بھولے بھالے پاکستانیوں کے کام کی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں سوچ رہا ہوں کسی دن اوگرا پٹرول کی قیمت میں سو روپے لٹر اضافے کی سمری وزیر اعظم کو بھیجے اور وہ اسے مسترد کر دیں تاکہ یہ بریکنگ نیوز زیادہ شدو مد سے حکومتی ترجمان جاری کر سکیں کہ

وزیر اعظم عمران خان نے عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ایک لٹر پر سو روپے نقصان برداشت کرنا گوارا کر لیا مگر قیمت نہیں بڑھائی۔ یہ جو ہر بار اوگرا کی پانچ سات روپے فی لٹر اضافے کی سمری وزیر اعظم مسترد کرتے ہیں ایک ہی بار سو روپے لٹر کی سمری مسترد کر یں تاکہ ان کی حکومت میں کوئی چھکا تو لگے۔ نہ جانے یہ تکنیک اس سے پہلے حکمرانوں کو کیوں سمجھ نہیں آئی۔ ہنگ لگے نہ پھٹکڑی کے مصداق بغیر کچھ خرچ کئے عوام پر احسان بھی ہو جاتا ہے اور حکومتی ترجمانوں کو وزیر اعظم عمران خان کے خدا ترس، عوام دوست اور غریبوں کا ہمدرد ہونے کے پروپیگنڈے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ آپ کسی بھی پھل فروش یا سبزی بیچنے والے کے پاس جائیں تو وہ بھاؤ پوچھنے پر یہی کہے گا کہ بیچ تو 80 روپے کلو رہا ہے لیکن آپ کے لئے ساٹھ روپے کلو لگ جائیں گے۔ وہ اس کی کوئی وجہ نہیں بتائے گا کہ آپ کے لئے بیس روپے فی کلو آخر کیوں کم کئے، کیا آپ کوئی ولی اللہ ہیں یا آپ نے اس پر بہت زیادہ احسان کر رکھے ہیں وہ یہ جانتا ہے کہ 60 روپے کلو بیچنے میں بھی اسے اچھا خاصا منافع مل رہا ہے مگر وہ احسان آپ پر دھرے گا کہ بیس روپے کلو چھوڑ دیئے ہیں۔ اب یہی تکنیک حکومت کے معاشی مینجروں نے بھی اپنالی ہے عوام مہنگائی کے ہاتھوں رل گئے ہیں، 113 روپے فی لٹر پٹرول ان کی بساط سے باہر ہے کمی اس میں ہونی چاہئے

مگر حکومت اس جانب نہیں آتی البتہ اوگرا کی خود ساختہ قیمتوں کو نہ مان کر وزیر اعظم سمری مسترد کر نے کا احسانِ عظیم کرتے ہیں۔ دو تین بار سمری مسترد کی جاتی ہے اور پھر ایک سمری منظور کر کے سارے کس بل نکال دیئے جاتے ہیں۔سمری مسترد کرنے کے سکرپٹ کو حالات کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تاکہ حقیقت کا رنگ بھرا جا سکے۔ مثلاً پچھلی سمری مسترد کرنے کا سبب ڈسکہ انتخابات کو بتایا گیا، اب یہ کہا جا رہا ہے کہ سینٹ انتخابات کی وجہ سے سمری مسترد کی گئی ہے۔ کوئی بتائے کہ ان دونوں کا آپس میں تعلق ہی کیا ہے۔ ایلیٹ کلاس کا پٹرول مسئلہ ہی نہیں، یہ تو عام آدمی کا مسئلہ ہے جس نے موٹر سائیکل میں ایک لیٹر ڈلوا کر کئی دن گزارنے ہوتے ہیں، اصل حقیقت یہ ہے کہ حکومت پر مہنگائی کم کرنے کے لئے جو دباؤ ہے، اس میں کمی کرنے کے لئے اس کے معاشی مینجروں نے کم خرچ بالا نشیں یہ تکنیک ایجاد کی ہے اس لئے میں نے مشورہ دیا ہے کہ اوگرا تیل کی قیمت میں سو روپے اضافے کی سمری وزیر اعظم کو بھیجے تاکہ عوام پر اسے مسترد کرکے ایک بڑا احسان کیا جا سکے۔ ویسے بھی کپتان تو چوکے چھکے لگانے کے عادی رہے ہیں، یہ ٹک ٹک کر کے سنگل لینے کی عادت انہوں نے کیسے اپنالی ہے۔ یہ وڈیرانہ سوچ ہے، امر واقعہ یہ ہے کہ اڑھائی برسوں میں یہ حکومت عوام کو کوئی ایک بھی حقیقی ریلیف نہیں دے سکی۔

معاشی کارناموں کی فہرست تو بہت لمبی گنوائی جاتی ہے، مگر عوام کو اس دوران ایک بھی سکھ کا سانس لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ برآمدات بڑھ گئیں، زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گیا۔ بند انڈسٹری چل پڑی، روپیہ مستحکم ہو گیا وغیرہ وغیرہ یہ سب باتیں بھی اوگرا کی سمری جیسی ہی ہیں، جن کا براہ راست فائدہ عوام کو ہرگز نہیں ہوتا۔ وزیر اعظم کل اپنے ٹوئیٹر پیغام میں چین کو مبارکباد دے رہے تھے کہ اس نے 75 کروڑ شہریوں کو غربت سے نکالا، وہاں تو غربت سے نکالا جا رہا ہے یہاں غربت میں ڈالا جا رہا ہے۔ وہ متوسط طبقہ جس نے بڑی مشکل سے خود کو خطِ غربت سے نکالا تھا اب پھر اس لکیر کے نیچے چلا گیا ہے ایک کروڑ نوکریاں دینے والی بات تو اب ایک بڑا دھوکہ نظر آتی ہے کیونکہ اس حکومت کے دور میں ہزاروں ملازمین کو نکالا گیا ہے۔پچھلے دنوں لاہور کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان ایک منصوبے کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ اس سے 6 ہزار ارب روپے حاصل ہوں گے۔ ان کے خیال میں اس پر شرکاء کو والہانہ انداز میں تالیاں بجانی چاہئے تھیں مگر جب شرکاء ٹس سے مس نہ ہوئے تو وزیر اعظم کو یہ کہنا پڑا کہ شاید وہ سوئے ہوئے ہیں وگرنہ اتنی بڑی بات پر وہ تالیاں ضرور بجاتے ایک زمانہ تھا عمران خان جب پی ٹی آئی کے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ پاکستان میں اتنی خوشحالی آئے گی کہ باہر سے لوگ نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے

تو لوگ پر جوش انداز میں خیر مقدم کرتے اور تالیاں بجاتے۔ وہ جب یہ کہتے تھے کہ جب مہنگائی بڑھے تو سمجھو حکمران چور ہے، جب پٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا جائے تو سمجھ جاؤ کہ حکمران لٹیرا ہے، ان کی ان باتوں پر عوام نہال ہو جاتے اور عمران خان کو یہ کہنا نہیں پڑتا تھا کہ اس بات پر تالیاں بجاؤ، تو کیا یہ مان لیا جائے کہ وزیر اعظم بن کر عمران خان عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ اب ان کا ہر دعویٰ ایک مذاق لگتا ہے کیونکہ کوئی ایک دعویٰ بھی پورا نہیں ہوا۔ شاید ناکامی کے اسی سلسلے میں کامیابی کا رنگ بھرنے کے لئے یہ تکنیک اختیار کی گئی ہے کہ اوگرا سے کہہ کر پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کی سمری تیار کراؤ پھر وزیر اعظم اسے مسترد کر دیں۔ مشیران کرام کے نزدیک عوام بے وقوف اور لائی لگ ہیں وہ اس بات پر ہی خوش ہو جاتے ہیں کہ وزیر اظعم نے انہیں قیمتیں نہ بڑھانے کا حکم دے کر مشکلات سے بچا لیا۔ایسی کاری گری سے عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ آپ گاڑی چلانے والے تیل کی سمری تو مسترد کر دیں مگر کھانا پکانے والے تیل ا ور گھی کو ایک سو اسی سے اٹھا کر تین سو تک لے جائیں تو عوام اس کاغذی ریلیف کا کیا کریں جو آپ نے سمری مسترد کر کے دیا ہے۔ صرف ایک چیز تھوڑی ہے، جس میں روزانہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہاں تو لوٹ مچی ہوئی ہے حکومت نے عوام کو مہنگائی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان میانوالی گئے توانہوں نے کاشتکاروں سے بھی ملاقات کی جنہوں نے بتایا کہ جو چیز مارکیٹ میں سو روپے کلو بکتی ہے وہ کاشت کاروں سے دس روپے کلو لی جاتی ہے باقی سارا منافع منڈی میں بیٹھا ہوا طبقہ لے جاتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ وہ اس پر کام کر رہے ہیں اگر آپ کپتان کی دو سال پہلے کی گئی تقاریر اٹھا کر دیکھیں تو ان میں بھی وہ یہی کہتے تھے کہ عوام کو آڑھتی کلچر سے نجات دلائیں گے مگر وہ کچھ نہ کر سکے بس اگر وہ کچھ کر سکتے ہیں تو اوگرا کی سمری کا استرداد ہے یہی ایک واحد ”ریلیف“ ہے جو عمران خان مسلسل عوام کو دے رہے ہیں کم از کم اس پر تو ان کے لئے تالیاں بجنی چاہئیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.