بیگم نصرت اور پنکی بی بی سے بھٹو مرحوم کی آخری ملاقات کا احوال آپ کی آنکھیں نم کر ڈالے گا

لاہور (یب ڈیسک) برطانیہ میں مقیم نامور پاکستانی مضمون نگار ہارون نعیم مرزا اپنے ایک خصوصی آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اپیل خارج ہونے کے فوری بعد ذوالفقار علی بھٹو سے بی کلاس کی سہولت واپس لے لی گئی ان کے سیل سے کرسی ‘ میز ‘ اور پلنگ وغیرہ اٹھا لیے گئے وہ دس یوم تک فرش پر

سوتے رہے نگرانی پر مامور مجید احمد قریشی سے انہوں نے یہ سوال کیا کہ کیا پنکی اور نصرت بھٹو سے یہ ان کی آخری ملاقات کرائی جا رہی ہے تو مجید احمد قریشی نے انہیں بتایا کہ جی ہا ں چیئرمین صاحب آ پ کے ڈیتھ وارنٹ جاری ہو چکے ہیں یہ آ پ کی آخری ملاقات ہے آپ کے وکلا نے آپ کی سختی سے کی جانے والی ہدایت کے باوجود صدر ضیا الحق سے رحم کی اپیل کر دی مگر انہوں نے بھی اس رحم کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے صبح آپ کو تختہ دار پر چڑھا دیا جائے گا یہ فقرے ادا کرنے کی دیر تھی کہ پنکی اور بیگم نصرت بھٹو نے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا انکے رونے کی آواز سے پورا قید خانہ گونج اٹھی اس وقت ڈسٹرکٹ قید خانہ راولپنڈی میں تقریبا 80موت کے قیدیوں سمیت 12سو قیدی اور حوالاتی موجود تھے ماں بیٹی کے رونے کے اس منظر کو دیکھ کر موقع پر موجود عبد الرحمان مشقتی ‘ مجید احمد قریشی اور دیگر عملہ بھی اس رونے میں شامل ہو گیا ان کے بھی آنسو نکل آئے حتی کہ پورے قید خانے کے ملازمین کے علاوہ حوالاتی ‘ قیدی بھی اونچی آواز میں رونا شروع ہو گئے جیل میں موجود قیدیوں کو یہ علم ہو گیا تھا کہ وہاں لایا جانے والا مہمان جو اس ملک کا منتخب وزیر اعظم ہے کی آخری ملاقات کرائی جا رہی ہے یہ منظر اس قدر دردناک اور کربناک تھا کہ قید خانے کے درو دیوار بھی روتے ہوئے محسوس ہونے لگی کافی دیر تک رونے دھونے کا یہ سلسلہ جاری رہا

ذو الفقار علی بھٹو بھی اس منظر کو برداشت نہ کر سکے اور قید خانے کی دیواروں سے اپنا سر پٹخنے لگے محترمہ بینظیر بھٹو مجید احمد قریشی کی منت سماجت کرنے لگیں ان کے سامنے انہوں نے ہاتھ باندھ دیے کہ خدا کے واسطے آج ان کی حوالات کے لوہے کا جنگلا کھول دو انہیں پایا کو سینے سے لگا لینے دو مگر یہ وہاں کے قوانین کے خلاف تھا محترمہ بینظیر بھٹو اپنے والد کا ہاتھ جو انہو ں نے جنگلے سے باہر پیار دینے کے لیے نکالا تھا کو پکڑ کر چومتی رہیں جب کہ بیگم نصرت بھٹو بار بار بے ہوش ہو جاتیں جنہیں پانی پلا کر ہوش میں لایا جاتا ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی اس آخری ملاقات کے دوران ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے ماں بیٹی کی آہ زاری سے زمین اور آسمان پھٹ جائے گا حکام کو سختی سے اس امر کی ہدایت تھی کہ وہ احکامات کی خلاف ورزی ہرگز نہ کریں وگرنہ انہیں بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ملاقات کا وقت ختم ہوتے ہی مجید احمد قریشی نے انہیں کہا کہ محترمہ اب آ پ کی ملاقات کا وقت ختم ہو گیا ہے اور انہیں ایک منٹ بھی زائد نہیں دیا جا سکتا لہذا زبردستی کیے بغیر وہ خود ہی قید خانے سے باہر نکل جائیں باپ ‘ بیٹی اور اہلیہ کی جدائی کا وقت دیدنی تھا محترمہ بینظیر بھٹو ‘ بیگم نصرت بھٹو ‘ کو زبردستی پکڑ کر حکام نے مرکزی دروازے کی طرف لے جانا شروع کیا تو وہ دونوں ماں بیٹی پیچھے مڑ مڑ کر دیکھ رہی تھیں

