بینظیر بھٹو کے سامنے یہ پیشگوئی کس نے کی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بانیانِ پاکستان کو چھوڑ کر ان کے بعد ملک کا نظم و نسق سنبھالنے والی شخصیات کے ہاں ایسی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں۔ قدرت اللہ شہاب کے مطابق پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل ملک غلام محمد، حاجی وارث علی شاہ کے عقیدت مند تھے

جن کا مزار انڈیا میں لکھنؤ کے قریب دیوا شریف میں واقع ہے۔قیام پاکستان سے پہلے وہ اکثر ان کے مزار پر حاضری دیا کرتے تھے۔ جن دنوں وہ گورنر جنرل ہاؤس میں مقیم تھے، پیر صاحب کی تصویر ان کے بستر کے ساتھ ایک میز پر اُن کی نگاہوں کے سامنے رہتی تھی۔ایک اور بیوروکریٹ اور جنرل یحییٰ خان کی کابینہ کے رکن شہاب الدین رحمت اللہ نے اپنی خود نوشت ’شہاب بیتی’ میں لکھا ہے کہ ملک غلام محمد اولیائے کرام، خاص طور پر اپنے پیر کی وفات کے بعد بھی ان کی زندگی کے قائل تھے، کتاب میں انھوں نے اپنے ساتھ ملک غلام محمد کا ایک مکالمہ درج کیا ہے:’یہ ولی اللہ بھی عجیب ہوتے ہیں، وصال کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں، جہاں تک میرا تعلق ہے، میں تو ان کے در کا گدا ہوں’۔شہاب الدین رحمت اللہ نے لکھا ہے کہ یہ بات کہہ کر گورنر جنرل آب دیدہ ہو گئے اور قرآن مجید کی چند آیات پڑھ کر انھوں نے ان (شہاب الدین رحمت اللہ) پر سر سے پاؤں تک پھونکی۔ ان کے مطابق حاجی وارث علی شاہ نے کئی بار حج کا پیدل سفر کیا تھا اور زندگی بھر ان کے پاس صرف ایک ہی کپڑا رہا جسے وہ جسم پر لپیٹ لیا کرتے تھے، کوئی عقیدت مند نئی چادر پیش کر دیتا تو وہ اسے قبول کر کے پرانی چادر اسے بطور تبرک دے دیا کرتے تھے۔قدرت اللہ شہاب نے لکھا ہے کہ ملک غلام محمد پر اپنی وفات سے قبل یہ دھن سوار ہو گئی تھی کہ وہ جہاز چارٹر کروا کر دیوا شریف جاکر اپنے پیر کے مزار پر حاضری دیں۔

اس مقصد کے لیے وہ انڈیا جا سکے یا نہیں ‘شہاب نامہ’ میں یہ ذکر نہیں ملتا۔ملک غلام محمد کے بعد پاکستان کے پہلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ایوب خان بھی وہ شخص تھے جنھوں نے اپنے اقتدار کے لیے روحانی شخصیات سے مدد لی۔ سنہ 1964 کے صدارتی انتخابات کے موقع پر یہ سلسلہ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب بانیِ پاکستان کی بہن فاطمہ جناح ان کے مقابلے میں حزب اختلاف کی امیدوار بن کر سامنے آئیں لیکن اس سلسلے کی ابتدا اس سے کچھ پہلے ہو چکی تھی۔قدرت اللہ شہاب نے ‘شہاب نامہ’ میں انڈیا کے شہر مدراس سے آنے والے ایک بزرگ کا ذکر کیا ہے جنھوں نے فروری 1962ء میں ایوب خان سے ملاقات کی تھی۔ ان صاحب کے بارے میں معروف تھا کہ وہ علم جفر کے ماہر ہیں اور ایوب خان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔ انھوں نے ایوب خان کو بتایا کہ وہ پاکستان پر آٹھ یا نو برس حکومت کریں گے۔اس ملاقات کے بعد ایوب خان نے قدرت اللہ شہاب کو مخاطب کر کے کہا: ’یہ بڈھا کیا بک رہا تھا۔‘اس طرح انھوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ کسی قسم کی ضعیف الاعتقادی کا شکار نہیں ہیں لیکن اس واقعے کے دو ہی برس کے بعد جب فاطمہ جناح ایک بڑا سیاسی خطرہ بن کر ان کے مقابل آ کھڑی ہوئیں تو صورت حال بدل گئی۔ایک سینئر صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایوب خان کے ملٹری سیکریٹری کے حوالے سے بتایا کہ اُن دنوں پیر صاحب دیول شریف پر ان کا بھروسہ بہت بڑھ گیا تھا

