافی حد تک مدد ملی۔ سرنا نے کہا کہ وہ گزارش کرتے ہیں کہ پرمجیت کور کوآئندہ کسی بھی صورت میں دوبارہ پاکستان کا سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ واضح رہے کہ18 ستمبر 1982 کو لکھنؤ میں پیدا ہونے والی گونگی بہری سکھ خاتون پرمجیت کور کے پاس کولکتہ میں جاری کردہ ہندوستانی پاسپورٹ نمبر P7867386 ہے۔ اس کا پاسپورٹ 26 فروری 2027 تک کارآمد ہے۔

Comments are closed.