ان کے قدم ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے انہیں گھسیٹ کر مرکزی دروازے تک پہنچایا گیا تو اچانک محترمہ بینظیر بھٹو حکام سے اپنا ہاتھ چھڑا کر ان کے حصار کو توڑتی اور بھاگتی ہوئی ذو الفقار علی بھٹو کے سیل تک پھر پہنچ گئیں اور دیوانہ وار لوہے کے جنگلے کو چومنے لگیں حکام ان کے پیچھے بھاگے اور محترمہ بینظیر کو دوبارہ پکڑ لیا تو انہوں نے مضبوطی سے لوہے کے جنگلے کو پکڑ لیا ذو الفقار علی بھٹو اس موقع پر انتہائی غصے میں یہ کہتے رہے کہ خبردار کسی نے پنکی کو ہاتھ لگایا اگر یہ ان کی آخری ملاقات ہے تو یہ ادھوری ملاقات کیوں ہے جب تک ان کی بیٹی اور اہلیہ خود وہاں سے باہر نہیں جاتیں انہیں ہرگز وہاں سے باہر نہ نکالا جائے مگر ان کے احکامات اور مطالبات بالکل بے معنی تھے ان کی کوئی اہمیت نہ تھی اور ماں بیٹی کو زبردستی قید خانے سے باہر نکال دیا گیا قید خانے کے باہر کھڑے ان کے محافظوں نے انہیں گاڑی میں بٹھایا جو گھر واپس جاتے ہوئے ماں بیٹی گاڑی میں ہی بے ہوش ہو گئیں اور انہیں دوبارہ واپڈا ریسٹ ہائوس سہالہ میں نظر بند کر دیا گیا وہاں موجود قیدی ساری رات سو نہ سکے اور مختلف بیرکوں سے کبھی رونے کبھی درود شریف اور کبھی نعتوں کی آواز آتی رہی اس رات زبردست بارش ہوئی اور قید خانے میں جگہ جگہ پانی کھڑا ہو گیا سزا سے قبل ذو الفقار علی بھٹو کے گلے کی پیمائش کی گئی

ڈاکٹر نے ان کا طبی معائنہ اور رپورٹس مرتب کیں اس رات ذو الفقار علی بھٹو نے دس روز سے بڑھی ہوئی داڑھی کی شیو کی نہا دھو کر کریم کلر کی شلوار پہنی اور سونے کی بجائے کوٹھڑی میں بیٹھ کر نوٹس لکھتے رہے رات گیارہ بجے مجید احمد قریشی نے موت کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولاتو ذو الفقار علی بھٹو انتہائی غمزدہ اور غصے میں دکھائی دے رہے تھے اچانک کھل کھلا کر ہنس دیے اور کہا میں نہیں کہتا تھا کہ مجھے یہ سزا نہیں دے سکتے تم میرے لیے کوئی خوشخبری لائے ہوں نا مگر مجید احمد قریشی نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہاکہ نہیں چیئرمین صاحب آپ کے لیے کوئی خوشخبری نہیں لگتا ہے اس عارضی دنیا میں آپ کا وقت ختم ہو چکا ہے آپ اٹھیں سزا پانے کے لیے تیار ہو جائیں آپ نے 4اپریل 1979کا سورج نہیں دیکھنا بھٹو کو وارننگ اور تیاری کا حکم دینے کے بعد وہ انہیں سزا دینے کے انتظامات مکمل کرنے کے لیے چلے گئے اسلامی دنیا کے لیڈر منتخب وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو کو سزا دینے کے لیے تارا مسیح کو بلایا گیا تھا جو اس امر سے بالکل بے خبر تھا کہ آج اس نے ملک کے معزول وزیر اعظم کو سزا دینی ہے اپنے کمرے میں نیند پوری کر رہا تھا اسے یہ جاننے کی بھی کوئی غرض نہ تھی کہ اس کے ہاتھوں سے کس بندے کی جان جائے گی اس رات قید خانے میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات کر لیے گئے تھے

قید خانے کی درو دیوار پر طیارہ شکن ہتھیار نصب کر دی گئیں رات ایک بجے کے قریب جب قید خانے کا عملہ انہیں گھاٹ پر لے جانے کے لیے ان کے سیل کے قریب پہنچا تو ذو الفقار علی بھٹو نے بھاری تعداد میں لکھے جانے والے نوٹس کو جلا دیا جلانے کے لیے ماچس کی ڈبی ان کے مشقتی عبد الرحمان نے انہیں دی ذوالفقار علی بھٹو نے سزا پر عملد رآمد سے قبل اپنی نہایت قیمتی رولیکس گھڑی جو انہیں شاہ فیصل نے اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد پر تحفہ میں دی تھی اور یہ گھڑی شاہ فیصل نے اپنی کلائی سے اتار کر انہیں گفٹ کی تھی کو اپنے مشقتی عبد الرحمان کو دے دی۔ گھاٹ پر وہ خود چل کر موت کے کنویں کے اوپر مخصوص دائرے پر کھڑے ہو گئے مجید احمد قریشی نے ذو الفقار علی بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین صاحب پھندے کو چوم کر گلے میں ڈال لیں اور موت کو خود سینے سے لگا لیں خلاف معمول انہیں کریم کلر کی شلوار قمیض بھی نہ اتارنے دی گئی ایسا لگتا تھا جیسے اس وقت کے حکمرانوں کو انہیں سزا دینے کی جلدی ہے اور جلد از جلد وہ دنیا کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے بے چین ہیں ذو الفقار علی بھٹو کے گلے میں پھندا ڈال دیا گیا گلے میں یہ پھندا ڈالنے سے قبل ان کے چہرے پر کالے رنگ کا نقاب ڈال دیا گیا تارا مسیح کو گھاٹ پر پہنچنے کے بعد یہ علم ہوا تھا کہ آج اس کے