اور ایوب خان کے سیاسی معاملات میں پیر صاحب کے عمل دخل میں کافی اضافہ ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ انتخابی چیلنج سے نمٹنے کے لیے پیر صاحب دیول شریف کی سرگرمیاں قومی زندگی میں گفتگو کا موضوع بن گئیں اور اخباری مندرجات کا حصہ بھی بننے لگیں۔لاڑکانہ کے ایک بزرگ شہری اور میونسپل کارپوریشن کے ایک اعلیٰ افسر گل محمد گاڈ بتاتے ہیں کہ یہ سرگرمیاں ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ تھیں۔ سیاسی مقاصد کے لیے اولیائے کرام اور بزرگوں کے مزاروں پر جانا اپنی جگہ لیکن لاڑکانہ میں جمن فقیر نام کے ایک مجذوب بزرگ سے ان کی دوستی کے واقعات زبان زد عام ہیں۔جمن فقیر کس قسم کے آدمی تھے اور بھٹو صاحب کے تعلق سے ان کی کیسی حکایات لوگوں میں مقبول ہیں، یہ سوال میں نے مقامی صحافی طارق درانی سے پوچھا تو انھوں نے بتایا ’جمن فقیر قمبر نامی قصبے کے حجام تھے جو کسی زمانے میں لاڑکانہ منتقل ہو گئے۔ وہ اپنے گدھے پر سوار ہو کر دن بھر شہر میں گھومتے رہتے تھے اور قصابوں کی دکانوں سے ہڈیاں گوشت اور چھیچھڑے جمع کر کے کتوں کو ڈال دیا کرتے تھے، اس وجہ سے وہ جہاں جاتے کتے بھی ان کے پیچھے پیچھے چلتے رہتے۔صحافی طارق درانی جمن فقیر کے بارے میں معروف تھا کہ وہ اپنی بھولی بھالی باتوں میں بڑی دانائی کی باتیں کہہ جاتے ہیں۔ لاڑکانہ کے لوگ کہا کرتے ہیں کہ ان کی یہ شہرت سن کر بھٹو صاحب نے جب وہ وزیر خارجہ تھے، انھیں اپنے پاس بلایا لیکن انھوں نے آنے سے انکار کر دیا

جس پر بھٹو صاحب خود ان کے پاس پہنچ گئے۔ انھیں آتا دیکھ کر جمن فقیر نے بھٹو صاحب سے ان کی آمد کا سبب پوچھا تو انھوں نے کہا کہ وہ محض حاضری کے لیے آئے ہیں جس پر جمن نے کہا کہ میں کوئی تمھارا استاد ہوں جو یوں حاضری بھرنے آئے ہو؟ اس پر بھٹو صاحب نے انھیں دوستی کی پیش کش کر دی جو انھوں نے قبول کر لی۔اسی طرح مقامی لوگ ایک اور ملاقات کا واقعہ بھی بیان کرتے ہیں جس میں بھٹو صاحب نے جمن فقیر سے پوچھا کہ وہ ان کی کیا خدمت کر سکتے ہیں تو فقیر نے کہا کہ وہ اپنی گاڑی انھیں دے دیں اور ان کا گدھا خود لے لیں۔ بھٹو صاحب آمادہ ہو گئے تو جمن فقیر نے اُن کے اردگرد کھڑے لوگوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ تمھارے پاس پہلے ہی کافی گدھے ہیں، مجھے میرے گدھے سے محروم کیوں کرتے ہو؟گل محمد گاڈ ایسے واقعات کی صداقت کے بارے زیادہ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن وہ اپنا ایک آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کرتے ہیں جس کی نوعیت بھی ان واقعات سے مختلف نہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’بھٹو صاحب اسلام آباد سے آتے تو المرتضیٰ کے لان میں بیٹھ جاتے۔ اس موقع پر گھر کے دروازے کھل جاتے اور جو چاہتا، ان سے بلا اجازت ملنے آ جاتا۔ ایک بار ایسی ہی نشست کے دوران جمن فقیر اپنے گدھے پر سوار المرتضیٰ میں داخل ہوا۔‘گل محمد گاڈ کہتے ہیں کہ وہ منظر آج بھی ان کی آنکھوں کے سامنے ہے: جمن فقیر اپنے گدھے پر سوار تھا اور ایک لمبی سی چھڑی

اس کے ہاتھ میں تھی جسے لہراتے ہوئے اس نے بھٹو صاحب کو مخاطب کیا اور کہا کہ اسے خیرات دی جائے۔ جمن فقیر عام طور پر خیرات نہیں مانگا کرتا تھا لیکن جانے کیا وجہ تھی کہ اس روز اس نے اپنی روایت توڑ دی۔ بھٹو صاحب نے فوراً ہی جیب سے سو روپے نکال کر ان کی طرف بھجوائے۔ یہ دیکھ کر جمن فقیر اپنے مخصوص انداز میں مسکرایا اور پکار کر کہا کہ بھٹو! اگر تمھاری جگہ میں ہوتا تو سوچو، کیا میں بھی ایسا ہی کرتا؟ بھٹو صاحب طنز کی تہہ تک پہنچ گئے اور پانچ سو روپے کا نوٹ اس کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہا ‘جمن فقیر میرے لیے دعا کرنا۔‘جمن فقیر نے بھٹو صاحب کی یہ درخواست سنی اور اپنے گدھے کا رخ بدل کر انھیں ایک بار پھر مخاطب کیا: ’یہ بادشاہی تمھارے لیے کافی نہیں ہے تو چلو آؤ، میرے ساتھ مل کر خیرات اکٹھی کرو۔‘گل محمد گاڈ کے مطابق جمن فقیر تو یہ کہہ کر اپنے گدھے کو ٹخٹخاتا ہوا المرتضیٰ سے باہر نکل گیا لیکن بھٹو صاحب کے چہرے پر کسی خیال کی گہری لکیریں چھوڑ گیا جو بعد میں ایک سنجیدہ مسکراہٹ میں بدل گئیں۔ذوالفقار بھٹو کے معاملے میں سیاسی معاملات میں ستارہ شناسوں سے مدد لینے کا ایک ہی واقعہ سامنے آتا ہے۔ مولانا کوثر نیازی نے اپنی کتاب ‘۔۔۔اور لائن کٹ گئی’ میں لکھا ہے کہ سنہ 1977 میں انتخابات کا اعلان کرنے کے بعد وہ سری لنکا کے دورے پر پہنچے۔ سری لنکا کے نجومیوں اور ستارہ شناسوں کی شہرت عالم گیر تھی

، ان کی خواہش پر ملک کے چند تجربہ کار اور اچھی شہرت رکھنے والے ستارہ شناسوں سے ان کی ملاقات کرائی گئی۔ بھٹو صاحب جاننا چاہتے تھے کہ انھوں نے انتخابات کے لیے جس تاریخ کا اعلان کیا ہے، وہ ان کے لیے فائدہ مند ہو گی یا نہیں؟ ان لوگوں نے بھٹو صاحب کو یہ جواب دے کر اداس کر دیا کہ تاریخ کا اعلان تو وہ کر چکے ہیں، اب وہ ان سے کیا جاننا چاہتے ہیں؟ستارہ شناسوں اور مستقبل کے بارے میں پیشین گوئیاں کرنے والوں سے ان کی دل چسپی کا یہی ایک واقعہ ریکارڈ پر ہے۔بھٹو صاحب کی سزا پر عملدرآمد کے وقت کے بارے میں صحافی طاہر خلیل نے اپنی یادوں کو ٹٹولتے ہوئے بتایا کہ ‘مجھے یاد ہے، بھٹو صاحب سے آخری ملاقات ان کی پہلی اہلیہ شیریں امیر بیگم نے کی تھی۔ اُن دنوں وہ راول پنڈی کے راول ہوٹل میں ٹھہریں، اپنے اس قیام کے دوران وہ چک لالہ میں کسی بزرگ کے پاس دعا کے لیے جایا کرتی تھیں۔‘ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں ان کی صاحبزادی اور ان کی سیاسی جانشین بے نظیر بھٹو کا معاملہ مختلف تھا۔ ایک انڈین صحافی کے آر این سوامی نے اخبار ‘دی ٹریبیون’ میں شائع ہونے والے فیچر میں لکھا تھا کہ ’سنہ 1980 (یعنی اپنے والد کی سزا کے ایک برس بعد) بے نظیر بھٹو بنگلہ دیش کے دورے پر پہنچیں جہاں انھوں نے ایک معروف پیر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انھوں نے پیر صاحب سے دریافت کیا کہ ان کے والد کے

مجرم کب تک اپنے انجام کو پہنچیں گے؟ یہ سوال سن کر پیر صاحب نے کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کر لیں پھر کہا ’جب آم ہوا میں اڑیں گے۔‘ بے نظیر بھٹو نے اس علامتی جملے کی وضاحت چاہی تو پیر صاحب نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔‘بے نظیر بھٹو سنہ 1988 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد جب وزیر اعظم منتخب ہوگئیں تو انھوں نے اپنی اولین فرصت میں دو اکتوبر 1989ء کو بنگلہ دیش کا دورہ کیا۔ اس دورے میں حافظ طاہر خلیل بھی صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس موقع پر وہ ملاقات کے لیے خصوصی طور پر اُن پیر صاحب کے ہاں پہنچیں۔پیر صاحب سے ملاقات کی تفصیلات تو دستیاب نہیں ہیں لین حافظ طاہر خلیل بتاتے ہیں کہ پیر صاحب سے ملاقات کے پروگرام کا چرچا ہوا تو اس موقع پر ‘اڑتے ہوئے آموں’ والے جملے کی گونج بھی سنی گئی۔یہ پیر صاحب کون تھے اور ان کی شہرت کیسی تھی، بنگلہ دیش کے ایک اخبار روزنامہ ’گون ودھیکار’ نے اس کی تفصیلات شائع کی ہیں۔ اخبار کے مطابق اُن پیر صاحب کا نام مجیب الرحمٰن چشتی تھا جن کی جوئے پورہاٹ میں درگاہ تھی۔ اخبار نے لکھا ہے ’پیر مجیب الرحمٰن چشتی کے بارے میں معروف تھا کہ وہ لوگوں کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں کیا کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے فوجی جرنیل اور حکمراں جنرل حسین محمد ارشاد اور جنرل ضیاالرحمٰن بھی ان کے ہاں جایا کرتے تھے۔ پیر صاحب کی کرامات دور دور تک معروف تھیں،

بعض لوگوں کے نزدیک یہ محض پروپیگنڈہ تھا، ایسے لوگوں کے نزدیک پیر صاحب کی شہرت بھی اچھی نہ تھی اور وہ ان سے خوف بھی کھایا کرتے تھے۔‘روحانی شخصیات سے مدد لینے کے لیے ان کے ہاں جانے کے علاوہ مختلف مزاروں پر بے نظیر کی حاضری کے واقعات بہت معروف ہیں۔ .انڈیا کے این ڈٰی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے 2003ء میں اجمیر شریف کی درگاہ پر حاضری دی تھی، اس دورے کا بظاہر مقصد یہ تھا کہ ان کے اسیر شوہر کی جلد رہائی ممکن ہو جائے۔ این ڈٰی ٹی وی کے مطابق آصف علی زرداری جب رہا ہوگئے تو انھوں نے اپنے شوہر کے ہمراہ شکر گزاری کے لیے اجمیر شریف کا ایک بار پھر دورہ کیا اور اس موقع پر انھوں نے وہاں تاثرات کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔پاکستان میں اولیائے کرام کی بہت سی درگاہوں پر بےنظیر بھٹو کی حاضری کی تفصیلات دستیاب ہیں جن میں لال شہباز قلندر کا مزار خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ لاہور میں ان کے ایک جلوس کا روٹ خاص طور پر اس طرح بنایا گیا تاکہ وہ بی بی پاک دامن کے مزار پر حاضری دے سکیں۔ لاہور ہی میں وہ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار پر بھی کئی بار حاضر ہوئیں۔گل محمد گاڈ بتاتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے آبائی قصبے رتو ڈیرو میں فقیر نصیر ناریجو نامی ایک پیر یا عامل کی بڑی شہرت تھی، بڑے بڑے لوگ اور بیوروکریسی کے افسر ان کے پاس آیا کرتے تھے،

شہرت تھی کہ یہ صاحب عجیب و غریب باتیں کیا کرتے ہیں اور لوگوں کو ان کی زندگی کے بارے میں اہم اور غیر معمولی باتیں بتایا کرتے ہیں، ان کی شہرت کا سن کر بےنظیر بھٹو ایک بار ان کی درگاہ پر خود گئیں اور اس کے بعد انھیں اپنے گھر بلا کر ان سے مشورے کرنے لگیں۔انجم نیاز کے مطابق بے نظیر بھٹو اسلام آباد کے ایک نواحی علاقے چک شہزاد میں ملتانی بابا کے نام سے معروف پیر سے ملاقات کے لیے بھی جایا کرتی تھیں اور ان کے سامنے زمین پر بیٹھا کرتی تھیں۔سینئر صحافی اسلم خان پیر اِبرا کے نام سے معروف ایک پیر کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ کالم نگار اثر چوہان نے لکھا ہے کہ پیر اِبرا دراصل نواب جہانگیرابراہیم نامی ایک صاحب حیثیت بزرگ تھے جن سے بے نظیر بھٹو ہر اہم معاملے میں مشورہ کیا کرتی تھیں۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کی حیثیت سے جب وہ پہلی بار امریکہ گئیں تو پیر اِبرا بھی سرکاری وفد کا حصہ تھے جنھیں وفاقی وزیر کے برابر پروٹوکول دیا گیا۔ اس دورے میں وزیر اعظم کے وفد کے ارکان کی تعداد 29 رکھی گئی تھی، وفد کی تعداد کا مشورہ بھی انھیں پیر اِبرا نے دیا تھا۔انجم نیاز نے لکھا ہے کہ اس دورے میں ایک عیجب و غریب حلیے کا شخص دیکھ کر سنسنی سی پیدا ہوگئی جس پر نجم سیٹھی اور بعض دیگر باخبر صحافیوں نے یہ کہہ کر معاملہ ٹھنڈا کیا کہ یہ صاحب ’سرکاری پیر‘ ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی )

Comments are closed.