بہادر عمران خان کا بت پاش پاش: رؤف کلاسرا کے تند وتلخ انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک)بہت سے ایسے دوستوں کو جانتا ہوں اور فیس بک پر ان کی پوسٹس پڑھ رہا ہوں جو اس بات کا یقین کرنے کو تیار نہیں کہ ان کا فیورٹ وزیراعظم اسلام آباد چھوڑ کر چند گھنٹوں کیلئے کوئٹہ جانے کیلئے تیار نہیں جہاں ہزارہ کمیونٹی کے لوگ گیارہ میتیں سڑک پر رکھ کر بیٹھے تھے

نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ جب تک وزیراعظم نہیں آتے وہ انہیں دفنائیں گے نہیں۔لوگوں کا خیال تھا کہ خدانخواستہ اگر پاکستان میں اس طرح کی ٹریجڈی ہوئی جیسے نیوزی لینڈ میں ہوئی تھی تو ہمارا وزیراعظم بھی اسی compassion کا اظہار کرے گا جیسے نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم نے کیا تھا اور پوری دنیا کا دل جیت لیا تھا۔ لوگوں کی توقعات اس لیے بھی اپنے وزیراعظم سے بڑھ گئی تھیں کہ انہوں نے نیوزی لینڈ کی اس خاتون وزیراعظم کو باقاعدہ فون کیا تھا اور ان کے اس رویے کی تعریف کی تھی۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے جس طرح مسلمان خاندانوں کی خواتین اور مردوں کو غم کی گھڑی میں گلے سے لگایا اس نے دنیا کی سات ارب آبادی کے دلوں کو چُھو لیا۔ سب نے دیکھا کہ کیسے اکیلی خاتون نے وہ کر دکھایا جو شاید جدید تاریخ میں حیرت انگیز لگ رہا تھا۔وزیراعظم عمران خان کے بارے میں بھی یہی کہا جارہا ہے کہ انہیں حفاظتی اداروں نے منع کیا ہے کہ وہ اس موقع پر بلوچستان نہ جائیں۔ حفاظتی انتظامات کرنا ان اداروں کا کام ہے۔ وہ فول پروف انتظامات کریں‘یہی ان کی ڈیوٹی ہے۔ عمران خان گورنر ہاؤس بلوچستان میں بیٹھ کر ان احتجاج کرتے لوگوں کے چند نمائندوں سے محفوظ ماحول میں مل سکتے تھے‘ ان کے غم میں شرکت کر سکتے تھے‘ ان کے پاس تو سٹیٹ کی پوری طاقت اور وسائل موجود ہیں دوسری بات یہ کہ ہر بڑے عہدے کے ساتھ بڑی ذمہ داریاں اور بڑے خطرات ہوتے ہیں۔

عام لوگ اپنے جیسے لوگوں میں سے اسی کواپنا ہیرو یا لیڈر مانتے ہیں اور اپنے اوپر حکومت کرنے کا حق دیتے ہیں جس کے بارے انہیں لگتا کہ یہ بندہ ان سے بہت بہتر ہے‘ بہت بہادر ہے‘ سمجھدار اور بے خوف ہے اور وہ ان کا تحفظ کرسکتا ہے۔ یہی وہ خوبیاں ہیں جو کسی انسان کو آمادہ کرتی ہیں کہ وہ ایسے بندے کو اپنا ہیرو بنا لیں‘ اس لیے قدیم دنیا میں لڑاکا اور بہادر لوگوں کو ہی بادشاہ تسلیم کیا جاتاتھا۔ بزدل لوگوں کونہیں ۔تو کیا حکمرانوں کو صرف اقتدار اور انسانوں پر راج کرنے کی سہولتیں ہی انجوائے کرنی چاہئیں؟ انہیں صرف عوام کے پیسوں پر عیش کرنی چاہئے؟وزیراعظم نے کوئٹہ نہ جا کر اپنا امیج ہرٹ کیا ہے۔ ان برسوں میں ان کا کرکٹ سے لے کر سیاست تک یہ امیج بنا رہا کہ وہ خطروں کے کھلاڑی ہیں۔ کرکٹ کا میدان ہو یا سیاست‘ وہ ہر جگہ خطرات کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ وہ اپنی اس خوبی کا ذکر ہر جگہ اور ہر وقت کرنا نہیں بھولتے تھے۔ ان کی تقریریں سنیں تو آپ کو لگے گا کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے۔ایک ایسا شخص جسے اللہ پر بہت توکل ہے۔ ایسی دیومالائی مخلوق کا سا امیج بن گیا جیسے کبھی یونانی دیوتا پرومیتھیس کا بنا تھا جس نے انسانوں کی محبت میں آسمانی دیوتائوں سے ٹکر لے لی تھی اور دیوتائوں نے اسے سخت سزا دی۔خان صاحب اس قوم کے بڑے طبقے کیلئے جدید دور کا پرومیتھیس تھے جس پر سب کو اعتبار تھا‘ جسے خوف نام کی کوئی چیز چھو کر نہیں گزری تھی۔مگراب سب حیران اور صدمے کا شکار ہیں کہ وہی شخصیت کوئٹہ جانے کو تیار نہیں جہاں چھ معصوم بہنیں دہائی دے رہی ہیں کہ ان کے گھر میں کوئی مرد نہیں بچا جو اِن کے بھائی کے جنازے کو کندھادے یا دفن کردے۔ کوئی انسان‘ کتنا ہی سخت دل کیوں نہ ہو ‘ ایک بہن کے یہ الفاظ سن کر دہل جائے گا۔ہیرو بننے کے دعوے کرنا آسان ہوتا ہے۔لوگوں کو اپنی قسموں اور باتوں سے بہلانا بہت آسان ہے‘ لیکن اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ لمحہ سر پر آن پہنچتا ہے جس کیلئے آپ نے خود کو بائیس برس تیار کیا تھااور خود کو ہیرو کا درجہ دے رکھا تھا۔ اب لوگ آپ کی طرف دیکھنا شروع کرتے ہیں کہ ہمارے ہیرو ہماری مدد کو آئو‘ ہمارے ساتھ کھڑے ہو جاؤ‘ہمارے آنسو پونچھو۔اور اس لمحے آپ کو اچانک بہت سے وہم چمٹ جاتے ہیں۔ آپ کو خوف اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ لگتا ہے کہ آپ کو اندر بند ہوکر بیٹھنا چاہئے کہیں آپ کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ آپ کو اپنی بقا کی فکر پڑ جاتی ہے۔ بائیس برس کے سارے دعوے‘ سب ہمدردی کے اعلانات دم توڑ جاتے ہیں اور اچانک آپ کو ایک عام انسان کی طرح اپنی جان پیاری لگنے لگتی ہے۔ ایک لمحے میں آپ ایک حکمران سے عام انسان بن جاتے ہیں۔

Comments are closed.