ہاتھوں ذو الفقار علی بھٹو کو سزا دی جانی ہے تختہ دار پر کھڑا ہونے کے بعد ان کے دونوں پائوں کو رسی کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا گیا اس موقع پر ذو الفقارعلی بھٹو نے جو آخری فقرے کہے تھے وہ یہ تھے کہ ان کے چہرے سے کالا نقاب ہٹا دیا جائے مگر ایسا ممکن نہ تھا گھاٹ پر ذو الفقار علی بھٹو کی نظر قریب پڑے تابوت اور کفن پر پڑی تو انہیں یہ یقین ہو گیا تھا کہ اب ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں اور جو کچھ ان کے ساتھ کیا جا رہا ہے وہ حقیقت ہے اس وقت کے وہاں کے قوانین کے برعکس ذو الفقار علی بھٹو کو رات دو بجے تختہ دار پر چھا دیا گیا سزا کے عمل کے موقع پر ڈاکٹر محمد اصغر‘ آئی جی قید خانہ جات چوہدری نذیر احمد اختر ‘ سپرٹینڈنٹ چوہدری یار محمد دویانہ ‘ خواجہ غلام رسول ڈپٹی سپرٹینڈنٹ ‘ مجید احمد قریشی کاظم بلوچ‘ چوہدری عارف ‘ ہیڈ وارڈن‘ اور آرمی کی طرف سے کرنل رفیع بھی موجود تھے ذو الفقار علی بھٹو کا جسم تین منٹ تک گھاٹ میں پھڑکتا رہا اور جلد ہی ان کی روح پرواز کر گئی مگر قوانین کے مطابق نصف گھنٹے تک ان کا جسم رسے سے جھولتا رہا نصف گھنٹے بعد ڈاکٹر محمد اصغر کنویں میں اترے اور ان کی نبض چیک کرنے کے بعد موت کی تصدیق کا فارم پر کرنے کے بعد چلے گئے حکام نے انہیں قید خانے میں ہی غسل دینے کا اہتمام کر رکھا تھا

ان کی میت کو حافظ محمد حیات نے غسل دیا اور کفن پہنا کر تابوت میں رکھ دیا فوجی حکام تابوت لیکر چکلالہ ائیر بیس روانہ ہو گئے نیلا دھاری دار سوٹ پہن کر 323دن قبل قید خانے کے مرکزی دروازے سے داخل ہو کر آنے والا مہمان سفید کفن پہنے ویہاں سے رخصت ہو چکا تھا ان کی 323دن مسلسل نگرانی کرنیوالے اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ مجید احمد قریشی بھٹو کا سامان جس میں انکی شادی کی انگوٹھی ‘ گلے میں ڈالی ہوئی تسبیح ‘ قران پاک ‘ جائے نماز‘ کراکری ‘ شلوار قمیض ‘ اور پشاوری چپل لیکر واپڈا ریسٹ ہائوس سہالہ پہنچے تو پہلے سے نظر بند بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو نے ان کے ہاتھ میں بھٹو کا سامان دیکھ کر اونچی آواز سے رونا شروع کر دیا بینظیر بھٹو نے مجید قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاپا کو رخصت کر کے آ گئے ہو کیا میرے پاپا نے حوصلہ کے ساتھ تختہ دار کو چوما رو رو کر دونوں ماں بیٹی کی ہچکیاں بندھ گئیں بینظیر بھٹو اپنے پاپا کی نشانیاں دیکھ کر انہیں دیوانہ وار چومتی اور روتی رہیں دونوں ماں بیٹی دو گھنٹے تک ان سے بھٹو کے آخری لمحات کے بارے میں پوچھتی رہیں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ذو الفقار علی بھٹو نے سزا پر عملدرآمد کی رات مجید احمد قریشی کو اپنا ایک خوبصورت رومال جو انہیں ان کی پہلی بیگم امیر بیگم نے دیا تھا اور جس پر خوبصورتی کے ساتھ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کڑھائی کرتے ہوئے لفظ بی کنندہ کیا ہوا تھا دیا جو ابھی بھی ان کے پاس محفوظ ہے ۔ (ش س م)

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *