بھٹو اور ضیاء کے مشترکہ فیملی ڈاکٹر نے دنگ کر ڈالنے والے راز فاش کردیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار احسن ضیا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عارف افتخار ایک ہنس مکھ اور شریف النفس انسان ہیں،اس شعبہ سے وابستہ افراد کی اکثریت کی طرح روایتی لالچ و حرص اور طمع نفسانی سے کوسوں دور، انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے ہمہ تن گوش مصروف عمل نظر آتے ہیں

آپ سابق پرنسپل کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج و سابق سیکرٹری ہیلتھ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کے فرزند ہیں۔ مرحوم ڈاکٹر افتخار احمد ایک ایسی غیر معمولی شخصیت تھے جنہیں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاء الحق کا بیک وقت معالج ہونے اعزاز حاصل رہا۔ وہ ضیاء الحق کی والدہ محترمہ اور انکی بیٹی کا علاج معالجہ بھی کرتے رہے۔ پروفیسر ڈاکٹر افتخار ایک طرف پابندِ سلاسل سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی زیست کے آخری ایام میں انکے علاج کے دوران انکی زندگی کے بہت سے معاملات کے ہم راز بنے تو دوسری جانب ضیاء الحق کو بھٹو کے خلاف سخت ترین کاروائی کرنے سے باز رکھنے کی سعی لاحاصل بھی کرتے رہے۔پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد اس حوالے سے بھی خوش قسمت رہے کہ وہ ڈاکٹر ہوتے ہوئے بھی سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کے عہدہ تک پہنچے حالانکہ یہ عہدہ بیوروکریسی کے لئے مختص ہے۔ بھٹو اور ضیاء الحق کے درمیان کیا کچھ چلتا رہا اس راز پر سے ڈاکٹر عارف افتخار نے ہمارے ساتھ ہونے والی ملاقات میں پردہ اْٹھا یا اور وہ باتیں بتائیں جن کا ذکر انکے والدِمحترم نے اپنی حیات میں ان سے کیا تھا۔ ڈاکٹر عارف افتخار کو بچپن میں کئی بار اپنے والد کے ہمراہ ضیاء الحق سے متعدد بار ملنے اور انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ ڈاکٹر عارف افتخار نے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے ان کے مرحوم والد کی ملاقات سابق گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر کی بدولت ہوئی۔ مرحوم ذو الفقار علی بھٹو انکے والد کی صاف گوئی اور فلاح ِانسانیت کے لیے انکے پْر خلوص جذبہ کو دیکھ کر خاصے متاثر ہوئے۔

انہوں نے انکے والد کو سیکرٹری صحت پنجاب کے عہدہ پر ترقی دی۔ بھٹو کی حکومت کے جانے کے بعد جب انہیں گرفتار کر لیا گیا تو بھٹو کو قید میں علاج و معالجے کے لئے کچھ ڈاکٹروں کے نام دیے گئے۔ بھٹو نے تمام نام مسترد کردیے اور ڈاکٹر افتخار احمد سے علاج کروانے کی خواہش کا اظہار کیا جسے حکومت نے بعد ازاں مان لیا۔ ڈاکٹر عارف افتخار کا کہنا تھا اس وقت کی تمام بیوروکریسی انکے والد کے خلاف تھی اور انہیں سیکرٹری صحت کے عہدہ سے ہٹانا چاہتی تھی تاہم ضیاء الحق سے دیرینہ تعلقات کی بناء پر اس میں کامیاب نہیں ہو پارہی تھی۔ بھٹو نے ایک ملاقات میں انکے والد کو بتا یا کہ ضیاء الحق کی حکومت ہر صورت میں انہیں تختہ دار کی سزا دے دیگی اسکی وجہ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے بہرمند کرنے کے لئے یہاں ایٹمی پروگرام شروع کرنا ہے۔ مغربی قوتیں ان کی جان کے در پے ہیں۔ وہ انہیں موت کی نیند سلائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گی۔ میرے والد نے جنرل ضیاء الحق سے ایک خصوصی ملاقات کی اور ان سے کہا کہ آپ کے پاس اختیار ہے،آپ بھٹو کو تختہ دار کی سزا نہ دیں۔ انکی سزا کو یا تو عمر قید میں تبدیل کردیں یا پھر انہیں باہر جانے دیں۔ اس پر ضیاء الحق نے میرے مرحوم والد سے کہا کہ مجھے سب کہتے تھے کہ’تم بھٹو کے آدمی ہو، لیکن میں نہیں مانتا تھا تاہم مجھے اب معلوم ہوا ہے کہ تم واقعی بھٹو کے آدمی ہو‘۔ ضیاء الحق نے مزید کہا کہ’میں بھٹو کی سزا کے معاملے میں کچھ نہیں کرسکتا، میں بے بس ہوں۔ میں اگر چاہوں بھی تو اس سزا کو نہیں روک سکتا‘۔ بعد ازاں میرے والد کو سیکرٹری صحت کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا۔ پاکستان میں اقتدار کے تانے بانے ملکی اور بین الاقوامی اشرافیہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ کوئی ایک بھی ناراض ہوجائے تو اقتدار پر براجمان بڑے سے بڑے سیاسی لیڈر کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی بجادیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *